بلوچ علیحدگی پسندوں کا ہتھیار ڈالنا امن کیلئے کتنا اہم؟
👁️ 88 بار دیکھا گیا
بلوچ علیحدگی پسندوں کا ہتھیار ڈالنا امن کیلئے کتنا اہم؟
کوئٹہ (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو) ناقدین کے مطابق عسکریت پسندوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے سرکاری دعوے لاپتہ افراد کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ بلوچوں کا احساس محرومی دور کرے۔
بلوچستان میں مبینہ بلوچ عسکریت پسندوں کے ہتھیار ڈالنے کے حالیہ واقعے کو سرکاری طور پر ایک اہم پیشرفت قراردیا جارہا ہے تاہم حکومتی دعووں کے برعکس عسکریت پسندی اور سلامتی کے امور پر دسترس رکھنے والے بعض مبصرین نے اسے ایک متنازعہ اور غیراہم واقعہ قرار دیا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران صوبے میں بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ مفاہمت کے لیے ہونے والی تمام تر حکومتی کوششیں تاحال بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔ بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں پاکستانی ریاستی اداروں کو صوبے میں انسانی حقوق کی سنگیں خلاف ورزیوں میں ملوث قرار دیتی ہیں۔
بدھ 20 دسمبر کو کوئٹہ میں اپنے ستر ساتھیوں کے ہمراہ ہتھیار ڈالنے والے کالعدم تنظیم بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی این اے) کے کمانڈر سرفراز بنگلزئی نے دعویٰ کیا کہ بلوچ مسلح تنظیموں سے وابستہ دیگر کئی لوگ بھی ہتھیار پھینک کرقومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل بی این اے کے سربراہ گلزار اما م شمبے کو گزشتہ سال سات اپریل کو پاکستانی خفیہ اداروں نے مبینہ طور پر ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا۔ گلزار امام 11 جنوری 2022 کو بی این اے کے سربراہ منتخب ہوئے تھے۔
سرفراز بنگلزئی عرف مرید بلوچ کون ہے؟
بی این اے کے کمانڈر سرفراز بنگلزئی بلوچستان کے محکمہ خوراک کے سابق ملازم ہیں اور وہ 2009 میں بلوچ مسلح تحریک کا حصہ بنے تھے۔ 55 سالہ بنگلزئی گزشتہ ایک دہائی سے صوبے میں حکومت کے خلاف جاری لڑائی میں دو کالعدم تنظیموں بلوچ یونائیٹڈ آرمی اور بلوچ نیشنلسٹ آرمی نامی تنظیم کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ضلع مستونگ سے تعلق رکھنے والے سرفراز بنگلزئی کالعدم بلوچ یونائٹڈ آرمی میں ترجمان کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ یو بی اے میں سرفراز کا کوڈ نام مرید بلوچ تھا۔ جس کے تحت وہ صوبے کے مختلف حصوں میں ہونے والے درجنوں دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری کرتے رہے ہیں۔
بی این اے کے سابق سربراہ گلزار امام شمبے کی گرفتاری کے بعد رواں سال اپریل میں سرفراز بنگلزئی کو تنظیم نے نئے سربراہ کے طور پر منتخب کیا تھا۔ سرفراز کے دو بیٹے بھی علیحدگی کی تحریک میں لڑتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔ بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے خلا ف ہونے والی کارروائیوں میں تیز ی کے بعد چار بلوچ عسکریت پسند تنظیموں نے اتحاد کرکے بلوچ راجی اجوئی سنگر ) براس) کے نام سے نئی تنظیم کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ریپبلکن آرمی اور بلوچ ریپبلکن گارڈز پر مشتمل، براس نامی تنظیم بلوچستان سمیت ملک بھر میں چینی انجینئرز اور دیگر اہم شخصیات سمیت قومی تنصیبات پر ہونے والے کئی بڑے حملوں کی ذمہ داریاں تسلسل کے ساتھ قبول کرتی رہی ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی کی مسلح تحریک میں خودکش حملوں کا آغاز بھی براس نے شروع کیا تھا۔
علیحدگی پسندوں کے قومی دھارے میں شامل ہونے کے حکومتی دعوے
پاکستانی حکام گزشتہ ایک دہائی کے دوران بلوچستان میں تین ہزار سے ذائدبلوچ عسکریت پسندوں کے قومی دھار ے میں شامل ہونے کے اعلانات کرچکی ہے۔ ماضی میں 18 اپریل 2016 میں ضلع قلات کے علاقے میں 100 جبکہ اسی سال 11 جولائی کو کوئٹہ میں 200 عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
اسی طرح 12 سمتبر 2017 کو 320 جبکہ اسی سال 9 دسمبر کو صوبے میں 313 اور نومبر کے مہینے میں 350 مبینہ بلوچ عسکریت پسند بھی مختلف حکومتی تقاریب میں ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوئے تھے۔
بلوچستان کی سابقہ حکومتیں شورش زدہ تربت، کاہان، خضدار، خاران، نوشکی، ڈیرہ بگٹی اور دیگر علاقو ں میں بھی سینکڑوں افراد کی قومی دھارے میں شامل ہونے کے علانات کر چکی ہیں۔
بلوچ مسلح تحریک سے علیحدہ ہونے والے ان افراد میں کئی ایسے افراد بھی شامل ہیں، جنہیں حکومتی عمل داری تسلیم کرنے کے بعد مخالفین مختلف حملوں میں قتل کرچکے ہیں۔
لانگ مارچ سے توجہ ہٹانے کی کوشش
بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جاری احتجاجی تحریک میں شامل سہیل بلوچ کہتے ہیں کہ حکومتی ادارے صوبے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں روکنے کے بجائے طاقت کے بل بوتے پر عوامی جدوجہد کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ڈی ڈبلیوسے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا، “بلوچستان میں آج جو مسلح تحریک جاری ہے اس کےپس منظر میں جانا بہت ضروری ہے۔ صرف دعووں سے حقائق مسخ نہیں کیے جاسکتے۔ صوبے میں ریاستی پالیسیوں کے خلاف ہر طبقہ سراپا احتجاج ہے۔
بلوچ سیاسی کارکنوں کو جبری طور پر لاپتہ کرکے قتل کیا جارہا ہے۔ انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں انہیں کاونٹر کرنے کے لیے مختلف حربوں کا استعمال شروع کیا گیا ہے۔”
