11/April/2026

اسلام آباد میں ایران-امریکہ بالواسطہ مذاکرات کا آغاز، ایرانی وفد کی اعلیٰ سطح پر آمد

👁️ 369 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد میں ایران-امریکہ بالواسطہ مذاکرات کا آغاز، ایرانی وفد کی اعلیٰ سطح پر آمد

اسلام آباد میں ایران-امریکہ بالواسطہ مذاکرات کا آغاز، ایرانی وفد کی اعلیٰ سطح پر آمد

اسلام آباد (ڈیلی اردو رپورٹ) پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے لیے ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ 

 

مقامی میڈیا کے مطابق وفد کی آمد پر نور خان ایئر بیس پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے اور اعلیٰ حکومتی شخصیات نے ان کا استقبال کیا۔

 

وزارتِ خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی بھی وفد کا حصہ ہیں۔

 

اسلام آباد پہنچنے پر نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن رضا نقوی بھی موجود تھے۔

 

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں آگے بڑھیں گے اور پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا۔

 

اسلام آباد آمد کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پہلے بھی نیک نیتی کے باوجود ایران کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

 

انہوں نے کہا کہ ایران امن چاہتا ہے لیکن امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر واشنگٹن حقیقی معاہدہ چاہتا ہے اور ایران کے جائز حقوق تسلیم کرتا ہے تو تہران بھی معاہدے کے لیے تیار ہے، تاہم اگر مذاکرات کو محض دکھاوا بنایا گیا تو ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

 

قالیباف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران فیصلہ کن دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

 

وفد میں شامل وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں، جبکہ عبدالناصر ہمتی کے مطابق ایران کی شرط میں مغربی پابندیوں کا مکمل خاتمہ بھی شامل ہے۔

 

رپورٹس کے مطابق ایران کی معیشت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی اور صنعتی نقصانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

 

پاکستان گذشتہ چند ہفتوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں، جبکہ امریکی قیادت بھی اسلام آباد کے کردار کو اہم قرار دے رہی ہے۔

 

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ بات چیت خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔

 

رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان اس سے قبل ہونے والے مذاکرات جنگ سے چند دن پہلے تک جاری رہے تھے، تاہم بعد ازاں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔

 

امریکہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق مشیر جیرڈ کشنر بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہیں۔

 

اسی دوران خطے میں دیگر محاذوں پر بھی کشیدگی جاری ہے، جبکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری تنازع نے مجموعی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

 

اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں امن یا مزید کشیدگی کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم فریقین کے سخت مؤقف اور باہمی عدم اعتماد کے باعث مذاکرات کے نتائج غیر یقینی قرار دیے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C