08/April/2025

امریکہ نے گرین سگنل دیدیا؟ ممبئی حملوں کا ملزم اور سابق پاکستانی میجر تہور رانا بھارت کے حوالے!

👁️ 202 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ نے گرین سگنل دیدیا؟ ممبئی حملوں کا ملزم اور سابق پاکستانی میجر تہور رانا بھارت کے حوالے!

امریکہ نے گرین سگنل دیدیا؟ ممبئی حملوں کا ملزم اور سابق پاکستانی میجر تہور رانا بھارت کے حوالے!

واشنگٹن(ش ح ط) 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں ہونے والے خونی حملوں کے ایک مرکزی ملزم تہور حسین رانا کی بھارت حوالگی کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے مشترکہ افسران کی ٹیم اس وقت امریکہ میں موجود ہے تاکہ حوالگی کے عمل کو مکمل کیا جا سکے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رانا کی حوالگی کے خلاف درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے بعد انہیں جلد ہی نجی چارٹر طیارے کے ذریعے بھارت منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں ابتدائی طور پر دہلی کی تہاڑ جیل میں سخت سیکیورٹی میں رکھا جائے گا، تاہم ممبئی کی ایک جیل میں بھی ان کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جہاں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

رانا کو 2013 میں امریکی عدالت نے اپنے دوست ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے ساتھ مل کر ممبئی حملوں اور ڈنمارک میں حملے کی ناکام سازش میں کردار ادا کرنے پر 14 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ڈیوڈ ہیڈلی بعد ازاں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے اور انہوں نے عدالت میں رانا اور دیگر افراد کے ملوث ہونے کے اہم انکشافات کیے تھے۔

یاد رہے کہ ممبئی حملوں میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 25 غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ اس حملے کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت کا الزام پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کیا گیا تھا۔

رانا کے خلاف تحقیقات کے دوران ممبئی پولیس کو ان اور ہیڈلی کے درمیان ہونے والی ایسی ای میلز ملی تھیں جن میں حملے سے متعلق بات چیت شامل تھی۔ ان ای میلز میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے افسر میجر اقبال کا ذکر بھی سامنے آیا، جنہیں بھارت نے ملزمان کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

تہور حسین رانا پاکستان میں پیدا ہوئے، وہیں پرورش پائی اور پاکستان فوج کے میڈیکل کور میں خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ کینیڈا منتقل ہوئے اور 2001 میں کینیڈین شہریت حاصل کی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق 2009 میں اپنی گرفتاری سے چند سال قبل رانا نے امریکی شہر شکاگو میں امیگریشن اور ٹریول ایجنسی کھولی اور اس کے ساتھ کچھ اور کاروبار بھی شروع کر دیا۔

اکتوبر 2009 میں گرفتاری کے بعد کے ایک بیان میں رانا نے اعتراف کیا کہ لشکر طیبہ ایک دہشت گرد تنظیم تھی اور ہیڈلی نے پاکستان میں لشکر طیبہ سے چلنے والے تربیتی کیمپوں میں شرکت کی تھی۔ ہیڈلی نے گواہی دی کہ انھوں نے 2002 اور 2005 کے درمیان پانچ الگ الگ مواقع پر تربیتی کیمپوں میں شرکت کی تھی۔ 2005 کے آخر میں، ہیڈلی کو نگرانی کرنے کے لیے انڈیا جانے کی ہدایات موصول ہوئیں، جو انھوں نے ممبئی حملوں تک پانچ بار کی۔

عدالتی رپورٹ کے مطابق رانا اور ہیڈلی پاکستان میں بچپن کے دوست تھے اور ایک ہی سکول میں پانچ سال تک تعلیم حاصل کی۔ دونوں بعد میں پہلی بار 2006 میں شکاگو میں سکول چھوڑنے کے بعد ملے۔ شکاگو میں چلائے جانے والے مقدمے میں انکشاف ہوا ہے کہ ہیڈلی نے لشکر کے لیے رانا سے زیادہ فعال طور پر کام کیا۔ لیکن دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی دونوں نے ایک ساتھ کی تھی اور رانا ان دونوں منصوبوں میں شریک تھے۔

بھارت کی جانب سے رانا کی حوالگی کا مطالبہ کئی سالوں سے جاری تھا۔ اس پیش رفت کو بھارت کی ایک بڑی کامیابی اور پاکستان کی فوج و خفیہ اداروں کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں اعلان کیا تھا کہ ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اب، 17 برس بعد، بھارت اپنے اس مطالبے کی تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C