25/November/2025

خوست، پکتیکا اور کنڑ میں پاکستانی فضائی حملے؛ خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک

👁️ 341 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خوست، پکتیکا اور کنڑ میں پاکستانی فضائی حملے؛ خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک

خوست، پکتیکا اور کنڑ میں پاکستانی فضائی حملے؛ خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک

کابل (نمائندہ ڈیلی اردو) افغانستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں رات گئے مبینہ پاکستانی فضائی حملوں میں کئی شہری ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔

 

ڈیلی اردو کے مطابق یہ حملے پکتیکا، خوست اور کنڑ کے مختلف علاقوں میں کیے گئے۔

 

خوست صوبے کے ضلع گربزو کے علاقے مغل گائی میں رات تقریباً 12 بجے ہونے والے ایک فضائی حملے کے بارے میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ طور پر پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کیا گیا۔

 

حملے میں مقامی شہری ولایت خان ولد قاضی میر کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 9 بچے (پانچ لڑکے اور چار لڑکیاں) اور ایک خاتون ہلاک ہو گئے، جبکہ گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

کنڑ اور پکتیکا میں بھی فضائی حملوں کی اطلاعات ہیں، جن میں چار شہری زخمی ہوئے۔

 

عینی شاہدین کے مطابق حملے رات گئے ہوئے، جن کے بعد مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ 

 

متعدد رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ حملوں سے کچھ دیر قبل متعلقہ علاقوں کی فضاؤں میں ڈرون طیارے بھی دیکھے گئے تھے۔ 

 

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خوست کے ضلع گربزو کے علاقے مغل گائی میں پاکستانی افواج نے ولایت خان کے گھر پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 9 بچے اور ایک خاتون ہلاک ہو گئے اور گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

 

ترجمان کے مطابق خوست کے علاوہ کنڑ اور پکتیکا میں بھی فضائی حملے ہوئے، جن میں چار شہری زخمی ہوئے۔ 

 

ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر بھی جاری کیں ہیں۔

 

ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی فضائی تجاوزات افغانستان کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

 

پاکستانی حکام نے فضائی حملوں کے بارے میں تاحال کوئی فوری بیان جاری نہیں کیا ہے۔

 

ادھر، امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہلاک شدگان کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ 

 

زلمے خلیل زاد نے کہا کہ شہریوں کا قتل اور ایک بڑے تنازعہ کا خطرہ پیدا کرنا افغانستان اور پاکستان کے مسائل کا حل نہیں ہے، اور صبر و حقیقت پسندانہ سفارتکاری ہی بہتر راستہ ہے۔

 

زلمے خلیل زاد کے مطابق ایک سینئر ترک وفد جلد اسلام آباد اور شاید کابل بھی جائے گا تاکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان یہ معاہدہ کرایا جا سکے کہ دونوں ممالک اپنی سرزمین کو ایسے گروپوں یا افراد کے لیے استعمال نہ ہونے دیں جو ایک دوسرے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس معاہدے میں ایک آپریشن یا مانیٹرنگ دفتر قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو ممکنہ طور پر انقرہ میں قائم ہوگا اور ترک، قطری، افغان اور پاکستانی حکام اس میں شامل ہوں گے۔ یہ دفتر نہ صرف نگرانی کرے گا بلکہ خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہونے پر مسائل کے حل میں بھی مدد کرے گا۔

 

زلمے خلیل زاد نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے افغانستان اور پاکستان دونوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C