29/March/2026

امریکہ ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری میں مصروف

👁️ 117 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری میں مصروف

امریکہ ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری میں مصروف

واشنگٹن (ش ح ط) امریکہ ایران میں زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق امریکہ نے ایران کے ساحلی علاقوں بشمول خارگ جزیرہ پر ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری شروع کر دی ہے۔

 

امریکی میڈیا کے مطابق ایران میں محدود زمینی کارروائی خصوصی دستے اور روایتی فوجی انجام دیں گے۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں پر محیط زمینی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق پینٹاگون ایران میں متعدد ہفتوں کی زمینی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم امریکی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا صدر ٹرمپ اس منصوبے کی منظوری دیں گے یا نہیں۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ منصوبے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ کارروائیاں مکمل حملہ نہیں ہوں گی بلکہ سپیشل آپریشنز فورسز اور روایتی پیادہ فورسز کے ذریعے چھاپہ مار کارروائیاں ہوں گی۔

 

اطلاعات کے مطابق خلیج کی طرف جانے والے امریکی بحری جہازوں پر چار ہزار سے زیادہ امریکی میرینز موجود ہیں، جبکہ 82 ویں ایئر بورن کے پیرا ٹروپرز بھی سٹینڈ بائی پر ہیں۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں تقریباً دس ہزار امریکی فوجیوں کو مشرق وسطی میں تعینات کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کے لیے اپنا تیسرا بحری بیڑہ بھی مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا ہے۔

 

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی بحری بیڑہ جارج ایچ ڈبلیو بش ورجینیا سے مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے سے موجود امریکی بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ اور ابراہم لنکن بھی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں۔

 

تازہ اطلاعات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد 50 ہزار ہو چکی ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق خلیج کی طرف جانے والے امریکی بحری جہازوں پر چار ہزار سے زیادہ امریکی میرینز موجود ہیں، جبکہ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے پیرا ٹروپرز بھی سٹینڈ بائی پر ہیں۔

 

82 ویں ایئر بورن ڈویژن کیا ہے؟

 

یہ ڈویژن ایک ایسی بریگیڈ پر مشتمل ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں محض 18 گھنٹوں کے اندر پہنچ سکتی ہے۔

 

اس ڈویژن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ راتوں رات فضائی راستے سے مطلوبہ جگہ پر اتارے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ان کے پاس بھاری بکتر بند گاڑیاں نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے ایرانی جوابی حملے کی صورت میں خطرہ ہو سکتا ہے۔

 

منصوبہ بندی کے مطابق، پہلے میرینز جزیرے کے تباہ شدہ ایئر فیلڈ کی مرمت کریں گے، جس کے بعد 82 ایئر بورن کے دستے وہاں پہنچ کر مستقل کنٹرول سنبھالیں گے۔ میرینز کے پاس طویل عرصے تک وہاں رہنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اس لیے ایئر بورن ڈویژن انہیں ریلیف فراہم کرے گی۔

 

یہ ایلیٹ فورس حالیہ برسوں میں کئی بار مختصر نوٹس پر تعینات کی جا چکی ہے، جن میں جنوری 2020 میں بغداد سفارت خانے پر حملے کے وقت مشرقِ وسطیٰ روانگی، 2021 میں کابل سے انخلا، اور 2022 میں یوکرین جنگ کے دوران مشرقی یورپ میں تعیناتی شامل ہے۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں تقریباً دس ہزار امریکی فوجیوں کو مشرق وسطی میں تعینات کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کے لیے اپنا تیسرا بحری بیڑہ بھی مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا ہے۔

 

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بحری بیڑہ جارج ایچ ڈبلیو بش ورجینیا سے روانہ ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے سے موجود امریکی بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ اور ابراہم لنکن بھی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C