13/December/2019

اقرباء پروری ہمیں مار دے گی! (ساجد خان)

👁️ 136 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اقرباء پروری ہمیں مار دے گی!  (ساجد خان)

اقرباء پروری ہمیں مار دے گی! (ساجد خان)

ہمارے معاشرے میں اقرباء پروری کا مفہوم عموماً یہ لیا جاتا ہے کہ کوئی با اثر شخصیت اپنے کسی عزیز کو اعلیٰ عہدے سے نواز دے یا قانون سے بالاتر ہو کر اس کی طرفداری کرے۔ یہ لفظ زیادہ تر کسی سیاسی رہنما یا اعلیٰ سرکاری افسر کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن پاکستان میں اس لفظ کا مطلب نہایت وسیع ہے۔

ہمارے معاشرے میں اقرباء پروری عزیز اور رشتہ داری سے بڑھ کر گروہوں اور پیشوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

لاہور میں ہونے والا کل کا واقعہ اسی کی ایک کڑی ہے،یہ واقعہ جتنا افسوسناک ہے،اتنا ہی خوفناک ہے کہ لاہور جو کہ پنجاب کا دارالحکومت ہے وہاں وکلاء ایک جتھے کی صورت میں اہم ترین شاہراہوں سے گزرتے ہوئے ایک ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں اور جو سامنے آیا،اس کو دشمن سمجھ کر تشدد کیا گیا جیسے ہسپتال میں موجود افراد کسی دشمن ملک کے شہری تھے یا وہ ہسپتال ہندوستان یا اسرائیل کی ملکیت ہو۔یہ جتھہ اتنا پر اعتماد تھا کہ صوبائی وزیر اطلاعات کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ پولیس کی گاڑیوں تک کو جلا دیا۔

آخر ایسا کیا ہوا کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی، اس معاملے میں سوائے اس بات کے اور کوئی جواب نہیں ملتا کہ وکلاء برادری کو اپنے چند پیٹی بھائیوں کی شکست برداشت نہیں ہوئی حالانکہ اس طرح کی مار پیٹ وکلاء کی جانب سے آۓ روز دیکھنے میں آتا ہے کبھی پولیس پر تشدد تو کبھی عام شہریوں سے مار پیٹ،کبھی عدالتی عملہ سے جھگڑا تو کبھی عدالت میں جج صاحبان پر حملہ، اب کیا دوسرے فریقین نے بھی کبھی اس طرح جتھے کی صورت میں وکلاء پر جوابی حملہ کیا۔ایسا کبھی سننے میں نہیں آیا پھر قانون کے رکھوالے ہی خود کو ہر قانون سے بالاتر کیوں سمجھتے ہیں۔

مان لیا جائے کہ ہسپتال میں ڈاکٹرز کا وکلاء پر تشدد بھی غلط عمل تھا مگر صلح ہونے کے بعد دوبارہ ایسا حملہ کرنا کہاں کی انسانیت ہے۔

کل کے واقعہ کی ہر طرف سے مذمت کی جا رہی ہے سوائے وکلاء برادری کے ایک بڑے طبقے کے جو آج بھی ہنگامہ اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والے وکلاء کی کھل کر حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں،پنجاب بار کونسل کی مثال سب کے سامنے ہے اور اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ وہ ان کی اپنی برادری سے ہیں،یہ بھی اقرباء پروری کی ایک خوفناک قسم ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی جہاں وکلاء گردی کی مذمت کی جا رہی ہے وہیں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس معاملے میں شر پسند وکلاء کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں،ان کی شرپسندوں وکلاء سے نا ہی کوئی رشتہ داری ہے اور نا ہی کوئی براہ راست تعلق مگر وجہ وہی ہے کہ وہ ان کی برادری سے ہیں،اس سے قطع نظر کہ اس واقعے میں ظالم کون ہے اور مظلوم کون لیکن کیونکہ انہوں نے بھی کالا کوٹ پہنا ہوا تھا اس لئے ان کی حمایت کرنا لازم ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں تقریباً ہر دہائی کے بعد آمریت نے شب خون مارا ہے لیکن آج تک کسی آمر کو سزا نا ملنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایک ادارہ سمجھتا ہے کہ کسی آمر کو قانون توڑنے پر سزا ملنے سے ان کے ادارے کی تذلیل ہے حالانکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ آمر نے جو بھی کیا وہ ملک سے غداری کے زمرے میں آتا ہے اور ملک کے غدار کی کسی بھی قسم کی حمایت کرنا قانونی اور اخلاقی جرم ہے، اس کے باوجود حمایت کی جاتی ہے۔ یہ اقرباء پروری ہے۔

ڈاکٹرز نے جن وکلاء پر ہسپتال میں تشدد کیا اس کی وجہ بھی اقرباء پروری ہی تھی کہ ایک شخص سے جھگڑے میں پورا عملہ ملوث ہو گیا کیونکہ ان کے نزدیک جھگڑا کرنے والے ان کے اپنے تھے اور وکلاء صرف اس لئے غیر تھے کیونکہ انہوں نے سفید کوٹ کے بجائے کالا کوٹ پہنا ہوا تھا اور ہسپتال عملہ کی سمجھ کے مطابق کیونکہ ڈاکٹرز ان کے اپنے تھے اس لئے ان کا ساتھ دینا واجب تھا۔

