17/January/2020

امریکہ الیکشن 2020 (ساجد خان)

👁️ 94 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ الیکشن 2020    (ساجد خان)

امریکہ الیکشن 2020 (ساجد خان)

امریکہ میں اس سال 3 نومبر کو صدارتی الیکشن ہونے جا رہے ہیں جس کی تیاری ابھی سے شروع کر دی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو کہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ہیں، اس نے اپنے دوسرے دور حکومت کے لئے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چند امیدواروں نے بھی قسمت آزمائی کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ ان کی تعداد ویسے تو زیادہ ہے مگر فی الحال دو امیدوار زیادہ مضبوط نظر آ رہے ہیں جن کو ڈیموکریٹک پارٹی اپنا امیدوار نامزد کر سکتی ہے۔

اس میں ایک تو برنی سینڈرز ہیں جو کہ گزشتہ انتخابات میں بھی امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے مگر پارٹی کی طرف سے ہیلری کلنٹن کو امیدوار نامزد کئے جانے کے بعد دستبردار ہوگئے تھے جبکہ دوسرے مضبوط امیدوار جو بائڈن ہیں جو اوبامہ حکومت کے دوران نائب صدر رہ چکے ہیں اور شاید ڈونلڈ ٹرمپ اسے ہی اپنا سخت حریف کے طور پر لے رہا ہے۔

حال ہی میں جو امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک کا آغاز ہوا ہے، اس کی وجہ جوبائڈن ہی ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرائنی وزیراعظم پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ اپنے ملک میں جو بائڈن کے بیٹے کے خلاف انکوئری کا آغاز کرے تاکہ جو بائڈن کی ساکھ پر برا اثر پڑے اور اس کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرائنی وزیراعظم کو بلیک میل کرنے کے لئے امریکی امداد بھی روک دی تھی، جس کی بحالی جو بائڈن کے بیٹے کے خلاف انکوئری سے مشروط تھی لیکن اس گفتگو کی ریکارڈنگ لیک ہو گئی اور اس معاملہ پر بہت سے گواہان بھی سامنے آ گئے۔ امریکی کانگریس نے پہلے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد کو منظور کر لیا تھا اور کل یہ مقدمہ سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے جس پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی اگر ہم بات کریں تو وہ روز اول سے ہی ناقابل اعتبار، اکھڑ مزاج اور خود پسند طبیعت کا مالک نظر آیا تھا اور گزشتہ الیکشن کے دوران میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ہی سپورٹ کر رہا تھا کیونکہ میرا ماننا ہے کہ پوری دنیا مل کر بھی امریکہ کو تباہ نہیں کر سکتی، اس کو اگر تباہ کیا جا سکتا ہے تو اندر سے ہی اور اس کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ بہترین آپشن تھی اور شاید اس کام میں ڈونلڈ ٹرمپ کافی حد تک کامیاب بھی رہا۔

امریکہ کے آج چند عرب حکمرانوں کے علاوہ کوئی بھی ایسا دوست نہیں نظر آ رہا جو ماضی میں ہوا کرتے تھے یعنی کہ یورپ گو کہ یورپی ممالک آج بھی امریکہ کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں مگر اب ان میں خلوص سے زیادہ مجبوری نظر آتی ہے کیونکہ کوئی بھی یورپی ملک امریکہ کے ساتھ دشمنی کر کے اپنی معیشت تباہ نہیں کرنا چاہتا اور وہ بھی ایسے حالات میں جب ڈونلڈ ٹرمپ جیسا بیوقوف حکمران ہو۔

عرب حکمران بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ خوش نہیں ہیں کیونکہ ایک تو وہ ہر بات پر ڈالر مانگتا ہے اور دوسرا خود کو طاقتور حکمران ثابت کرنے کے لئے سرعام سعودی حکمرانوں کی تذلیل بھی کرتا نظر آتا ہے اور اس دور حکومت میں سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں طاقتور ہونے کے بجائے کمزور ہوتا رہا ہے جس کی وجہ دونوں ممالک کی باگ دوڑ اکھڑ مزاج اور مغرور افراد کے ہاتھوں میں آ گئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے تین سال تو کافی حد تک ناکام نظر آیا جس میں اس کو سخت تنقید کا سامنا رہا۔ ایسی بہت سی امریکی ریاستوں میں جہاں ریپبلکن پارٹی ہمیشہ سے مضبوط رہی تھی وہاں مقامی انتخابات میں برسر اقتدار جماعت کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اگلے الیکشن میں بری شکست کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ شاید اتنا بیوقوف بھی نہیں جتنا نظر آتا ہے۔

