17/February/2026

حماس کو 60 دن کی مہلت، ورنہ فوجی کارروائی مکمل کریں گے، اسرائیل

👁️ 182 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حماس کو 60 دن کی مہلت، ورنہ فوجی کارروائی مکمل کریں گے، اسرائیل

حماس کو 60 دن کی مہلت، ورنہ فوجی کارروائی مکمل کریں گے، اسرائیل

تل ابیب (ڈیلی اردو) اسرائیلی حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا ہے کہ حماس کے پاس ہتھیار ڈالنے کے لیے 60 روز ہیں، بصورت دیگر اسرائیلی فوج غزہ میں اپنا مشن خود مکمل کرے گی۔

 

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بیان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی معاون اور کابینہ سیکریٹری یوسی فوکس نے ایک حالیہ انٹرویو میں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 60 روز کی یہ مہلت امریکی درخواست پر دی جا رہی ہے اور اسرائیل نے اس ضمن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی خواہش کا احترام کیا ہے۔

 

یوسی فوکس کے مطابق اس مدت کے دوران حماس کو تمام ہتھیار، حتیٰ کہ رائفلیں اور اے کے-47 تک اسرائیل کے حوالے کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس عمل کا جائزہ لے گا اور اگر یہ مؤثر ثابت نہ ہوا تو فوج کو کارروائی مکمل کرنا پڑے گی۔

 

ان کے بقول ممکن ہے کہ جون میں متوقع اسرائیلی انتخابات سے قبل یا تو حماس ہتھیار ڈال دے گی یا پھر غزہ میں شدید نوعیت کی فوجی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل میں حماس کی تیار کردہ تمام سرنگوں کی تباہی بھی شامل ہوگی، حتیٰ کہ سرحد کے اسرائیلی حصے میں موجود سرنگیں بھی ختم کی جائیں گی۔

 

غزہ سرحد کے قریب واقع کیبوتس بیئری کا حوالہ دیتے ہوئے یوسی فوکس نے دعویٰ کیا کہ وہاں اب کھیتوں سے سمندر دکھائی دیتا ہے، جو ان کے بقول غزہ میں بلند عمارتوں کی وسیع تباہی کی علامت ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ “کام ابھی مکمل نہیں ہوا”۔

 

تاحال یہ واضح نہیں کہ 60 روزہ مہلت کا آغاز کب سے تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ اس حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم، امریکی صدر یا حماس کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C