14/December/2019

بچوں سے زیادتی: سرعام پھانسی کا بل قومی اسمبلی میں پیش

👁️ 60 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بچوں سے زیادتی: سرعام پھانسی کا بل قومی اسمبلی میں پیش

بچوں سے زیادتی: سرعام پھانسی کا بل قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد (ڈیلی اردو) بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کوسرعام پھانسی دینے سے متعلق بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔

قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے اقلیتی رکن جیمز اقبال کا بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔

مجوزہ بل میں کہاگیا ہے کہ 7سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے، اگر مجرم کی عمر 21 سال سے زائد ہوتو کم سے کم 100 افراد کے سامنے پھانسی دی جائے۔

مجوزہ بل میں 18 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو عمر قید کی سزا کی تجویز کی گئی ہے جبکہ معذور افراد کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو 14 سال قید کی سزا دی جائے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اگر ریپ کرنے والے کی عمر 21 سال سے زائد ہو تو 100 افراد کے سامنے پھانسی پر لٹکایا جائے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ 14 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو عمر قید یا کم از کم 7 سال قید اور 2 لاکھ جرمانے کی سزا دی جائے جبکہ 18 سال سے کم عمر افراد کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ عمر قید، کم از کم 5 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جائے جبکہ معذور افراد کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو 14 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

اس بل کی وجوہات میں تحریر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بچے ہر روز زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ بچوں سے زیادتی ایک عام جرم بن چکا ہے جو بچوں کے حوالے سے پاکستان کی عکاسی ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر کرتا ہے۔

وجوہات میں مزید لکھا گیا ہے کہ بچے کی موت سے بدتر کوئی چیز نہیں اور والدین کے لیے اپنے بچے کی تدفین سے بڑھ کر کوئی غم نہیں ہو سکتا۔

بل میں مزید کہا گیا ہے کہ بچے سے زیادتی کرنے کے بعد اسے قتل کرکے لاش کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی جاتی ہے۔ بچے پر جنسی حملہ آور ہونا نہ تو بے قابو ہوس کا شکار ہونا ہے اور نہ ہی ایسا بے پناہ جنسی خواہش کی تسکین کے لیے کیا جاتا ہے۔ بچے کو قتل کرنا نہ طاقت کا مظاہرہ ہے اور نہ ہی دیوانہ وار قتل کے رجحان کی طرف مائل ہونا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی پر قابو پانا آسان نہیں ہے تاہم ایسی مثالی سزائیں دے کر ایسے واقعات میں کمی لانے کے کوشش ضرور کی جانی چاہیے۔

مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ سات سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والا مجرم 21 سال کی عمر سے زائد ہو تو کم ازکم 100 افراد کے سامنے پھانسی، 25 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جائے۔ 10سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے لیے عمر قید یا کم از کم 10 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اس قبل وزیر ماحولیات زرتاج گل نے میڈیا کو بتایا تھا کہ وزیراعظم کابینہ میٹنگ میں حکم دے چکے ہیں کہ بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کے لیے سرعام پھانسی کا قانون بنایا جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ساحل کے مطابق پاکستان میں ہر روز گیارہ بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔

پاکستان میں 450 سے زائد این جی اوز پر مشتمل نیٹ ورک چائلڈ رائٹس موومنٹ(سی آر ایم) کی جانب سے بھی بچوں کیساتھ جنسی کے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ بل متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے اقلیتی نشست پر رکن قومی اسمبلی جیمز اقبال نے پیش کیا ہے جو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C