03/December/2025

روس-یوکرین جنگ: دنیا کی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں نے اربوں ڈالر کمائے

👁️ 290 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
روس-یوکرین جنگ: دنیا کی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں نے اربوں ڈالر کمائے

روس-یوکرین جنگ: دنیا کی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں نے اربوں ڈالر کمائے

اسٹاک ہولم (ڈیلی اردو رپورٹ) اسٹاک ہولم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سیپری) کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی 100 سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں نے 2024 میں مجموعی طور پر 679 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جو 2023 کے مقابلے میں 5.9 فیصد اضافہ ہے۔ بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشیدگی اور خصوصاً یوکرین کی جنگ نے اسلحہ کی عالمی مانگ میں اضافہ کیا۔ 

 

سیپری کے ماہر نان ٹیان کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں اسلحہ ساز کمپنیوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے نئے فوجی سازوسامان کی تیاری، ذخائر کی بھرائی اور تباہ شدہ آلات کا متبادل تیار کرنا۔

 

فہرست میں شامل 100 کمپنیوں میں سے 39 کمپنیوں کا تعلق امریکہ سے ہے، جو دنیا کی نصف آمدنی کی مالک ہیں، مگر ان کی ترقی کی شرح صرف 3.8 فیصد رہی۔ اس کے برعکس روس کو چھوڑ کر یورپ کی 26 کمپنیوں نے مجموعی طور پر اپنی آمدنی میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جبکہ جرمن کمپنیوں نے خاص طور پر شاندار کارکردگی دکھائی، جہاں ترقی کی شرح 36 فیصد تک پہنچی۔ 

 

نان ٹیان کے مطابق جرمن کمپنیوں کی یہ ترقی تقریباً مکمل طور پر یوکرین پر روس کے حملے اور جرمن مسلح افواج کی بڑھتی ہوئی مانگ سے منسلک ہے، جس میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور گولہ بارود شامل ہیں۔ جرمن کمپنیوں میں رائن میٹل، تھائسن کروپ، ہینسولٹ اور ڈیل شامل ہیں، جن کی مجموعی آمدنی 14.9 ارب ڈالر رہی۔

 

روس کی صورتِ حال

 

سپری کی رپورٹ میں روس کو الگ سے شامل کیا گیا ہے، اور روسی اسلحہ ساز کمپنیوں نے پابندیوں کے باوجود ملکی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ سے نمایاں ترقی دکھائی۔ توپ خانے کے 152 ملی میٹر گولوں کی پیداوار میں 2022 سے 2024 کے دوران 420 فیصد اضافہ ہوا، یعنی 2.5 لاکھ سے بڑھ کر 13 لاکھ تک۔ نان ٹیان کے مطابق روس کی معیشت اب اس حد تک بدل چکی ہے کہ اگر یوکرین میں دیرپا امن بھی قائم ہو جائے، تب بھی غیر جنگی معیشت کی طرف واپس جانا مشکل ہو گا۔

 

چین اور ایشیا

 

ایشیا میں شامل 23 کمپنیوں کی آمدنی 2023 کے مقابلے میں کم رہی، جس میں خاص طور پر چین کی کمپنیوں کی آمدنی میں 10 فیصد کمی ہوئی۔ نان ٹیان کے مطابق اس کی وجہ کرپشن کے الزامات اور بڑے اسلحہ آرڈرز کی منسوخی ہے، جبکہ خطے کی پُرامن صورتحال کا اس کمی سے کوئی تعلق نہیں۔

 

مشرق وسطیٰ اور ترکی

 

مشرق وسطیٰ کی نو کمپنیوں نے 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جن میں تین اسرائیل میں قائم ہیں، جہاں ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام کی خاصی مانگ ہے۔ ترکی کی کمپنیوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا، تاہم بائیکار اپنی یوکرین برآمدات دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

 

دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنیاں

 

سیپری کے مطابق دنیا کی پانچ سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنیاں ہیں: لاک ہیڈ مارٹن (ایف-35 لڑاکا طیارے)، آر ٹی ایکس (سابقہ ریتھیون ٹیکنالوجیز)، نارتھروپ گرومن (طویل فاصلے کے میزائل)، بی اے ای سسٹمز اور جنرل ڈائنامکس۔ ان میں سے چار کمپنیاں امریکہ میں واقع ہیں، جبکہ بی اے ای سسٹمز برطانیہ کی کمپنی ہے۔

