24/July/2025

اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ معطل کر دیا

👁️ 448 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ معطل کر دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ معطل کر دیا

اسلام آباد (ڈیلی اردو ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمات سے متعلق کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔

 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جمعرات کی دوپہر یہ فیصلہ کمیشن تشکیل دیے جانے کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ انٹرا کورٹ اپیلوں پر دیا ہے۔

 

یاد رہے کہ 15 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ 30 روز کے اندر توہین مذہب سے متعلق مقدمات کے حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دے۔ اس کمیشن کے ارکان کو چار ماہ کے عرصے میں اس بات کا تعین کرنا تھا کہ پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال تو نہیں ہو رہا۔

 

کمیشن تشکیل دیے جانے کے خلاف دائر کردہ انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت جمعرات کی صبح ہوئی جس کے بعد دو رُکنی بینچ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا، جو اب سُنایا گیا ہے۔

 

سماعت کے آغاز پر درخواست گزار راؤ عبد الرحیم کے وکیل کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس خادم حسین سومرو نے اُن سے استفسار کیا کہ ’اس فیصلے سے آپ کیسے متاثر ہوئے ہیں؟‘

کامران مرتضیٰ نے موقف اختیار کیا کہ اس کیس میں اُن کے موکل کو مکمل حقِ سماعت نہیں دیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مجموعی طور توہین مذہب کے 400 کے قریب کیسز ہیں جن میں سے کچھ کیسز اس عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

 

کامران مرتصیٰ نے سوال کیا کہ کیا ’ایسی صورتحال میں کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے؟‘ انھوں نے مزید کہا کہ کمیشن کی تشکیل کا اختیار صرف وفاقی حکومت کا ہے۔

 

انھوں نے کہا جسٹس سردار اعجاز إسحاق کی عدالت میں یہ کیس پہلے نمٹا دیا گیا تھا مگر پھر تحریری فیصلہ آیا کہ کیس زیر التوا رہے گا۔ اس پر جسٹس اعظم خان نے استفسار کیا کہ ’فائنل آرڈر کے بعد کیا کیس زیر التوا رکھ سکتے ہیں؟‘ جس پر وکلا کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔

 

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین مذہب کے مقدمات سے متعلق معاملات کو ایسے وقت میں دیکھا جا رہا ہے جب پاکستان میں اس نوعیت کے مقدمات کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

 

ہائیکورٹ کی جانب سے کمیشن تشکیل دیے جانے سے متعلق فیصلہ توہین مذہب کے مقدمات میں جیلوں میں قید کم از کم 101 افراد کے خاندانوں کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ ایک درخواست کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس درخواست میں ان افراد نے ایک ایسے گروہ کے خلاف تحقیقات کی استدعا کی تھی جو اُن کے مطابق ’جھوٹے مقدمات‘ بنانے میں ملوث ہے۔

اپریل 2024 میں پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ نے ایک ’خصوصی رپورٹ‘ میں دعویٰ کیا تھا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ’کچھ افراد پر مشتمل ایک گروہ متحرک ہے جو کہ نوجوانوں کو توہینِ مذہب کے جھوٹے الزامات میں پھنسا رہا ہے اور ان کے خلاف مقدمات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھیج رہا ہے۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C