20/June/2026

افغان طالبان کا پاکستان میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ، اسلام آباد کی تردید

👁️ 197 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغان طالبان کا پاکستان میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ، اسلام آباد کی تردید

افغان طالبان کا پاکستان میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ، اسلام آباد کی تردید

کابل/اسلام آباد (ڈیلی اردو) افغان طالبان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فضائیہ نے جمعرات کی شب پاکستان کے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مبینہ طور پر داعش خراسان (داعش) کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا۔ تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

 

افغان وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کارروائی ان مقامات پر کی گئی جو مبینہ طور پر افغانستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال ہوتے رہے تھے۔ وزارت کے مطابق نشانہ بنائے گئے علاقوں میں بلوچستان کے اضلاع قلعہ عبداللہ اور چاغی کے متعدد مقامات جبکہ خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی کے علاقے قمبرخیل میں داعش خراسان کی ایک مبینہ تنصیب شامل تھی۔

 

طالبان حکومت نے حملوں کی نوعیت، استعمال ہونے والے ہتھیاروں یا ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم بیان میں کہا گیا کہ افغانستان اپنی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گا۔

 

دوسری جانب پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک فیکٹ چیک بیان میں افغان طالبان کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی مبینہ دہشت گرد ٹھکانے پر افغان حملہ نہیں ہوا۔

 

وزارت کے مطابق طالبان حکومت کا ایک سادہ نوعیت کا ڈرون خیبر کے علاقے شنکو کے قریب پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا، جسے پاکستان فضائیہ کے ایئر ڈیفنس نظام نے بروقت شناخت کرکے تباہ کر دیا۔ حکام نے تباہ کیے گئے ڈرون کی تصویر بھی جاری کی، تاہم کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان کے پاس اس وقت جنگی طیارے موجود نہیں، تاہم اس کے زیر استعمال محدود تعداد میں فوجی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون موجود ہیں۔ ماضی میں افغان طالبان سرحدی جھڑپوں کے دوران ڈرون استعمال کر چکے ہیں۔

 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ چند ماہ سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ اسلام آباد مسلسل کابل پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں حملوں میں ملوث عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دیتا ہے، جبکہ افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ پاکستان میں عسکریت پسندی ایک داخلی مسئلہ ہے۔

 

گزشتہ ہفتے پاکستان نے افغانستان کے بعض سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائیاں کی تھیں۔ افغان طالبان کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 11 بچے شامل تھے، جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے تھے۔

 

پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ یہ "ہدف بنا کر کی گئی محدود اور درست کارروائیاں" تھیں، جن میں 26 عسکریت پسند مارے گئے، اور یہ کارروائیاں پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں ہونے والے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی تھیں۔

 

تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی برقرار ہے، جبکہ ایک دوسرے پر عائد الزامات نے دوطرفہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C