09/September/2024

سائبر حملوں کیلئے روسی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی ذمہ دار، جرمنی

👁️ 137 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سائبر حملوں کیلئے روسی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی ذمہ دار، جرمنی

سائبر حملوں کیلئے روسی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی ذمہ دار، جرمنی

برلن (ڈیلی اردو/رائٹرز/ڈی پی اے/بی ایف وی) جرمن انٹیلیجنس ایجنسی نے ماسکو پر جرمن سیاستدانوں اور کمپنیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر تخریب کاری کی کارروائیوں کا الزام لگایا ہے۔ اسی فوجی انٹیلی جنس نے روس کے حملے کے بعد یوکرین کے اہداف کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

جرمنی کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی (بی ایف وی) نے پیر کو ایک انتباہ جاری کیا ہے کہ روسی ملٹری انٹیلی جنس( جی آر یو) سے تعلق رکھنے والے سائبر کرائم گروپ کا نیٹو اور یورپی یونین کے ممالک کے خلاف متعدد آن لائن حملوں کے پیچھے ہاتھ ہے۔

بی ایف وی نے امریکی انٹیلی جنس اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کرتفتیش کے دوران پایا کہ جی آر یو سے تعلق رکھنے والی یونٹ 29155 سے تعلق رکھنے والا گروپ “کم از کم 2020 کے بعد سے جاسوسی، تخریب کاری، اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مقاصد کے لیے عالمی اہداف کے خلاف کمپیوٹر نیٹ ورک آپریشنز کے ذمہ دار ہے۔”

اس نے خبردار کیا کہ یونٹ، جسے کیڈٹ بلیزارڈ یا امبر بیئر بھی کہا جاتا ہے، جنوری 2022 میں یوکرینی اہداف پر سائبر حملوں کے پیچھے تھا، اس سے ایک ماہ قبل روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔

ایس پی ڈی سائبر اٹیک کے پیچھے بھی غالباﹰ اسی یونٹ کا ہاتھ

یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب برلن نے ماسکو پر حکمران سوشل ڈیموکریٹس، اور آئی ٹی، لاجسٹک اور ایرو اسپیس کے شعبوں میں متعدد جرمن کمپنیوں کے خلاف سائبر حملوں کا الزام لگایا تھا۔ ان حملوں میں حساس ڈیٹا کی چوری اور ان کی اشاعت شامل تھا۔

اسی جی آر یو یونٹ پر ہی 2018 میں برطانیہ میں سرگئی اسکرپال اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کے پیچھے ہاتھ ہونے کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C