17/May/2025

برطانیہ میں تین ایرانی شہریوں پر قومی سلامتی ایکٹ کے تحت سنگین الزامات عائد

👁️ 252 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
برطانیہ میں تین ایرانی شہریوں پر قومی سلامتی ایکٹ کے تحت سنگین الزامات عائد

برطانیہ میں تین ایرانی شہریوں پر قومی سلامتی ایکٹ کے تحت سنگین الزامات عائد

لندن (نمائندہ ڈیلی اردو) برطانیہ میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی کے بعد تین ایرانی شہریوں پر قومی سلامتی ایکٹ 2023 کے تحت سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ گرفتار کیے گئے افراد میں 39 سالہ مصطفیٰ سپہوند، 44 سالہ فرہاد جوادی منیش اور 55 سالہ شاپور قلعہ علی خانی نوری شامل ہیں، جنہیں 3 مئی 2025 کو لندن میں گرفتار کیا گیا تھا۔

برطانوی حکام کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے 14 اگست 2024 سے 16 فروری 2025 کے درمیان ایران کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کی مدد کی، جس میں نگرانی، تحقیق اور سنگین تشدد کی منصوبہ بندی شامل ہے۔ ان میں سے ایک شخص، مصطفیٰ سپہوند، پر اضافی الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، جن میں برطانیہ میں سنگین تشدد کی ترغیب دینے یا اس کے ارتکاب کے لیے نگرانی اور تحقیق شامل ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق تینوں ملزمان نے 2016 اور 2022 کے درمیان برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی تھی۔ انہیں 6 جون 2025 کو لندن کی سینٹرل کریمنل کورٹ (اولڈ بیلی) میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

یہ گرفتاریاں برطانوی قومی سلامتی کے لیے ایران سے درپیش ممکنہ خطرات پر بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں عمل میں آئیں۔ حکام کے مطابق ایران کو برطانیہ میں “غیر ملکی اثر و رسوخ” کے حوالے سے بلند ترین خطرے کے زمرے میں رکھا گیا ہے، اور تہران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ برطانیہ میں سیاسی اثرورسوخ کی حامل تمام سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کرے۔

یہ مقدمات برطانیہ کے نئے قومی سلامتی ایکٹ 2023 کے تحت دائر کیے گئے ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر ملکی ریاستوں کی جانب سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے اضافی اختیارات فراہم کرتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ قانون کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ برطانیہ کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا مؤثر طور پر سدباب کیا جا سکے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C