افغانستان دہشت گردوں کا اسلحہ گودام بن گیا، عالمی برادری فوری ایکشن لے، پاکستان
👁️ 363 بار دیکھا گیا
افغانستان دہشت گردوں کا اسلحہ گودام بن گیا، عالمی برادری فوری ایکشن لے، پاکستان
نیو یارک (ڈیلی اردو) پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کو ہتھیاروں کی غیر قانونی فراہمی روکنے کے لیے مؤثر عالمی کارروائی کرے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغان طالبان اس حوالے سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پابندی کریں۔
ڈان اخبار کے مطابق ان تنظیموں میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی زد میں آنے والی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ شامل ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ضبط کیے جانے والے ہتھیاروں کا سراغ ان ذخائر سے ملتا ہے، جو غیر ملکی افواج کے افغانستان چھوڑنے کے بعد وہاں رہ گئے تھے، یا ان غیر قانونی ہتھیاروں سے جو افغانستان کی ’بلیک مارکیٹ‘ میں فروخت ہو رہے ہیں۔
سفیر عاصم افتخار احمد چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کے موضوع پر ہونے والے مباحثے میں گفتگو کر رہے تھے، جس کی صدارت سیرا لیون نے بطور سلامتی کونسل کے نومبر کے لیے موجودہ صدر کے طور پر کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں موجود جدید اور مہلک ہتھیاروں کے ذخائر سے سخت تشویش میں مبتلا ہے، کیونکہ یہ ہمساہہ ممالک کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
پاکستانی نمائندے نے کہا کہ بین الاقوامی سرحد کے پار غیر رجسٹرڈ یا بغیر نشان والے ہتھیاروں کی نقل و حرکت غیر ریاستی مسلح گروہوں، دہشت گرد نیٹ ورکس اور مجرمانہ گروہوں کو سہارا فراہم کرتی ہے، جو خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں قائم دہشت گرد گروہ ان چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں کے استعمال سے پاکستان اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم داعش (آئی ایس آئی ایل-کے)، ٹی ٹی پی (تحریکِ طالبان پاکستان) فتنہ الخوارج، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ جیسی دہشت گرد تنظیمیں، جو افغانستان سے بلا خوف و خطر کارروائیاں کر رہی ہیں، بیرونی مالی امداد اور ایک بنیادی غیر مستحکم قوت کی مدد سے ان ہتھیاروں کا استعمال پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
سفیر عاصم احمد نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اپنی کوششیں تیز کرنی چاہئیں اور اپنے ردعمل میں موجود خامیوں کو دور کرنا چاہیے، تاکہ عالمی اور علاقائی امن و سلامتی کو لاحق ان خطرات سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کی غیر قانونی منتقلی اور ان کا بے قابو استعمال براہِ راست تنازعات کو طویل اور شدید بناتا ہے، سماجی و اقتصادی ترقی میں رکاوٹ ڈالتا ہے اور خصوصاً علاقائی سطح پرامن و استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار ’چھوٹے ہیں نہ ہلکے‘ کیونکہ یہ ترقی کے امکانات کو محدود کرتے ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں استعمال ہوتے ہیں اور امن و استحکام کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ نئی ٹیکنالوجیز نے غیر قانونی اسلحہ سازی اور اس کے پھیلاؤ میں نئی مشکلات پیدا کی ہیں، لیکن بین الاقوامی تعاون اور مؤثر کنٹرول کے نئے مواقع بھی فراہم کیے ہیں جن سے مکمل طور پر فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے 3D پرنٹ کیے گئے ہتھیاروں اور آن لائن ہتھیار سازی کے ڈیجیٹل خاکوں کے پھیلاؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
دنیا بھر میں ایک ارب ہتھیار زیر گردش
اس سے قبل اقوام متحدہ اور سول سوسائٹی کے سینئر رہنماؤں نے بھی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کے خونی اور غیر مستحکم بہاؤ کو روکنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کے ڈپٹی ہائی ریپریزنٹیٹو برائے تخفیفِ اسلحہ، ادیجی ایبو نے بتایا کہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد آتشیں ہتھیار گردش میں ہیں، ان کا مسلسل پھیلاؤ دنیا بھر میں جاری سلامتی کے بحرانوں کی علامت اور محرک بھی ہے ۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تازہ 2 سالہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عالمی و علاقائی سطح پر کچھ مثبت پیش رفت ہوئی ہے، لیکن بڑے چیلنجز اب بھی باقی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اسلحہ کی تجارت اور چھوٹے و ہلکے ہتھیاروں کا غلط استعمال دنیا بھر میں تشدد، دہشت گردی اور منظم جرائم کو ہوا دے رہا ہے، جیسا کہ لیبیا، یمن، ہیٹی اور دیگر ممالک میں اسلحہ پر پابندیوں کی بار بار خلاف ورزیوں سے ظاہر ہوتا ہے۔
قومی ذخائر یا ترسیل کے کسی بھی مرحلے سے ہتھیاروں کی چوری انہیں غیر ریاستی گروہوں کے ہاتھوں میں پہنچا سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غیر قانونی طور پر تیار کیے گئے ہتھیار، بشمول 3D پرنٹڈ گنز، اب کئی بلیک مارکیٹس میں دستیاب ہیں۔
ادیجی ایبو نے کہا کہ عام شہریوں کی جانب سے ہتھیاروں کی غیر قانونی خریداری اکثر کمزور حکمرانی اور ناقابلِ اعتماد سلامتی کے نظام کی علامت ہوتی ہے، ایسے حالات میں لوگ تحفظ یا خود دفاع کے لیے مسلح ہو جاتے ہیں، لیکن یہ ہتھیار اکثر انسانی المیوں کا ذریعہ بن جاتے ہیں جب ان پر مؤثر کنٹرول نہ ہو۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف 2024 میں ہی چھوٹے ہتھیاروں کے ذریعے 48 ہزار عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں، جو 2023 کے مقابلے میں 40 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
غزہ: اسرائیل کا حماس کے سکیورٹی ادارے کے اعلیٰ عہدیدار کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
21/October/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی خبر امریکی سینٹکام نے مسترد کردی
21/October/2026 👁️ 87 بار دیکھا گیا
عاصم منیر کی تہران میں اہم ملاقاتیں، ایران کا افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی اقدامات پر زور
20/October/2026 👁️ 259 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو کا ایرانی حکومت کے خاتمے پر اصرار، ٹرمپ سے متعدد بار گفتگو کا دعویٰ
20/October/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
عراق: کرکوک میں داعش کے حملوں میں اضافہ، سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کا خدشہ، ماہرین نے خبردار کردیا
20/October/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کے دفاع کے لیے برطانیہ کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان
20/October/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26388 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15625 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11920 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9275 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7534 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5489 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C