25/August/2025

ایران کبھی بھی امریکی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای

👁️ 292 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کبھی بھی امریکی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای

ایران کبھی بھی امریکی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای

تہران (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی سیاسی معاہدے کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

 

ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک خطاب میں خامنہ ای نے کہا کہ اب بات صرف ایران پر لگائے گئے الزامات، جیسے دہشت گردی کی حمایت یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نہیں رہی، بلکہ ’’امریکہ اب اطاعت اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ایرانی عوام اس گھناؤنے مطالبے کی پوری عزم کے ساتھ مخالفت کریں گے۔‘‘

 

سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے اور سیاسی تبدیلی لانے کے لیے ’’اکسایا‘‘ اور اس کی حمایت کی، لیکن ایران نے ’’وقار کے ساتھ اپنا دفاع‘‘ کر کے ان دونوں کو حیران کر دیا۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر، جن کے پاس تمام اسٹریٹجک امور میں حتمی فیصلہ سازی کا اختیار ہے، جون میں اسرائیل کے ملک بھر میں جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد سے عوامی سطح پر کم ہی نظر آئے ہیں۔

 

مبصرین کا خیال ہے کہ وہ کسی ممکنہ اسرائیلی حملے سے بچنے کے لیے ایک بنکر میں روپوش ہیں۔ خامنہ ای کا اصرار ہے کہ ایران نے مختصر جنگ میں کامیابی حاصل کی۔

 

امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی حیثیت غیر واضح ہے۔  دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ان کی حکومت سمیت اصلاح پسندوں نے مذاکرات کی بحالی کو مسترد نہیں کیا لیکن پارلیمنٹ میں سخت گیر گروہ 12 روزہ جنگ کے دوران امریکہ کی طرف سے اہم ایرانی جوہری تنصیبات پر نام نہاد بنکر بسٹر بموں کے استعمال کے بعد سے مذاکرات جاری رکھنے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ خامنہ ای بنیادی طور پر مذاکرات کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ ٹرمپ کی شرائط کو مسترد کرتے ہیں۔

 

 اگر مذاکرات دوبارہ شروع نہ ہوئے تو ایران کو مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو اس کی پہلے سے تباہ حال معیشت کو مزید متاثر کر سکتی ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایک نئے اسرائیلی حملے کا بھی امکان موجود ہے۔ دریں اثنا ملک کو توانائی اور پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ یہ بحران بھی بے چینی کا باعث بن سکتا ہے۔

 

 دریں اثنا ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ ایران کے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان منگل کے روز ہونے والے جوہری مذاکرات جنیوا میں منعقد ہوں گے۔ 

ریاستی ٹیلی ویژن نے پیر کو بتایا کہ منگل کو ایران اور 2015ء کے جوہری معاہدے کے تین یورپی فریقین، یورپی یونین کے ساتھ مل کر جنیوا میں نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر مذاکرات کا ایک نیا دور منعقد کریں گے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C