02/March/2026

امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں میں سابق ایرانی صدر احمدی نژاد سمیت اہم جنرلز ہلاک

👁️ 227 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں میں سابق ایرانی صدر احمدی نژاد سمیت اہم جنرلز ہلاک

امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں میں سابق ایرانی صدر احمدی نژاد سمیت اہم جنرلز ہلاک

تہران (ڈیلی اردو) ایران کے ایک سرکاری خبر رساں ادارے نے اتوار یکم مارچ کے روز تصدیق کر دی کہ ہفتہ 28 فروری کو تہران میں کیے جانے والے اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں میں سے ایک میں، ماضی میں دو مرتبہ ایرانی صدر کے عہدے پر فائز رہنے والے قدامت پسند سیاستدان محمود احمدی نژاد بھی مارے گئے۔

 

بتایا گیا ہے کہ احمدی نژاد تہران شہر کے ایک مشرقی علاقے میں اپنے گھر پر ہونے والے ایک فضائی حملے میں اپنے ایک محافظ سمیت ہلاک ہو گئے۔ ان کی عمر 69 برس تھی۔

 

احمدی نژاد 2005ء سے لے کر 2013ء تک کے آٹھ سالہ عرصے میں دو مرتبہ ایران میں صدر کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ وہ اس عرصے کے شروع میں ایرانی پارلیمان میں قدامت پسندوں اور انتہائی سخت گیر سیاستدانوں دونوں ہی کے پسندیدہ تھے۔

 

تاہم ان کے عہدہ صدارت کی دوسری مدت کے دوران ان کی پالیسیوں سے متعلق ملک کی اعلیٰ ترین شیعہ مذہبی قیادت کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے۔

 

انہوں نے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں جو پالیسی اپنائی تھی، وہ تہران کے خلاف کئی طرح کی بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں اور یوں ملک کے لیے اقتصادی بحران کی وجہ بھی بنی تھی۔

بعد کے برسوں میں احمدی نژاد کے حامی  اور ووٹر بھی ان سے دور ہو گئے تھے، یہاں تک کہ ایرانی سخت گیر سیاسی حلقے بھی انہیں ایک متنازعہ شخصیت سمجھنے لگے تھے۔

 

دیگر سرکردہ ایرانی رہنما بھی ہلاک

 

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام بھی مارے گئے۔

 

ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار یکم مارچ کے روز بتایا کہ کل ہفتے کے دن ایران میں کیے جانے والے اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں میں ملکی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ کئی دیگر سرکردہ رہنما بھی مارے گئے۔ ان میں ایرانی فوج کے سربراہ اور ملکی وزیر دفاع بھی شامل ہیں۔

 

تہران سے یکم مارچ کی صبح ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ملکی فوج کے چیف آف سٹاف، جنرل عبدالرحیم موسوی اور وزیر دفاع جنرل عزیز ناصر زادہ بھی مارے گئے۔ موسوی اور ناصر زادہ ملکی ڈیفنس کونسل کے اس اجلاس میں شریک تھے، جو اس وقت جاری تھی، جب یہ فضائی حملے کیے گئے۔

 

ان شخصیات کے علاوہ ان فضائی حملوں میں ایران کے محافظین انقلاب نامی دستوں کے سربراہ محمد پاکپور اور قومی دفاعی کونسل کے سربراہ علی شامخانی بھی مارے گئے، جن کی ہلاکت کی تہران کی طرف سے موسوی اور ناصر زادہ کی ہلاکت کی تصدیق سے پہلے ہی تصدیق کر دی گئی تھی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C