بھارت: گزشتہ برس شہر میں فسادات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے گئے تھے، نئی دہلی ہائی کورٹ
👁️ 76 بار دیکھا گیا
بھارت: گزشتہ برس شہر میں فسادات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے گئے تھے، نئی دہلی ہائی کورٹ
نئی دہلی (ڈیلی اردو/وی او اے) بھارت کی دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ 2020 کے اوائل میں دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے فسادات منظم منصوبہ بندی اور سازش کے تحت کرائے گئے تھے۔
بھارتی نشریاتی ادارے ‘این ڈی ٹی وی’ کے مطابق پیر کو فسادات میں ملوث ایک ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ فسادات کسی واقعے کی بنیاد پر نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے گئے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ویڈیوز میں مظاہرین کے طرزِ عمل سے واضح ہوتا ہے کہ وہ نقصِ امن میں خلل ڈالنے اور حکومتی مشینری کو مفلوج کرنے پر تلے ہوئے تھے۔
دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس سبرامنیم پرساد نے ریمارکس دیے کہ مظاہرین نے منظم منصوبہ بندی کے تحت پہلے سی سی ٹی وی کیمروں کو تباہ کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان فسادات کی پہلے سے ہی پلاننگ کی گئی تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ بلوائی ڈنڈوں اور چھڑیوں سے لیس تھے اور اُن پر قابو پانے کے لیے پولیس اہل کاروں کی تعداد بہت کم تھی۔
خیال رہے کہ متنازع شہریت ترمیمی بل (سی اے اے) مخالف مظاہروں کے دوران گزشتہ برس کے اوائل میں شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ اس سلسلے میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مقامی رہنماؤں پر بھی الزامات عائد کیے گئے تھے۔ 23 فروری سے 29 فروری تک تشدد برپا رہا تھا جس میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک شدگان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی ان فسادات میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق مسلمانوں کا بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ متعدد مساجد، درگاہوں و مزارات کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے سیکڑوں ایف آئی آر درج کیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے خلاف مقدمات قائم کیے تھے۔
پیر کی سماعت میں کیا ہوا؟
پیر کو مذکورہ فسادات کے دوران پولیس اہل کاروں پر حملہ کرنے کے الزام میں محمد ابراہیم نامی ملزم کی درخواست ضمانت مسترد جب کہ ایک اور ملزم محمد سلیم خان کی درخواست ضمانت منظور کر لی تھی۔
جسٹس سبرامنیم پرساد نے ریمارکس دیے کہ سی سی ٹی وی کیمرے میں واضح ہے کہ ابراہیم تلوار اُٹھائے دھمکیاں دے رہا تھا۔
ابراہیم پر یہ الزام تھا کہ اُس نے مشتعل ہجوم کے ہمراہ ایک پولیس کانسٹیبل رتن لال کو قتل کیا جب کہ ابراہیم کے وکلا کا مؤقف ہے کہ رتن لال ابراہیم کی تلوار سے ہلاک نہیں ہوا تھا۔
ابراہیم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے تلوار صرف اپنے اور اہلِ خانہ کے تحفظ کے لیے اُٹھائی تھی۔
البتہ عدالت نے ابراہیم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس نے ایک مہلک ہتھیار اُٹھا رکھا تھا جس سے کسی بھی شخص کو شدید زخمی حتیٰ کے قتل بھی کیا جا سکتا تھا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدہ مکمل، آبنائے ہرمز کھل گئی، صدر ٹرمپ کا اعلان
15/June/2026 👁️ 123 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، پاکستانی وزیراعظم
15/June/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 6 فلسطینی ہلاک
15/June/2026 👁️ 105 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
15/June/2026 👁️ 113 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 10 واقعات میں مائننگ بارودی مواد کے استعمال کا انکشاف
15/June/2026 👁️ 176 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملہ، حزب اللہ کے سینئر کمانڈر علی موسی دقدوق 5 ساتھیوں سمیت ہلاک
15/June/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8828 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4553 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3269 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2449 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2088 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1896 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C