10/January/2026

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ملکی سکیورٹی کو ’ریڈ لائن‘ قرار دے دیا

👁️ 169 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ملکی سکیورٹی کو ’ریڈ لائن‘ قرار دے دیا

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ملکی سکیورٹی کو ’ریڈ لائن‘ قرار دے دیا

تہران (ڈیلی اردو،اے پی، ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز) ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے آج بروز ہفتہ خبردار کیا ہے کہ ملک کی سلامتی ایک ’’ریڈ لائن‘‘ ہے اور فوج نے عوامی املاک کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔ 

 

آئی آر جی سی کے اس انتباہ کو ملکی مذہبی قیادت کی جانب سے حالیہ برسوں کے سب سے بڑے مظاہروں کو دبانے کی کوششیں تیز کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایرانی قیادت کو نئی وارننگ دی اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کہا، ’’امریکہ ایران کے بہادر عوام کی حمایت کرتا ہے۔‘‘

 

ایران میں جمعے کو بھی رات گئے تک بدامنی جاری رہی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کے مغرب میں واقع کرج میں ایک بلدیاتی عمارت کو آگ لگا دی گئی، جس کا الزام ’’شرپسندوں‘‘ پر عائد کیا گیا۔

 

سرکاری ٹی وی نے شیراز، قم اور ہمدان میں سکیورٹی اہلکاروں کی تدفین کی فوٹیج نشر کی، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مظاہروں کے دوران مارے گئے۔

 

ابتدائی طور پر مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والا یہ احتجاج گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران کے بیشتر حصوں میں پھیل چکا ہے۔ اب مظاہرین کی جانب سے مذہبی حکومت کے خاتمے کے مطالبے نے اس احتجاج کو سیاسی رنگ دے دیا ہے۔ 

 

حکام نے ’’فسادات‘‘ کو ہوا دینے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان حملوں میں درجنوں مظاہرین مارے گئے ہیں۔

 

حکام نے انٹرنیٹ کی بندش برقرار رکھی ہوئی ہے۔ مغربی ایران میں ایک عینی شاہد نے فون پر بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب تعینات ہیں اور اس علاقے میں فائرنگ کر رہے ہیں، تاہم سکیورٹی خدشات کے باعث انہوں نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا۔

 

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے الزام عائد کیا کہ دہشت گرد گروہ گزشتہ دو راتوں کے دوران فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے رہے، جس کے نتیجے میں متعدد شہری اور سکیورٹی اہلکار مارے گئے اور املاک کو آگ لگا دی گئی۔

 

بیان میں کہا گیا کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کی کامیابیوں کا تحفظ اور سکیورٹی برقرار رکھنا ’’ریڈ لائن‘‘ ہے اور موجودہ صورتحال کا جاری رہنا ناقابلِ قبول ہے۔ ایرانی فوج، جو پاسدارانِ انقلاب سے الگ ہے لیکن سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی کمان میں کام کرتی ہے، نے اعلان کیا کہ وہ ’’قومی مفادات، ملک کے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کا تحفظ‘‘ کرے گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C