03/May/2026

ایران: خدا کے خلاف جنگ کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی

👁️ 160 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران: خدا کے خلاف جنگ کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی

ایران: خدا کے خلاف جنگ کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی

تہران (ڈیلی اردو) ایران میں اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

 

ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن اور پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تنسیم کے مطابق یعقوب کریم‌پور اور ناصر بقرزادہ کو ہفتے کے روز، دو مئی کی صبح، سپریم کورٹ کی جانب سے سزا کی توثیق کے بعد پھانسی دی گئی۔ 

 

حکام کے مطابق دونوں کو ’’اسرائیلی ریاست‘‘ کے لیے انٹیلیجنس تعاون اور جاسوسی کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

 

رپورٹس کے مطابق یعقوب کریم‌پور پر الزام تھا کہ وہ 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران-عراق جنگ کے زمانے سے موساد کے ساتھ تعاون کر رہے تھے اور انہیں اس کے عوض ڈیجیٹل ذرائع سے مالی معاونت ملتی رہی۔ 

 

حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا اور ایک ٹیلیگرام آئی ڈی کے ذریعے اپنے ہینڈلر سے رابطے میں تھے۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق انہیں ’’محاربہ‘‘ (خدا کے خلاف جنگ چھیڑنے) جیسے سنگین جرم کا مرتکب قرار دیا گیا۔

 

ایرانی حکام کے مطابق یعقوب نے حساس سکیورٹی اور فوجی مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر موساد کو فراہم کیں، جن میں جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران کی معلومات بھی شامل تھیں۔

 

دوسری جانب ناصر بقرزادہ پر الزام تھا کہ انہوں نے موساد کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ایران میں اہم شخصیات اور حساس مقامات سے متعلق معلومات فراہم کیں، جن میں نطنز کے قریب واقع علاقے بھی شامل تھے۔

 

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دونوں افراد کو کب گرفتار کیا گیا تھا، اور نہ ہی ان کے قانونی دفاع یا مقدمے کی مکمل تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

 

ادھر حالیہ ہفتوں میں ایران میں احتجاجی مظاہروں سے منسلک افراد کے خلاف بھی سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 21 سالہ نوجوان کھلاڑی ساسان آزادوار جونغانی کو بھی جمعہ کی صبح پھانسی دے دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ان پر ایک سرکاری گاڑی پر پتھر پھینکنے کا الزام تھا۔

 

یاد رہے کہ ایران میں دسمبر 2025 کے آخر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں ملک گیر حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئے۔ 

 

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ مظاہرے ابتدا میں پُرامن تھے تاہم بعد میں بیرونی قوتوں، جن میں اسرائیل، امریکہ اور کالعدم تنظیم مجاہدین خلق شامل ہیں، کی مبینہ پشت پناہی سے پرتشدد شکل اختیار کر گئے، جس کے دوران ہلاکتیں ہوئیں اور املاک کو نقصان پہنچا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C