03/March/2026

امریکہ ایران میں نظام کی تبدیلی نہیں چاہتا، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

👁️ 203 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ ایران میں نظام کی تبدیلی نہیں چاہتا، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

امریکہ ایران میں نظام کی تبدیلی نہیں چاہتا، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ  ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود امریکہ کا مقصد نظام کی تبدیلی نہیں اور نہ ہی امریکہ خطے میں ماضی جیسی طویل جنگوں میں الجھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

 

ہیگستھ نے یہ بات امریکہ کے ایئر فورس جنرل ڈین کین، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، کی موجودگی میں کہی۔ 

 

ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ عراق نہیں ہے۔ یہ کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ نہیں ہے۔‘‘ ہفتے کے دن ایران کے خلاف شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے یہ امریکی وزیر دفاع کی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس تھی۔

 

ہیگستھ نے بظاہر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تہران میں ملکی قیادت کی تبدیلی کے پہلے دیے گئے بیانات سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ موجودہ امریکی مشن صرف ایک ہے، ’’واضح، تباہ کن اور فیصلہ کن مشن، ایران سے میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ۔‘‘

 

 انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’کوئی نیشن بلڈنگ نہیں ہوگی، نہ ہی کوئی جمہوریت سازی کا تجربہ۔‘‘ ان کا بالواسطہ اشارہ امریکہ کی افغانستان اور عراق میں جنگوں کی طرف تھا۔

 

اگرچہ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ نظام کی تبدیلی امریکی مقصد نہیں ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ’’حقیقت یہ ہے کہ حکومت ضرور بدل گئی ہے اور دنیا  اب بہتر ہو گئی ہے۔‘‘

 

انہوں نے ایرانی قیادت کے ان دیگر شعبوں پر کوئی تبصرہ نہ کیا، جو اب بھی اپنی جگہ پر ہیں۔

 

امریکی وزیر دفاع نے حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران  نے 1979 کے انقلاب کے بعد سے ’’امریکہ کے خلاف وحشیانہ، یکطرفہ جنگ‘‘جاری رکھی ہوئی تھی۔

 

ان کے مطابق ایران طاقتور میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی تیار کر رہا تھا تاکہ اپنے ’’جوہری بلیک میل‘‘ کے عزائم کے لیے ایک روایتی ڈھال قائم کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

 

ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ سابقہ ٹرمپ انتظامیہ نے 2015 کے تاریخی جے سی پی او اے معاہدے، جس میں  مغربی اتحادیوں نے ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کے بدلے کچھ پابندیاں اٹھانے پر اتفاق کیا تھا، کو ختم کر کے درست قدم اٹھایا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران معاہدے کی روح کے مطابق پابندیوں میں نرمی  چاہتے ہوئے بھی جوہری پروگرام میں پیش رفت کر رہا تھا۔

 

امریکی وزیر دفاع نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ  اس مسلح تنازعے کے خاتمے  کے لیے امریکی حکمت عملی کیا ہے۔

 

صدر ٹرمپ اپنے پیش رو امریکی صدور کے ادوار میں بیرونی جنگوں میں امریکی فوج کی شمولیت پر طویل عرصے سے تنقید کرتے آئے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C