04/October/2025

سرکریک تنازعہ: پاکستان کی تاریخ و جغرافیہ بدل دینگے، بھارتی وزیر دفاع

👁️ 482 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سرکریک تنازعہ: پاکستان کی تاریخ و جغرافیہ بدل دینگے، بھارتی وزیر دفاع

سرکریک تنازعہ: پاکستان کی تاریخ و جغرافیہ بدل دینگے، بھارتی وزیر دفاع

نئی دہلی (ڈیلی اردو/بی بی سی/نیوز ایجنسیاں) بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے سرکریک سیکٹر میں کوئی مہم جوئی کی تو انڈیا کا شدید ردعمل پاکستان کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں کو بدل دے گا۔

 

یہ بات انھوں نے جمعرات کو ریاست گجرات میں بھج فوجی اڈے کے دورے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ اس تقریب میں انڈین فوج کے سربراہ سمیت سینیئر عسکری قیادت موجود تھی۔

راج ناتھ سنگھ نے متعلقہ تفصیلات فراہم کیے بغیر دعویٰ کیا کہ پاکستان سرکریک سیکٹر میں اپنا فوجی عمل دخل بڑھا رہا ہے اور انفرا سٹرکچر بھی تعمیر کر رہا ہے جو اُن کے بقول ’پاکستان کی بدنیتی‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

 

پاکستان کے دفتر خارجہ یا فوج کی جانب سے انڈین وزیر دفاع کے بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

 

راج ناتھ سنگھ کا مزید دعویٰ تھا کہ انڈیا کی جانب سے مذاکرات کی متعدد کوششوں کے باوجود پاکستان نے گذشتہ 78 برسوں سے سرکریک کے علاقے کو متنازع بنایا ہوا ہے۔

 

انھوں نے دعویٰ کیا کہ سنہ 1965 کی جنگ میں انڈین فوج لاہور تک پہنچ گئی تھی اور ’2025 میں پاکستان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سرکریک سے ہوتی ہوئی ایک سڑک کراچی تک جاتی ہے۔‘

 

اس موقع پر راج ناتھ سنگھ نے سٹریٹجک اہمیت کے حامل سرکریک سیکٹر میں دو اہم تنصیبات کا ورچوئل افتتاح بھی کیا، جن میں ٹئی ڈل انڈیپینڈنٹ برتھنگ فسیلٹی اور مشترکہ کنٹرول سینٹر شامل ہیں۔

 

انھوں نے کہا کہ اس منصوبے کی مدد سے ساحل پر سکیورٹی آپریشنز بہتر ہوں گے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف فوری ردعمل دینے کی انڈین صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔

 

انھوں نے تقریب کے دوران ’آپریشن سندور‘ میں انڈین فوج کی بہترین کارکردگی کو سراہا اور دعویٰ کیا کہ دورانِ جنگ انڈین فوج نے دفاعی نیٹ ورک میں پاکستانی دراندازی کی کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنایا گیا۔

 

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ انڈیا کو بیرونی جارحیت، دہشت گرد تنظیموں اور سائبر وار فیئر جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

 

پاکستان اور انڈیا کے مابین سرکریک کا تنازع کیا ہے؟

پاکستان اور انڈیا کے مابین سرکریک کے علاقے میں سمندری حدود پر تنازع ہے اور کئی بار دونوں ممالک نے اس معاملے پر مذاکرات بھی کیے ہیں جو کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

 

جنوری 2006 میں دونوں ممالک کے ماہرین نے سرکریک کے علاقے کا مشترکہ سروے کروایا تھا اور متفقہ نقشے کے ساتھ سمندری حدود کے تعین کے بارے میں اپنے اپنے موقف پر مبنی سفارشات کا تبادلہ کیا تھا۔

سنہ 2007 میں ہونے والی ملاقات میں بعض ایسے نئے نکات اٹھائے گئے تھے جس کے بعد دوبارہ سروے کرنے فیصلہ کیا گیا تھا۔

 

سرکریک کی حد بندی سے متعلق انڈیا کا موقف رہا ہے کہ باؤنڈری یعنی سرحد، کھاڑی کے وسط تک ہے، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ کھاڑی کے مشرقی کنارے پر سرحد واقع ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C