15/February/2026

ایران میں خونریزی کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے، رضا شاہ پہلوی

👁️ 186 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں خونریزی کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے، رضا شاہ پہلوی

ایران میں خونریزی کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے، رضا شاہ پہلوی

میونخ (ڈیلی اردو) ایران کے سابق ولی عہد رضا شاہ پہلوی نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم ایرانیوں نے ایران کے اندر موجود مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور وہ جمہوری ممالک کے رہنماؤں کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ وہ ایرانی عوام کی حمایت کریں۔

 

رضا پہلوی نے سوال اٹھایا کہ آیا دنیا ایرانی عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی یا ایسی حکومت کو خوش کرے گی جس نے مبینہ طور پر 40 ہزار افراد کو ہلاک کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت کسی اصلاح یا انقلاب کی کشمکش میں نہیں بلکہ آزادی اور “قبضے” کے درمیان کھڑا ہے۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایرانی حکومت اپنی قانونی حیثیت کھو چکی ہے، انٹرنیٹ بند کر رہی ہے اور شہریوں کے خلاف طاقت استعمال کر رہی ہے۔ ان کے بقول “تبدیلی آ رہی ہے۔”

 

رضا پہلوی نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی جانب سے ایران کے خلاف ٹرگر میکانزم فعال کرنے کے اقدام کو سراہا اور یورپی یونین کی ان پابندیوں کی بھی تعریف کی جو مظاہرین پر جبر کے ردعمل میں عائد کی گئیں۔

 

انہوں نے ایرانی حکومت پر اپنے ہی شہریوں اور بیرون ملک افراد کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اقدامات کی “کوئی سرحد نہیں”۔

 

اپنی تقریر میں انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ایرانی عوام کی آزادی کی جدوجہد میں عملی یکجہتی دکھائی جائے، ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھا جائے، انٹرنیٹ بندش کا مقابلہ کرنے میں مدد دی جائے اور تمام سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے۔

 

رضا پہلوی نے کہا کہ ایران میں خونریزی ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے اور اسلامی جمہوریہ کو نازی جرمنی کی ایس ایس تنظیم سے تشبیہ دیتے ہوئے اسے “ختم ہونا چاہیے” قرار دیا۔

 

فنڈنگ سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی تحریک کو مالی معاونت نجی عطیات اور بیرون ملک مقیم ایرانیوں کی جانب سے ملتی ہے اور اب تک کسی حکومت سے کوئی مالی مدد نہیں لی گئی۔

 

دوسری جانب رضا پہلوی کی اپیل پر دنیا کے مختلف شہروں میں ایرانی شہری ریلیاں نکال رہے ہیں۔ مرکزی اجتماعات میونخ، لاس اینجلس اور ٹورنٹو میں متوقع ہیں جبکہ سڈنی میں پہلی ریلی منعقد ہو چکی ہے جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

 

رضا پہلوی نے اپنے حامیوں اور مخالفین دونوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکل کر بین الاقوامی برادری کو ایرانی قوم کی حمایت میں فوری اور عملی اقدام پر مجبور کریں۔

 

انہوں نے عالمی یومِ عمل کے لیے چھ مطالبات پیش کیے جن میں تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی، ایرانی حکومت کے مالی وسائل کی مکمل بندش، ایرانی سفارت کاروں کی ملک بدری، ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور جمہوریت کی طرف منتقلی کے لیے قانونی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے کی آمادگی شامل ہے۔

 

میونخ میں اپنی موجودگی کے دوران انہوں نے جرمن چانسلر کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران موجودہ نظام کے خاتمے کے قریب ہے اور ایک بار پھر کہا کہ “تبدیلی آنے والی ہے۔”

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C