اس سال کا آغاز ہوتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پوزیشن مضبوط کرتا نظر آ رہا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کی سفید فام نسل پرست اکثریت نے اوبامہ کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور بارک اوبامہ کے آٹھ سالہ حکومت کے دوران یہ احساس نہایت تیزی سے پیدا ہوتا گیا کہ سفید فام اکثریت پر ایک سیاہ فام حکمرانی کر رہا ہے لہذا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ الیکشن میں حصہ لیا تو وہ نسل پرست سفید فام اکثریت کو اپنا گرویدہ بنانے میں کامیاب نظر آیا۔

اوبامہ کے خلاف جو ایک مضبوط پروپیگنڈہ کیا گیا کہ وہ دراصل چھپا مسلمان ہے اور اس نے اپنے دور حکومت میں مسلمان ممالک کو بہت فائدہ پہنچایا، اس پروپیگنڈے کا استعمال بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اچھے طریقہ سے کیا اور یوں ڈونلڈ ٹرمپ مضبوط حریف کے طور پر سامنے آیا۔

امریکی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو حیرت انگیز طور پر فتح حاصل ہوتی ہے اور اس میں کچھ شکوک و شبہات سامنے آۓ کہ الیکشن میں روس نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو ہیک کر کے ڈونلڈ ٹرمپ کو فتح یاب ہونے میں مدد فراہم کی۔

دوسری طرف ہیلری کلنٹن جو مختلف سروے میں پہلی پوزیشن پر تھی کہ اچانک ایک ہیکر گروپ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے ہیلری کلنٹن کا آئی ڈی ہیک کر لیا ہے جس میں لیبیا میں امریکی سفیر کے قتل کے بہت سے انکشافات سامنے آئے ہیں، جس پر ایف بی آئی چیف ہیلری کلنٹن کے خلاف انکوئری کا اعلان کرتا ہے اور ہیلری کلنٹن کو متعدد مرتبہ اس انکوئری کے لئے ایف بی آئی کے سامنے پیش ہونا پڑا۔
اس انکوئری کی وجہ سے ہیلری کلنٹن کو بہت زیادہ سیاسی نقصان ہوا اور انتخابات میں شکست کی اہم وجہ یہی قرار پائی، جس کا اعتراف ہیلری کلنٹن خود بھی کر چکی ہیں جبکہ ایف بی آئی کی اس حرکت پر امریکی دانشوروں نے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے انتخابی دھاندلی قرار دیا کیونکہ ایف بی آئی کو الیکشن مہم کے دوران بالکل خاموش رہنا چاہئے تھا۔

اس ہیکنگ کے بارے میں بھی خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ روس کی جانب سے تھا جس کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانا تھا اور اگر گزشتہ تین سال کے حالات و واقعات پر نظر ڈالی جائے تو روس جتنا اس عرصہ میں عالمی طور پر طاقتور ہوا ہے، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں، اس کی مثال نہیں ملتی اور روس نے اپنے اثرورسوخ میں حائل بہت سے کانٹے امریکہ کی مدد سے صاف کئے ہیں جن میں سب سے قابل ذکر شام میں ایرانی اثرورسوخ کو کم کرنا تھا جسے روس براہ راست ختم نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لئے اس مقصد کے لئے امریکہ اور اسرائیل کی مدد حاصل کی گئی۔ اب جبکہ امریکہ نئے الیکشن کی طرف گامزن ہے تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نہایت خوبصورتی کے ساتھ نئے پتے کھیل رہا ہے۔

گزشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ کی اپروول ریٹنگ خطرناک حد تک کم ہو چکی تھی اور اس کی وجہ مواخذے کی تحریک بھی تھی لہذا اسے کچھ کامیابی چاہئے تھی اور اس کے لئے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل سے بڑا ہتھیار کچھ نہیں تھا لہذا قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم بنا کانگریس کی اجازت کے دے دیا گیا اور یوں اچانک ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی ریٹنگ بڑھنا شروع ہو گئی، جس کا ذکر وہ متعدد بار اپنے پیج پر کر چکا ہے۔

