28/March/2025

ریٹائرڈ ایئر مارشل جواد سعید کا کورٹ مارشل، 4 سال قید کی سزا برقرار

👁️ 203 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ریٹائرڈ ایئر مارشل جواد سعید کا کورٹ مارشل، 4 سال قید کی سزا برقرار

ریٹائرڈ ایئر مارشل جواد سعید کا کورٹ مارشل، 4 سال قید کی سزا برقرار

اسلام آباد (نمائندہ ڈیلی اردو) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان فضائیہ کے ریٹائرڈ ایئر مارشل جواد سعید کی اہلیہ کی جانب سے دائر کی گئی حبس بے جا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان پر 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب جواد سعید کے خلاف آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت کارروائی مکمل ہو چکی ہے، تو یہ درخواست غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔

عدالتی کارروائی اور حکومت کا مؤقف

درخواست گزار شازیہ جواد کی درخواست پر جسٹس خادم حسین سومرو نے سماعت کی۔ رجسٹرار آفس نے اس درخواست پر اعتراض کیا تھا کہ اس میں ایئر چیف مارشل کو فریق نہیں بنایا جا سکتا۔ سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جواد سعید پر حساس معلومات لیک کرنے کے الزامات کے تحت کورٹ مارشل کیا گیا تھا اور انھیں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم اپیل کے بعد یہ سزا کم کر کے چار سال کر دی گئی۔

عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا کورٹ مارشل اور اپیل کے فیصلے کا تحریری حکم موجود ہے؟ اس پر عدالت کو بتایا گیا کہ مکمل حکم نامہ فراہم نہیں کیا جا سکتا، تاہم ایک پیراگراف موجود ہے جس میں الزامات اور سزا کا ذکر ہے۔

درخواست گزار کا مؤقف

ریٹائرڈ ایئر مارشل جواد سعید کی اہلیہ کے وکیل عبدالوحید ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے تحویل میں رکھا گیا ہے اور ان کے اہل خانہ کو اس حوالے سے مکمل معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جواد سعید کی گرفتاری کے بعد ان کے وکیل کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ان کے خلاف کس بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے، یہ بھی واضح نہیں کیا جا رہا۔

درخواست گزار کے وکیل نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ جواد سعید چونکہ 2021 میں ریٹائر ہو چکے ہیں، اس لیے ان پر پاکستان ایئر فورس ایکٹ 1953 کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق، جواد سعید کو یکم جنوری 2024 کو ان کے گھر سے اٹھایا گیا اور تب سے ان کے خاندان کو مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

کورٹ مارشل کے فیصلے پر سوالات

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر جواد سعید کا کورٹ مارشل ہو چکا ہے اور انھیں سزا بھی سنائی جا چکی ہے، تو انھیں جیل بھیجنے کے بجائے تحویل میں کیوں رکھا گیا ہے؟ تاہم، وزارت دفاع کے نمائندے اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر واقعی کورٹ مارشل ہوا ہے تو اس کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ اس پر وزارت دفاع کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ ایئر چیف مارشل نے کورٹ مارشل کا مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی۔

درخواست خارج، وکیل کا قانونی چارہ جوئی کا اعلان

عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواست مسترد کرتے ہوئے 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ فیصلے کے بعد درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ جواد سعید کے کورٹ مارشل اور ان کے خلاف کیے گئے قانونی اقدامات کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔

ریٹائرڈ ایئر مارشل جواد سعید کون ہیں؟

ریٹائرڈ ایئر مارشل جواد سعید جولائی 2018 میں وائس ایئر مارشل سے ترقی پا کر ایئر مارشل بنے تھے اور مارچ 2021 میں ریٹائر ہوئے۔ انھیں ستارہ امتیاز اور تمغہ امتیاز سمیت سرکاری اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں اہم عہدوں پر فائز رہے، جن میں اسسٹنٹ چیف آف ایئر اسٹاف (آپریشنز) اور ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف (آپریشنز) شامل ہیں۔

ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کی گرفتاری اور ان پر عائد کیے گئے الزامات غیر قانونی ہیں اور ان کی پنشن بھی بند کر دی گئی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ جواد سعید کو عدالت میں پیش کر کے قانونی کارروائی کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں۔

اپیل کرنے کا فیصلہ

درخواست گزار کے وکیل عبدالوحید ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے اور جواد سعید کے خلاف کیے گئے اقدامات کو قانونی طور پر چیلنج کریں گے۔ اس کیس میں مزید پیش رفت آئندہ دنوں میں سامنے آ سکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C