07/April/2025

دہشتگردی کنٹرول کرنا عدالت نہیں، پارلیمان کا کام ہے، جسٹس جمال مندوخیل

👁️ 140 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
دہشتگردی کنٹرول کرنا عدالت نہیں، پارلیمان کا کام ہے، جسٹس جمال مندوخیل

دہشتگردی کنٹرول کرنا عدالت نہیں، پارلیمان کا کام ہے، جسٹس جمال مندوخیل

اسلام آباد (ڈیلی اردو) سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے ہیں کہ “دہشت گردی پر قابو پانا عدالت کا نہیں بلکہ پارلیمان کا کام ہے۔ اگر عدالتیں یہ سوچنے لگیں کہ کسی فیصلے سے دہشتگردی بڑھے گی یا کم ہوگی، تو وہ فیصلہ نہیں کر سکیں گی۔”

یہ ریمارکس پیر کے روز سپریم کورٹ کے سات رکنی آئینی بینچ کی جانب سے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔ بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے ہیں۔

سماعت کے دوران وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے جوابی دلائل جاری رکھے، تاہم دلائل مکمل نہ ہو سکے۔ خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی سویلین کسی فوجی تنصیب کو نقصان پہنچائے یا ٹینک چوری کرے، تو اس پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ گرفتاری سے قبل ایف آئی آر ضروری ہے، جب کہ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ کسی کی گرفتاری کے بعد اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا قانونی تقاضا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ فوجی عدالتیں اگر آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت نہیں آتیں، تو پھر ان کی آئینی حیثیت کیا ہے؟ خواجہ حارث نے اس پر جواب دیا کہ کورٹ مارشل کے لیے آئین میں الگ سے دائرہ کار موجود ہے اور اس حوالے سے عدالتی فیصلے بھی موجود ہیں۔

عدالت نے سماعت منگل تک ملتوی کر دی ہے، جس میں وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C