پاکستان میں پولیس گردی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے،تھانوں میں کتنے افراد پولیس تشدد سے ہلاک ہوئے مگر کتنوں کو آج تک سزا ملی،چند دن جیل اور معطلی کے بعد وہی پولیس اہلکار دوبارہ ملازمت پر بحال ہو جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ اسے پولیس ملازم ہونے کی وجہ سے فائدہ مل جاتا ہے۔

راؤ انوار کو اس کے جرائم کی وجہ سے امریکہ بلیک لسٹ کر سکتا ہے مگر پاکستان میں وہ کھلے عام گھوم رہا ہے کیونکہ اس کا تعلق پولیس سے ہے، جس کی وجہ سے کہیں نا کہیں پولیس اس کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

سانحہ ساہیوال کے مجرمان اتنی آسانی سے بیگناہ کیسے ثابت ہو گۓ کیونکہ ان کے پیٹی بھائیوں نے انہیں بچانے کے لئے معصوم بچی کی ترپتی لاش کی بھی پرواہ نہیں کی اور نا ہی یہ خیال کیا گیا کہ وہ اہلکار تو شہریوں کی حفاظت کی تنخواہ لیتے تھے پھر شہریوں کو ہی قتل کر کے انہوں نے اپنے حلف سے انحراف کیا۔یہ بھی اقرباء پروری ہے۔

پاکستان کا ہر شہری مانتا ہے کہ ملک کی یہ حالت کرپشن کی وجہ سے ہوئی ہے،اب گزشتہ چار دہائیوں میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز نے حکومت کی ہے۔

کرپشن کے الزامات پر آصف علی زرداری کو پکڑا جائے تو ایک طبقہ احتجاج کرنے لگ جاتا ہے اور اگر نوازشریف کو پکڑا جائے تو دوسرا طبقہ چیخنے لگ جاتا ہے۔ اب اگر یہ دونوں ہی بیگناہ ہیں تو ان سب حالات کا ذمہ دار کون ہے،یہ سب جانتے ہیں کہ کرپشن کی لیکن ایک طبقے کو زرداری اپنا لگتا ہے تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ زرداری کی کرپشن کے پیسے بھی نوازشریف سے لیں اور نوازشریف کا طبقہ یہ چاہتا ہے کہ نوازشریف کو کچھ بھی نا کہا جائے کیونکہ ہر ایک نے یہ سوچ بنا رکھی ہے کہ یہ تو اپنا ہے اس لئے اسے کچھ تکلیف نہیں ہونی چاہئے خواہ وہ پورا ملک لوٹ کر سوٹزرلینڈ یا لندن لے جائے۔

یہ بھی اقرباء پروری کی ایک قسم ہے۔ آپ کسی سرکاری ادارے میں ملازمین کی جانچ پڑتال کر لیں تو ایک بڑی تعداد آپ کو ایسی ملے گی جن کے والد یا قریبی عزیز اس ادارے میں ملازمت کر چکے ہیں اور ان کے لئے بچوں کے لئے یہی میرٹ کافی سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنا تھا اور اپنے کی اولاد کا زیادہ حق ہوتا ہے حالانکہ اس جاب کے لئے کئی زیادہ قابل امیدوار ہوتے ہیں مگر ایک میٹرک پاس امیدوار اس عہدے کے قابل سمجھا جاتا ہے۔

یہ سب اقرباء پروری آپ کو ہر شعبے میں نظر آۓ گی، یہاں تک کہ دہشتگردی میں بھی اس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

لشکر جھنگوی کا امیر ملک اسحاق کا نام کون نہیں جانتا، ایک سفاک دہشتگرد جس نے سینکڑوں بیگناہ انسانوں کا قتل کیا مگر اس کے باوجود وہ آج بھی ایک طبقہ میں ہیرو مانا جانتا ہے اور اس کی وجہ کچھ اور نہیں صرف یہ ہے کہ اس نے ان افراد کا قتل کیا جو اس گروہ کے اپنے نہیں تھے اور جب وہی دہشتگرد پولیس مقابلے میں مارا گیا تو کل جو طبقہ اس کے قتل عام پر خوش ہوتا تھا وہ گریہ کرتا نظر آیا کیونکہ اس بار لاش ان کے اپنے کی گری تھی۔

ہم ہمیشہ اس بات پر بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ آخر مغرب ہم سے اتنا آگے کیوں نکل گیا، کوئی حکمرانوں کو برا بھلا کہتا ہے تو کوئی مولوی طبقہ کی شدت پسندی کو لیکن کیا صرف یہی لوگ ہماری تباہی کے ذمہ دار ہیں۔

آپ کو یاد ہو گا تقریباً دس سال پہلے برطانیہ کے شہر لندن میں خنجر سے وار کے قتل کی وارداتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے ہوئے جو دیکھتے ہی دیکھتے دنگے فسادات میں تبدیل ہوتے چلے گئے۔شہر بھر میں لوٹ مار اور املاک کا نقصان کیا جاتا رہا اور اس معاملے میں اکثریت نوجوان نسل کی تھی۔

