بھارتی ریاست اتر پردیش میں حلال اشیا کی فروخت پر پابندی
👁️ 138 بار دیکھا گیا
بھارتی ریاست اتر پردیش میں حلال اشیا کی فروخت پر پابندی
نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) ریاستی حکومت کے حکم کے مطابق حلال سرٹیفکیٹ والی ادویات سمیت دیگر مصنوعات کے ذخیرہ کرنے، تقسیم کرنے، خرید و فروخت کرنے پر پابندی ہے اور ایسا کرنے والے فرد یا کمپنی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
#WATCH | Uttar Pradesh | A team of FSDA (Food Safety and Drug Administration) conducted raid at a store in a mall in Lucknow today to look for halal-certified products. No such product was found.
UP Government has banned the production, storing, distribution and sale of… pic.twitter.com/K0cnKUGbub
— ANI UP/Uttarakhand (@ANINewsUP) November 20, 2023
بھارتی ریاست اتر پردیش کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ریاست میں حلال سرٹیفکیٹ والی مصنوعات کی پیداوار، ذخیرہ کرنے، تقسیم کرنے اور فروخت کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔
ریاست میں فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ایڈیشنل چیف سیکرٹری انیتا سنگھ نے اس کا اعلان کرتے ہوئے ہفتے کے روز ایک نوٹیفکیشن جاری کیا۔
کمشنر انیتا سنگھ کا کہنا تھا کہ ڈیری مصنوعات، چینی، بیکری کی اشیاء، پیپرمنٹ آئل، خوردنی تیل اور نمکین جیسی کھانے پینی کی بعض اشیا پر حلال سرٹیفیکیشن کا ذکر کیا جاتا ہے اور بہت سی ایشیا پر اس طرح کا لیبل بھی لگا ہوا ہوتا ہے۔
انہوں نے اس پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ”کھانے کی مصنوعات پر حلال سرٹیفیکیشن ایک متوازی نظام تھا، جس نے الجھن کی صورت حال پیدا کی اور یہ مذکورہ قوانین کے بنیادی مقصد کے بالکل خلاف ہے۔‘‘
البتہ حکومت نے اپنے اعلان میں ان حلال اشیا کو اس پابندی سے الگ رکھا ہے، جنہیں بیرون ملک سے درآمد کر کے بازار میں فروخت کیا جا رہا ہے اور ان پر پہلے سے ہی حلال کا لیبل لگا ہوا ہے۔
پابندی سے پہلے ایف آئی آر
اس حوالے سے ریاستی دارالحکومت لکھنؤ کے حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں بعض تنظیموں، پروڈکشن کمپنیوں، ان کے مالکان اور ان کے مینیجرز کے خلاف حلال سرٹیفیکیشن کے نام پر رقم حاصل کرنے کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے اس پابندی کا اعلان کیا۔
یہ ایف آئی آر شیلیندر کمار شرما نامی ایک شخص نے درج کرائی، جن کا ان کمپنیوں پر بغیر کسی اختیار کے حلال سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا الزام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں مذہب کے نام پر، ”ملک میں عناد، علیحدگی پسندی اور دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ بھی کرتی ہیں۔‘‘
اس ایف آئی آر میں جن لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے، اس میں چینئی کی حلال انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، دہلی کی جمعیۃ علمائے ہند حلال ٹرسٹ، حلال کونسلنگ آف انڈیا اور ممبئی کی جمعیت علمائے سمیت بعض نامعلوم لوگوں کے نام شامل ہیں۔
اس دوران جمعیت علمائے ہند کے ‘حلال ٹرسٹ‘ نے ان الزامات کو ”بے بنیاد‘‘ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد اس کی شبیہ کو ”داغدار‘‘ کرنا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اس حوالے سے غلط معلومات کے سدباب کے لیے ضروری قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
جمعیت کا کہنا ہے کہ اس کے سرٹیفیکیشن کا عمل بھارت میں برآمدگی گئی اور گھریلو اشیاء دونوں کے لیے ضرورت کے مطابق ہے اور یہ کہ وہ اس حوالے سے حکومتی ضوابط کی پاسداری کرتا ہے۔
حلال مصنوعات اقتصادی جہاد ہے، بی جے پی
حالیہ مہینوں میں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور سری رام سینے جیسی متعدد شدت پسند ہندو تنظیمیں حلال مصنوعات کے بائیکاٹ کی حمایت میں پوری شدت کے ساتھ میدان میں آئی ہیں۔
گزشتہ برس بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی نے بھی ان تنظیموں کی حمایت کرتے ہوئے حلال اشیاء کے استعمال کو اقتصادی جہاد قرار دیا تھا۔
روی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا، ”حلال ایک اقتصادی جہاد ہے، اگر ہندو یہ کہتے ہیں کہ انہیں حلال کھانا پسند نہیں تو اس میں غلط کیا ہے؟ کیا مسلمان کسی ہندو سے گوشت خریدیں گے؟ پھر آخر یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے گوشت خریدنا چاہئے؟‘‘
گزشتہ برس ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ ہندو جن جاگرتی سمیتی نے ہندوؤں سے اپیل کی تھی کہ اوگاڑی یا سال نو کے تہوار کے موقع پر حلال گوشت نہ خریدیں۔ اوگاڑی کا تہوار بہار میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ہندو بڑی مقدار میں بالخصوص بکرے کا گوشت استعمال کرتے ہیں، جو عام طور پر مسلمانوں کی دکانوں پر دستیاب ہوتا ہے۔
ہندو جن جاگرتی سمیتی کے ریاستی ترجمان موہن گوڑا نے مسلمانوں کے خلا ف مہم کو ہوا دیتے ہوئے ہندوؤں سے اپیل کی تھی کہ وہ حلال گوشت فروخت کرنے والے مسلمانوں کی دکانوں سے خریداری نہ کریں۔
ان کا کہنا تھا، ”ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ حلال مصنوعات کے فروخت سے ہونے والی آمدنی کا استعمال دہشت گردی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں کیا جا رہا ہے۔ حلال مصنوعات خریدنا ملک دشمن سرگرمیوں کی حمایت کے مترادف ہے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
خاران میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، بی ایل اے کے 9 دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 45 بار دیکھا گیا
ہنگو: ٹل میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس آپریشن، ٹی ٹی پی کے 4 دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 36 بار دیکھا گیا
شام : سابق نظام سے وابستہ جاسوسی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں، 2 افراد گرفتار، دوسری سیل بھی پکڑی گئی
06/September/2026 👁️ 85 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے حیس کو حوثیوں کے قبضہ سے آزاد کردیا، مکمل کنٹرول کا اعلان
06/September/2026 👁️ 95 بار دیکھا گیا
مستونگ میں قومی شاہراہ سے 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد
06/September/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
ہرات : نوجوان کو مبینہ تشدد کے بعد طالبان نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا
06/September/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26276 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15525 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11808 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9103 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7393 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5089 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C