10/March/2026

بیلجیم میں یہودی عبادت گاہ ’’ کنیسہ‘‘ کے باہر دھماکا

👁️ 162 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بیلجیم میں یہودی عبادت گاہ ’’ کنیسہ‘‘ کے باہر دھماکا

بیلجیم میں یہودی عبادت گاہ ’’ کنیسہ‘‘ کے باہر دھماکا

برسلز (ڈیلی اردو/اے ایف پی) جرمنی کے ہمسایہ ملک بیلجیم کے شہر لیوٹش میں، جسے Liége بھی کہا جاتا ہے، پیر نو مارچ کو علی الصبح یہودیوں کی ایک عبادت گاہ کے باہر ایک دھماکہ ہوا، جس میں مقامی حکام کے مطابق کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

 

نیوز ایجنسی بیلگا نے لکھا ہے کہ شہر کے میئر نے اس دھماکے کو ’’انتہائی نوعیت کی پرتشدد کارروائی اور سامیت دشمنی کو نتیجہ‘‘ قرار دیا ہے۔ 

 

لیوٹش کے میئر ولی ڈیمائر نے کہا، ’’میئر اور شہر کی کونسل اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور یہ عمل لیوٹش شہر کی ایک دوسرے کا ہر حال میں احترام کرنے کی روایت کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘‘

 

لیوٹش میں یہودیوں کے کنیسہ کے باہر یہ دھماکہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے، جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ جاری ہے اور ایران کی طرف سے جواباﹰ اسرائیل پر اور خلیجی عرب ریاستوں میں امریکی عسکری اور سفارتی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔

 

اس تناظر میں بیلجیم کے اس شہر کے میئر نے کہا، ’’اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ باہر کے تنازعات کو یہاں ہمارے اس شہر میں لایا جائے۔‘‘

 

برسلز سے موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس یہودی عبادت گاہ کے باہر دھماکہ صبح قریب چار بجے ہوا اور اس سے صرف مادی نقصان ہوا اور کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ اس دھماکے کے باعث کنیسہ کے قریب واقع متعدد عمارات کے شیشے ٹوٹ گئے۔

 

بیلجیم کے وزیر داخلہ بیرنارڈ کوئنٹن اور ملکی وزیر اعظم بارٹ ڈے ویور نے اس دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے مذمتی بیانات میں لکھا کہ ملک بھر میں یہودیوں کی املاک اور مراکز کے لیے حفاظتی انتظامات بڑھائے جا رہے ہیں۔

 

انہوں نے لکھا، ’’یہ حملہ لیوٹش کی یہودی برادری کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور یہ سامیت دشمن کارروائی ہماری اقدار اور ہمارے معاشرے پر بھی حملہ ہے۔‘‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C