یہ فسادات چند دن جاری رہنے کے بعد پولیس نے حالات کو بمشکل کنٹرول کیا اور اس کے بعد پکڑ دھکڑ اور ویڈیو فوٹیجز منظر عام پر آنا شروع ہوئیں تو بہت سے ملزمان اس وجہ سے پکڑے گئے کہ ان کے والدین نے ویڈیوز میں اپنے بچوں کو دنگے فسادات کرتے دیکھ کر پولیس کو خود آگاہ کیا کہ میرا بچہ بھی اس واقعے میں ملوث ہے۔اب کیا ہمارے معاشرے میں ایسی کوئی مثال مل سکتی ہے،ہو سکتا ہے کہ اکا دکا واقعات میں ایسا کچھ ہوا ہو مگر اکثریت میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ خاندان تو دور،مجرم کے پیٹی بھائی بھی اسے قانون سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہم نے ایک قوم بننے کے بجائے چھوٹے چھوٹے جتھے بنا لئے ہیں یا ملک میں چھوٹی چھوٹی سی ریاستیں کام کر رہی ہیں، جن کے اپنے قانون ہیں اور ان کے سامنے ملک کے قانون کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

آمر کی حمایت ہو یا وکلاء کا حملہ،اس میں ہماری انا پوشیدہ ہے اور اس انا کی تسکین کے لئے ہم سب جان لے بھی سکتے ہیں اور دے بھی سکتے ہیں۔

وکلاء کو اس بات کا غم تھا کہ ہمیشہ وہ ہی مارتے آۓ ہیں،پہلی بار ایسا ہوا کہ ان کو مار پڑی،جس سے ان کی انا کو ٹھیس پہنچی اور پھر انا کو تسکین پہنچانے کے لئے انہوں نے توڑ پھوڑ بھی کی،مار کٹائی بھی کی اور چھ انسان بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تب کہیں جا کر ان کے دل کو سکون ملا۔

اسی انا اور جتھوں نے ہمارے ملک کو ایک جنگل بنا دیا ہے جہاں قانون صرف ڈنڈے اور ہتھیار کا چلتا ہے۔

جو طاقتور ہے اسے جینے کا حق ہے اور سب حقوق بھی اس کے لئے ہیں اور جو کمزور ہے اسے کوئی پوچھتا بھی نہیں ہے کہ زندہ بھی ہو یا مر گئے۔ کتنے مریض مرے ہسپتال حملے میں ؟ کم از کم سات۔
ان کا کسی کو غم نہیں ہے مگر غم ہے تو اس بات کا کہ ایک وکیل کو اس ہسپتال میں کیوں مارا گیا۔

کل اگر مرنے والوں کے ورثاء میں سے کوئی ہتھیار اٹھا کر عدالت میں گھس کر وکلاء کو مار دے تو بار کونسل کا تب بھی وہی موقف ہو گا جو آج اپنی وکلاء برادری کے لئے ہے، بالکل بھی نہیں کیونکہ اس واقعہ میں ملزم غیر برادری کا ہو گا۔

اس نظام میں عام شہری کہاں جائے۔ وکیل مارے تو خاموش رہے، پولیس مارے تو خاموش رہے اور اگر ڈاکٹر مارے تب بھی خاموش ہی رہے کیونکہ عام شہریوں کا کوئی جتھہ نہیں ہوتا جس کی انا کو ٹھیس پہنچے اور وہ بدلہ لے سکے۔

ریاست جب کمزور ہوتی ہے تو جتھے طاقتور ہو جاتے ہیں،پہلے مذہبی جتھے ہوا کرتے تھے اب وکلاء اور ڈاکٹرز کے جتھے بھی اتنے ہی انتہا پسند نظر آ رہے ہیں جتنے مذہبی جنونی ہوا کرتے تھے۔
ریاست کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کیونکہ اس جتھوں کے نظام کو جتنا برداشت کریں گے یہ اتنے ہی طاقتور ہوتے جائیں گے اور ایک دن ریاست خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گی۔

ہمیں اپنی نئی نسل کی اخلاقی تربیت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جو ہم بھگت رہے ہیں وہ آنے والی نسلوں کو نا بھگتنا پڑے۔

یورپ بھی کبھی ہمارے جیسا ہی تھا،یہ بھی سچ ہے کہ دنیا میں جتنی بھی عالمی جنگیں ہوئی ہیں وہ مغرب کی مہربانیوں سے ہوئیں لیکن انہوں نے اپنی غلطیوں کو سمجھا اور ان کو سدھارا تبھی وہ ترقی یافتہ اقوام بنی ہیں۔

آخر ہم کب سمجھیں گے کہ ہم کہیں نا کہیں تو غلط ہیں،جس دن ہم نے اپنی غلطیوں کو مان لیا بس وہی دن ہماری ترقی کا آغاز ہو گا لیکن وہ دن کب آئے گا،آئے گا بھی کہ نہیں، یہ کوئی نہیں جانتا۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C