اڈیالہ جیل پر ناکام حملے کی خبروں کے بعد انکوائری کا مطالبہ
👁️ 83 بار دیکھا گیا
اڈیالہ جیل پر ناکام حملے کی خبروں کے بعد انکوائری کا مطالبہ
اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو) پاکستان میں اڈیالہ جیل پر حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے آنے والی خبروں پر پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں نے تشویش کا اظہار اور اس واقعے کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح ہونا چاہیے کہ کس طرح افغانستان سے مبینہ دہشت گرد چلے اور پاکستان پہنچ کر انہوں نے کیسے اڈیالہ جیل پر حملہ کرنے کی کوشش کی، جہاں سابق وزیر اعظم عمران خان بھی اسیری کاٹ رہے ہیں۔
راولپنڈی پولیس کے ایک ترجمان محمد آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اڈیالہ جیل میں ایک حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے اور تین افغان دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن کی پاس سے بھاری تعداد میں جدید ہتھیار بھی ملے۔ ان میں خودکار ہتھیار، دستی بم، بارودی مواد اور جیل کے نقشے بھی شامل تھے۔
تفصیلات بتانے سے اجتناب
جب ڈی ڈبلیو نے اس حوالے سے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پنجاب کے سربراہ وسیم سیال سے رابطہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ پولیس ابھی اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور وہ کچھ دیر بعد اس کی تفصیل فون کر کے بتا دیں گے۔ تاہم ڈوئچے ویلے کے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود انہوں نے نہ ہی دوبارہ فون کال سنی اور نہ ہی اس واقعے کی کوئی تفصیلات بتائیں۔
جب ڈی ڈبلیو نے اس حوالے سے پنجاب پولیس کے ترجمان سے رابطہ کیا، تو انہوں نے سی ٹی ڈی ترجمان کا نمبر بھیج دیا۔ اس پر ڈی ڈبلیو نے ترجمان سی ٹی ڈی سے بھی متعدد مرتبہ رابطے کی کوشش کی تاہم انہوں نے بھی نہ تو تحریری سوالات کے کوئی جواب دیے اور نہ ہی فون اٹھایا۔
پنجاب حکومت کا بیان
اس حوالے سے پنجاب کی صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری سے بھی رابطہ کیا گیا اور انہیں بھی سوالات بھیجے گئے۔ عظمیٰ بخاری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ” گزشتہ رات گیارہ بج کر پچپن منٹ پر پولیس اور سی ٹی ڈی نے ایک مشترکہ آپریشن کیا، جس میں تین افغان دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا، جن کے پاس سے بھاری تعداد میں جدید ہتھیار بھی ملے۔ ان میں آٹومیٹک گنز، پستول اور بارودی مواد شامل تھے۔ ان سے جیل کے نقشے بھی ملے۔ دہشت گرد جیل پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔‘‘
بعد ازاں راولپنڈی پولیس کے ایک ترجمان، محمد آصف نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ابھی ان گرفتار شدہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔ ان کا تعلق افغانستان سے ہے اور ان کو بدھ کی رات تقریباﹰ 12 بجے گرفتار کیا گیا تھا۔‘‘
ترجمان نے اس بات کی تردید کی کہ انہیں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ محمد آصف کے مطابق، ”ابھی تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے اور پولیس ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ جیسے ہی اس حوالے سے کوئی لیڈ ملے گی، تو وہ میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ ملزمان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے۔‘‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا دہشت گردوں کا ہدف سابق وزیر اعظم عمران خان تھے، محمد آصف نے کہا، ”جو اطلاعات ہمیں اب تک ملی ہیں، ہم نے شیئر کر دی ہیں۔‘‘
سوالات ابھی باقی ہیں
اڈیالہ جیل میں اس مبینہ ناکام حملے کے انکشاف کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی اور اس کے ناکام بنائے جانے کے حوالے سے کئی سوالات ابھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے ایک رہنما شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ پولیس نے ابھی تک انہیں اس حملے کے حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ممکنہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما شاید پولیس کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ لیکن میرے علم میں نہیں کہ پولیس نے ابھی تک ہمیں رابطہ کر کے کچھ بتایا ہے۔‘‘
شعیب شاہین کے مطابق تحریک انصاف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس حملے کے حوالے سے بنیادی سوال کرے۔ ”یہ دہشت گرد کون تھے؟ ان کا ٹارگٹ کیا تھا؟ انہیں کیسے گرفتار کیا گیا؟ وہ کیسے یہاں تک پہنچے؟‘‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام سوالات کے جوابات کے لیے جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ حقائق کا تعین ہو سکے۔
سیاست دانوں کو تشویش
اس ناکام دہشت گردانہ حملے سے متعلق خبروں پر کئی دیگر سیاستدان بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے ایک رہنما اور سابق سینیٹر محمد اکرم کا کہنا تھا کہ ایک ایسی جگہ جہاں ایک سابق وزیر اعظم کو قید میں رکھا گیا ہے، حملے کے منصوبے کی خبریں انتہائی تشویش ناک ہیں۔
محمد اکرم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”جیلوں کے ارد گرد اور ان کے اندر بھی بہت زیادہ سکیورٹی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ دہشت گرد کس طرح اڈیالہ جیل تک پہنچ گئے؟ ان تمام پہلوؤں سے چھان بین ضروری ہے۔‘‘
جیل پر حملہ بہت مشکل ہوتا ہے
سکیورٹی امور کے ماہر اور سابق آئی جی سندھ افضل علی شگری کا کہنا ہے کہ کسی بھی جیل پر حملہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”عموماﹰ جیلوں میں سکیورٹی کے کئی لیول ہوتے ہیں، جن کو پار کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ خصوصاﹰ ایسی کسی جیل میں جہاں کوئی اعلیٰ سیاسی شخصیات بھی قید میں ہوں۔ ان کو ٹارگٹ کرنا تو بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں پر حملوں کا سلسلہ جاری، مختلف واقعات میں 5 اہلکار ہلاک، لکی مروت میں 2 حملہ آور ہلاک
30/October/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
پشاور: سکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن، 5 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ اور بارودی مواد برآمد
30/October/2026 👁️ 73 بار دیکھا گیا
ترکیہ کا پاک افغان سرحدی خطے میں داعش خراسان کے مبینہ رکن کے خلاف آپریشن، ترک شہری گرفتار
30/October/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، قطری وفد اہم پیغام لے کر تہران پہنچ گیا
30/October/2026 👁️ 87 بار دیکھا گیا
بھارت: اتراکھنڈ میں مسافر ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ، پائلٹ سمیت تمام 6 افراد ہلاک
30/October/2026 👁️ 55 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر حادثات کے بعد رک گئے، ایران نے امریکی حمایت سے غیر مجاز راستہ اختیار کرنے کا الزام عائد کردیا
30/October/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26412 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15649 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11953 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9315 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7568 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5546 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C