سہیل بلوچ کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کے قومی دھارے میں شامل ہونے کا حالیہ حکومتی دعویٰ لاپتہ افراد کی تحریک سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے جو کہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے مذید کہا، ” موجوہ دورہ حکومت میں صوبے میں بلوچ سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ انصاف کے حصول کے لئے آواز بلند کرنے والے افراد کو غدار یا ملک دشمن قرار دے گرفتار کیا جا رہا ہے ۔ لوگوں کو ائین کے مطابق بنیادی حقوق بھی فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں۔”
بلوچستان میں مفاہمتی عمل کی کوششیں اور اہداف
کالعدم تنظیموں سے وابستہ افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے پاکستانی حکومت نے 2015 میں بلوچستان پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکیج کے تحت ہتھیار ڈالنے والے افراد کی بحالی کے لیے کروڑوں روپے کی مالی امداد کے دعوے میں ماضی میں سامنے آتے رہے ہیں۔ موجودہ نگران حکومت نے چند یوم قبل ایک قبائلی جرگےکا کوئٹہ میں انعقاد کیا تھا۔ اس جرگے کے شرکاء نے ریاست کو ناراض بلوچ قائدین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔
بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ علی مردان ڈومکی نے جرگے سے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت مقاہمتی عمل کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔ تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ نگران حکومت اتنی باآختیار نہیں کہ ناراض بلوچ قائدین کے مطالبات پر غور کر سکے۔
بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی ان بلوچ قائدین میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے دور حکومت میں بلوچ قائدین سے قومی دھارے میں شامل ہونے کے لیے رابطہ کیا تھا۔
انسانی حقوق کی سرگرم کارکن حمید ہ بلوچ کہتی ہیں بلوچستان کے دیرینہ معماملات پر جب تک زمینی حقائق کی بنیاد پر توجہ نہیں دی جائے گی، حالات میں مطلوبہ بہتری سامنے نہیں آسکتی۔ انہوں نے کہا، “جب ڈاکٹر مالک بلوچ وزیراعلیٰ بلوچستان تھے تب صوبے میں قومی مفاہمت کی پالیسی اختیار کی گئی تھی۔ ناراض بلوچ قائدین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کئی نتیجہ خیز اقدامات سامنےآئے تھے۔ اگر ان کوششوں کو جاری رکھا جاتا اور ناراض قائدین کے مطالبات پر سنجیدگی سے توجیہ دی جاتی تو شاید آج حالات اس قدر گھمبیر نہ ہوتے۔”
حمیدہ بلوچ کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت نے روز اول سے بلوچستان کے مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی ہے۔
انہوں نے کہا، ”بلوچستان میں حقوق کے لیے جو آواز بلند کی جا رہی ہے اسے طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کے بجائے حکومت کو بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ صوبے میں شورش کی بنیادی وجوہات وہ نا انصافیاں ہیں جو کہ رہاستی اداروں کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔ اگر صوبے کے ساحل اور وسائل کے حوالے سے سامنے آنے والے تحفظات اور دیگر خدشات کو دور کیا جائے تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں ۔
میرے خیال میں ناراض بلوچ قائدین کو مذاکرات کی دعوت دینا اور ان کے خدشات کو سننا بہت ضروری ہے۔‘‘
واضح رہے کہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے خودساختہ جلاوطن بلوچ قائدین سے بھی کئی بار حکومتی سطح پر رابطے کیے گئے ہیں۔ ان رابطوں کے نتیجے میں کچھ عرصہ قبل نواب خیر بخش مری مرحوم کے صاحبزادے نوبزادہ گزین مری خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے واپس بلوچستان منتقل ہوئے تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر میں دھماکا اور آگ، ایران کا سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 73 بار دیکھا گیا
قلات میں کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک، گوادر میں آئی ای ڈی دھماکے سے میجر بھی ہلاک
19/October/2026 👁️ 42 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو کا نیا دفاعی منصوبہ، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلحہ سازی میں خود کفالت پر زور
19/October/2026 👁️ 113 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو ایران کے ساتھ نئی جنگ کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں، عباس عراقچی کا الزام
19/October/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
تل ابیب سے ویانا جانے والی پرواز کی صوفیہ میں ہنگامی لینڈنگ، بم کی دھمکی پر مسافروں سے پوچھ گچھ
19/October/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
یمن میں سعودی فضائی حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک و زخمی ، حوثی باغیوں کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26385 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15622 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11916 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9270 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7527 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5478 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C