23/August/2025

ایف بی آئی کا قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کے گھر پر چھاپہ

👁️ 541 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایف بی آئی کا قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کے گھر پر چھاپہ

ایف بی آئی کا قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کے گھر پر چھاپہ

واشنگٹن (ڈیلی اردو/بی بی سی/سی بی ایس) امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ایجنٹس نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔ یہ کارروائی جمعے کے روز ریاست میری لینڈ کے علاقے بیتھیسڈا میں کی گئی۔

ایف بی آئی کی کارروائی

 

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو جاری بیان میں ایف بی آئی نے تصدیق کی کہ وہ عدالت کی اجازت کے بعد یہ کارروائی کر رہے تھے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

 

مقامی میڈیا کی جانب سے شائع تصاویر میں پولیس کی گاڑیاں اور عملہ بولٹن کے گھر کے باہر موجود دکھائی دیے۔

 

پس منظر اور پرانے الزامات

 

یاد رہے کہ جان بولٹن پر اس سے قبل بھی خفیہ معلومات کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی کتاب دی روم وئیر اِٹ ہیپن (The Room Where It Happened) میں وہ معلومات شامل کیں جو خفیہ نوعیت کی تھیں۔

یہ کتاب 2018 سے 2019 کے دوران ٹرمپ انتظامیہ میں اُن کے وقت کا احوال بیان کرتی ہے۔

 

امریکی محکمہ انصاف نے 2019 میں ایک عدالت کو بتایا تھا کہ بولٹن نے "خفیہ معاہدے کی واضح خلاف ورزی" کی ہے۔ تاہم یہ مقدمہ جون 2021 میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران واپس لے لیا گیا تھا۔

 

موجودہ تحقیقات

 

ایف بی آئی کی تحقیقات سے واقف ایک ذریعے نے سی بی ایس کو بتایا ہے کہ اس وقت تک بولٹن پر کسی نئی چیز کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔

 

سرکاری ریکارڈ میں بھی کارروائی کے حوالے سے کوئی اندراج موجود نہیں۔

 

بی بی سی کے وائٹ ہاؤس نامہ نگار کے مطابق انتظامیہ سے اس بارے میں پوچھا گیا، تاہم تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

 

جان بولٹن کا سیاسی کیریئر

 

بولٹن نے صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

اس سے قبل وہ 2005-2006 میں جارج بش کے دور میں اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر بھی رہے۔

1980 کی دہائی میں صدر ریگن کی انتظامیہ میں وہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں۔

 

ٹرمپ سے اختلافات اور برطرفی

 

بولٹن کے تعلقات ٹرمپ کے ساتھ پالیسی اختلافات کے باعث خراب ہوئے۔ ستمبر 2019 میں صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ انھوں نے بولٹن کو برطرف کر دیا ہے۔

 

ٹرمپ کے مطابق وہ بولٹن کی تجاویز سے شدید اختلاف رکھتے تھے، تاہم بولٹن نے یہ دعویٰ مسترد کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے استعفیٰ دیا تھا۔

 

ٹرمپ کے ناقد کے طور پر شہرت

 

بولٹن، جو ریپبلکن ہیں، گزشتہ برسوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے کڑے ناقد بن کر سامنے آئے۔ انہوں نے 2020 کے انتخابات میں ٹرمپ کو ووٹ نہ دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔

 

اسی دوران ان کی نیشنل سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی گئی جبکہ ایران کی طرف سے مبینہ قتل کی دھمکیوں کے بعد فراہم کی گئی سکیورٹی بھی ہٹا لی گئی تھی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C