اس الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس استعمال کرنے کے لئے بہت کچھ ہے جس میں سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ وہ گزشتہ صدور کی طرح کمزور نہیں ہے اور وہ دھمکی پر تاوان دینے کے بجائے میزائل کا تحفہ دیتا ہے۔

کل ہی امریکہ نے چین کے ساتھ نیا ٹریڈ معاہدہ کیا ہے گو کہ اس معاہدے میں کچھ ایسا خاص نہیں ہے جس کے لئے نیا معاہدہ کرنے کی ضرورت پیش آتی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس نے خود معاہدہ کیا۔

اس سے پہلے شمالی کوریا کے ساتھ بھی شدید گرما گرمی کے بعد دونوں سربراہان کی ملاقات ہوئی اور اس میں بھی کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہوا جس سے شمالی کوریا کو کنٹرول کیا جا سکے مگر نسل پرست افراد کو بیوقوف بنانے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اتنا مواد ہی کافی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اگلے الیکشن کے لئے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہا ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ نہایت عقلمندی کے ساتھ الیکشن مہم کو آگے لے کر جا رہا ہے لیکن اس سب کا انحصار سینیٹ میں مواخذے کے نتائج پر منحصر ہے کیونکہ اگر اپوزیشن ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا بہت برا اثر پڑ سکتا ہے لیکن اس کی کامیابی کے امکانات کم ہیں کیونکہ اس کے لئے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے جبکہ وہاں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ ریپبلکن پارٹی اپنی جماعت کے صدر کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

گزشتہ سال تک میرا تجزیہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگلا الیکشن برے طریقہ سے ہار جائے گا لیکن اب ایسا مشکل ہوتا نظر آ رہا ہے، اس کی بہت سی وجوہات ہیں اول یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حریفوں میں کوئی بھی ایسا امیدوار نہیں ہے جو واقعی میں پسندیدہ ہو یا اس میں کچھ ذاتی نمایاں خصوصیات ہوں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسی قوم کی حمایت حاصل ہے جیسے پاکستان میں متاثرین مطالعہ پاکستان ہیں۔

امریکہ کی تاریخ میں شاید ہی ایسا کوئی صدر آیا ہو گا جس نے مختصر عرصہ میں اتنے زیادہ جھوٹ بولے ہوں گے اور جھوٹ بھی ایسے کہ ایک غیر امریکی بھی ان جھوٹوں کو بےنقاب کر سکتا ہے مگر اس کے حمایتی گویا آنکھوں اور عقل پر پٹی باندھے ہوئے ہیں اور اس کی ہر صورت میں حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔

گزشتہ انتخابات کے دوران ایک کالم میں امریکی تجزیہ نگار نے لکھا کہ میں نے ایک یونیورسٹی کے پروفیسرز کے ساتھ بیٹھک کی اور دونوں جماعتوں کے حمایتی پروفیسرز کو اپنے دلائل دینے کو کہا، دونوں طرف کا الگ موقف تھا مگر ایک بات پر سب متفق نظر آۓ کہ ان انتخابات کے دوران امریکی قوم میں جتنی واضح تقسیم نظر آئی وہ پہلے کبھی بھی نہیں تھی اور ممکن ہے کہ اگلے الیکشن میں یہ تقسیم مزید واضح ہو جائے کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی گزشتہ تین سال سے نئے انتخابات کا شدت سے انتظار کر رہی ہے جبکہ ریپبلکن بھی صرف ڈونلڈ ٹرمپ کو ہی فاتح دیکھنا چاہتے ہیں۔

امریکی عوام کی اکثریت کس کو ووٹ دے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن فیصلہ اس بار بھی روس کی مداخلت ہی کرے گی کیونکہ گزشتہ چند ہفتوں سے عالمی میڈیا پر ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ روس ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کی تیاریاں کرتا نظر آ رہا ہے لیکن ایک بات جو خطرناک نظر آ رہی ہے کہ دوسری مرتبہ منتخب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کی طرح خطرناک ہو جائے گا اور وہ ایسے بہت سے دلیرانہ فیصلے کرے گا جو وہ پہلی مدت میں کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کر رہا تھا اور یہ بات دنیا بھر کے لئے خصوصاً مسلمان ممالک کے لئے نہایت خوفناک ہے۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C