07/March/2026

ایران کے حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی ردعمل متوقع

👁️ 259 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کے حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی ردعمل متوقع

ایران کے حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی ردعمل متوقع

ریاض (ڈیلی اردو رپورٹ) سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز نے ریاض میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ملاقات میں ایران کی مبینہ جارحیت اور اس کے علاقائی امن و استحکام پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ 

 

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملے خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایران دانشمندی سے کام لیتے ہوئے کسی غلط اندازے سے گریز کرے گا۔

 

سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان نے ملاقات کے بعد جاری بیان میں کہا کہ دونوں ممالک نے مملکت کے خلاف ایرانی حملوں اور انہیں روکنے کے لیے مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے فریم ورک میں ممکنہ اقدامات پر بھی گفتگو کی۔

 

اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور وزیرِ دفاع کے مشیر برائے انٹیلی جنس ہشام بن عبدالعزیز بن سیف شریک تھے، جبکہ پاکستانی وفد میں آرمی چیف کے سیکریٹری میجر جنرل محمد جواد طارق بھی موجود تھے۔

 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب واقع بڑے شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ 2019 میں بھی اسی آئل فیلڈ کو یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے بھیجے گئے ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

 

دفاعی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے حالیہ حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب نے پہلی مرتبہ ایران کے خلاف ممکنہ مشترکہ فوجی اقدامات کا اشارہ دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران کو آگاہ کر دیا ہے کہ سعودی عرب پر مزید حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے، بصورت دیگر پاکستان مملکت کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

 

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی دفاعی تعاون موجود ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ بھی طے شدہ ہے، جس کے تحت خطے میں کسی بھی ممکنہ خطرے یا جارحیت کی صورت میں باہمی تعاون، دفاعی رابطہ کاری اور مشترکہ اقدامات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C