24/February/2026

بھارت نے پہلی انسداد دہشت گردی پالیسی 'پراہار‘ جاری کر دی

👁️ 119 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بھارت نے پہلی انسداد دہشت گردی پالیسی 'پراہار‘ جاری کر دی

بھارت نے پہلی انسداد دہشت گردی پالیسی 'پراہار‘ جاری کر دی

نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) پالیسی میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سرحد پار سے اعانت یافتہ دہشت گردی کے ساتھ ہی مجرم ہیکرز اور بعض حکومتیں بھی سائبر حملوں کے ذریعے بھارت کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔

 

’پراہار‘ نامی اس پالیسی میں کہا گیا ہے کہ بھارت دہشت گردی کو کسی مخصوص مذہب، نسل، قومیت یا تہذیب سے منسوب نہیں کرتا۔ پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور اس کے خلاف اس کی پالیسی 'زیرو ٹالیرنس‘ پر مبنی ہے۔

 

پالیسی میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو تین محاذوں، بحری، بری اور فضائی، پر دہشت گردانہ خطرات کا سامنا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکرپشن، ڈارک ویب اور کرپٹو والٹ جیسی نئی ٹیکنالوجیز نے دہشت گرد گروہوں کو گمنام انداز میں کام کرنے میں مدد دی ہے، جبکہ مہلک مقاصد کے لیے ڈرون اور روبوٹکس کے غلط استعمال کا خطرہ بھی تشویش کا باعث ہے۔

 

اس پالیسی میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت طویل عرصے سے سرحد پار سے ''سرپرستی یافتہ دہشت گردی‘‘ کا شکار رہا ہے، اور ''جہادی دہشت گرد تنظیمیں اور ان کی فرنٹل تنظیمیں بدستور بھارت میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی، ہم آہنگی، سہولت کاری اور عمل درآمد میں مصروف ہیں۔‘‘

 

اس پالیسی میں کہا گیا ہے، ''عالمی دہشت گرد گروہ جیسے القاعدہ اور دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش/ آئی ایس آئی ایس) بھارت کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور ملک میں خفیہ سیلز کے ذریعے تشدد بھڑکانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔‘‘ مزید کہا گیا کہ بیرون ملک سرگرم پرتشدد، انتہا پسند عناصر دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے سازشیں کرتے رہے ہیں۔

 

پالیسی کے مطابق، ''سرحد پار موجود ان کے سرغنے جدید ٹیکنالوجی بشمول ڈرونز کے استعمال کے ذریعے پنجاب اور جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں اور حملوں میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اب دہشت گرد گروہ حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو لاجسٹکس اور بھرتی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘‘

 

اس پالیسی کو سات اصولوں پر مبنی قرار دیا گیا ہے، جن میں دہشت گردانہ حملوں کی روک تھام، خطرے کے مطابق ردعمل، اندرونی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، دہشت گردی کو فروغ دینے والے حالات کو کم کرنا، اور دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کوششوں کی تشکیل شامل ہیں۔

 

بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق دہشت گرد گروہ بھارتی نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے بھارتی انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔

 

اس پالیسی میں کہا گیا کہ دہشت گرد عناصر کو کیمیائی، حیاتیاتی، تابکار، جوہری، دھماکہ خیز، ڈیجیٹل مواد تک رسائی اور اس کے استعمال کی کوششوں کو ناکام بنانا انسداد دہشت گردی کے ذمے دار اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ڈرونز اور روبوٹکس کے مہلک استعمال کا خطرہ بھی تشویش کا باعث ہے۔

 

آگے کے لائحہ عمل کے طور پر اس پالیسی میں تجویز کیا گیا کہ دہشت گردی کے مرتکب عناصر کے خلاف مضبوط مقدمات قائم کرنے کے لیے ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر مقدمے کے اختتام تک ہر مرحلے پر قانونی ماہرین کو شامل کیا جائے۔

 

کمیونٹی اور مذہبی رہنماؤں کے کردار پر زور دیتے ہوئے اس پالیسی میں کہا گیا ہے کہ اعتدال پسند مبلغین اور غیر سرکاری تنظیموں کو شدت پسندی اور پرتشدد انتہا پسندی کے منفی اثرات کے خلاف آگاہی پھیلانے کے لیے شامل کیا جانا چاہیے۔

 

مزید کہا گیا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھا جانا چاہیے تاکہ امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرے میں ڈالنے والے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ جیلوں میں شدت پسندی کی روک تھام کے لیے جیل عملے کو وقتاً فوقتاً ہدایات دی جانا چاہییں تاکہ سخت گیر قیدی کمزور قیدیوں کو انتہا پسند نہ بنا سکیں۔ اس مقصد کے لیے ڈی ریڈیکلائزیشن پروگرام بھی چلائے جانا چاہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C