04/January/2026

جنگ زدہ سوڈان میں انسانی بحران انتہا کو پہنچ گیا

👁️ 146 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنگ زدہ سوڈان میں انسانی بحران انتہا کو پہنچ گیا

جنگ زدہ سوڈان میں انسانی بحران انتہا کو پہنچ گیا

خرطوم (ڈیلی اردو) سوڈان میں جاری خانہ جنگی اور شدید تشدد کے باعث انسانی بحران اس سال غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے، جس کا اثر لاکھوں عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ 

 

عالمی سطح پر کام کرنے والی 22 سرکردہ امدادی تنظیموں کی شمولیت سے حال ہی میں کرائے گئے ایک سروے نے یہ بات واضح کی ہے کہ بحران نہ صرف شدت اختیار کر چکا ہے بلکہ بہت سی بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے کارکن اور غیر جانبدار مبصرین مجبوراﹰ ملک چھوڑ چکے ہیں۔

 

سیو دی چلڈرن کا موقف

 

دنیا بھر کے بحران زدہ ممالک اور علاقوں میں بچوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں سرگرم تنظیم سیو دی چلڈرن کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے ڈائریکٹر عبدالرحمان شریف نے کہا، ’’یہ بحران اتنا شدید ہے کہ اسے روزانہ تمام اخبارات کے صفحہ اول پر سرخی بننا چاہیے۔‘‘

 

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عملی طور پر بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس بحران پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے، گویا یہ المناک انسانی المیہ دنیا کا مسئلہ ہی نہ ہو۔

 

کردوفان میں محاصرہ اور خطرناک حالات

 

سوڈان کی خانہ جنگی میں سب سے بڑا محاذ کردوفان کا علاقہ ہے، جہاں کئی شہر سوڈانی فوج کے کنٹرول میں ہیں، مگر انہیں فوج کی حریف نیم فوجی فورس آر ایس ایف نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ یہ علاقہ ملک کے شمال اور وسط کو علیحدہ کرتا ہے اور علیحدگی پسندوں اور فوج کے زیر قبضہ علاقوں کے درمیان اہم جغرافیائی پٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔

 

غیر سرکاری امدادی تنظیم Action Against Hunger کی جرمن شاخ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ژان سباستیان فریڈرش رسٹ نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں کردوفان میں لڑائی اور ہلاکتوں میں ڈرامائی حد تک اضافہ ہوا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ جنوبی کردوفان کے ڈیلینگ اور کاڈوگلی کی برادریوں کا محاصرہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کو ناممکن بنا رہا ہے، حالانکہ وہاں لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے اشد ضرورت ہے۔

 

قحط اور خوراک و ادویات کی کمی

 

فریڈرش رسٹ کے مطابق وہاں عام لوگوں کے پاس نہ کھانے کے لیے خوراک ہے اور نہ ہی بیماروں کے لیے ادویات، جبکہ ہر طرف موت اور خونریزی کے خطرات موجود ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ دارفور کے علاقے الفاشر اور کاڈوگلی میں پہلے ہی قحط کا اعلان کیا جا چکا ہے، جبکہ دارفور اور کردوفان کے تقریباً 20 دیگر علاقوں میں جنوری 2026ء تک قحط کے خطرات لاحق ہیں۔

 

عالمی امداد ناکافی

 

ان حالات میں عالمی برادری کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد نہ ہونے کے برابر ہے اور یورپی یونین کی طرف سے جو امداد فراہم کی جا رہی ہے، وہ بھی صورتِ حال کی سنگینی کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر امدادی کارروائی نہ کی گئی تو سوڈان میں انسانی المیہ مزید گہرے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، اور لاکھوں شہری بھوک، بیماری اور تشدد کے سامنے مزید بے بس ہو جائیں گے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C