 

جرمن کمپنیوں کی تفصیلات

 

رائن میٹل نے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور گولہ بارود کی فروخت سے 47 فیصد زیادہ آمدنی حاصل کی۔ کے این ڈی ایس اتحاد، جو جرمن و فرانسیسی ٹینک ساز کمپنیوں کا مجموعہ ہے، نے آرڈرز میں 40 فیصد اضافہ اور آمدنی میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ ڈیل کو یوکرین کے زمینی فضائی دفاعی نظام کے لیے بڑے آرڈرز موصول ہوئے، جبکہ ایک سو پچپن ملی میٹر توپ خانے کے گولوں کا آرڈر کمپنی کی تاریخ کا سب سے بڑا گولہ بارود آرڈر ثابت ہوا۔

 

سیپری کی رپورٹ کے مطابق 2024 اسلحہ ساز کمپنیوں کے لیے تاریخ کا سب سے منافع بخش سال رہا، اور یوکرین کی جنگ اور عالمی کشیدگی نے عالمی سطح پر اسلحہ کی فروخت میں تاریخی اضافہ یقینی بنایا۔

 

امریکہ میں کمپنیاں سب سے آگے

 

سپری کے مطابق دنیا کی پانچ سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنیاں یہ ہیں: لاک ہیڈ مارٹن (جو ایف-35 لڑاکا طیارے بناتی ہے)، آر ٹی ایکس، سابق نام ریتھیون ٹیکنالوجیز،(جو طیاروں کے انجن اور ڈرونز تیار کرتی ہے)، نارتھروپ گرومن (جو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بناتی ہے)، بی اے ای سسٹمز اور جنرل ڈائنامکس (جو ایٹمی آبدوزیں اور گائیڈڈ میزائل تیار کرتی ہے)۔ بی اے ای سسٹمز کے علاوہ باقی تمام کمپنیاں امریکہ میں واقع ہیں۔

 

سن دو ہزار سترہ کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امریکہ سے باہر کی کوئی کمپنی، یعنی برطانوی بی اے ای سسٹمز، دنیا کی پانچ سب سے بڑی کمپنیوں میں شامل ہوئی ہے۔ موازنہ کے طور پر، یورپی ایئربس کنسورشیم کا فوجی شعبہ دنیا کی 100 اہم کمپنیوں میں 13ویں نمبر پر ہے، جبکہ جرمن کمپنی رائن میٹل 20ویں مقام پر ہے۔

 

سن دو ہزار چوبیس میں ان 100 کمپنیوں میں سے چار جرمنی میں قائم تھیں: رائن میٹل، تھائسن کروپ، ہینسولٹ اور ڈیل۔ ان سب کی مجموعی آمدنی 14.9 ارب ڈالر رہی۔ یوکرین کی جنگ کے باعث بڑی تعداد میں آرڈرز موصول ہوئے، خصوصاً ڈیل کو، جس کے زمینی فضائی دفاعی نظاموں کی مانگ میں اضافہ ہوا۔

 

ایک سو پچپن ملی میٹر توپ خانے کے گولوں کا آرڈر، جو جرمن مسلح افواج (بُنڈس ویئر) کے لیے دیا گیا، کمپنی کی تاریخ کا سب سے بڑا گولہ بارود آرڈر ہے۔ رائن میٹل نے ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور گولہ بارود کی فروخت سے 47 فیصد زیادہ آمدنی حاصل کی۔

 

کے این ڈی ایس جو جرمن و فرانسیسی ٹینک ساز، کمپنیوں کراس مافی، ویگ مین اور نیکسٹر کا اتحاد ہے،42ویں نمبر پر ہے۔ یہ مشترکہ منصوبہ بھی ترقی کر رہا ہے۔ آرڈرز کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ہوا جو آمدنی کے 14 فیصد اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہاں بھی یوکرین کی جنگ اور روس کے خطرے نے آرڈرز میں اضافہ یقینی بنایا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C