20/September/2025

سوڈان میں ہولناک مظالم کی نشاندہی: ہزاروں ہلاکتیں اور سیکڑوں جنسی تشدد کے واقعات

👁️ 369 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سوڈان میں ہولناک مظالم کی نشاندہی: ہزاروں ہلاکتیں اور سیکڑوں جنسی تشدد کے واقعات

سوڈان میں ہولناک مظالم کی نشاندہی: ہزاروں ہلاکتیں اور سیکڑوں جنسی تشدد کے واقعات

خرطوم (ڈیلی اردو)اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 کے پہلے چھ ماہ کے دوران سوڈان میں 3 ہزار 384 شہری ہلاک ہوئے، جن میں سے 990 افراد جنگی کارروائیوں سے ہٹ کر غیر قانونی طور پر قتل کیے گئے۔ اس عرصے میں جنسی تشدد کے 201 واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 30 جون 2025 تک ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 191 بچے بھی شامل ہیں۔ 2 ہزار 394 افراد جنگی لڑائیوں کے دوران مارے گئے جبکہ 990 افراد غیر قانونی قتل کا نشانہ بنے۔

سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ دارفور رہا جہاں 1 ہزار 535 شہری ہلاک ہوئے، جن میں 1 ہزار 380 صرف شمالی دارفور سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد کردفان میں 724 اور دارالحکومت خرطوم میں 691 افراد جان سے گئے، جبکہ دیگر ہلاکتیں جزیرہ، نیل الابیض، سنار، نہر النیل، شمالی ریاست، نیل ازرق اور کسلا میں ہوئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ اعداد و شمار سوڈان میں اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس آفس کی نگرانی، متاثرین، عینی شاہدین اور مشن کی فیلڈ وزٹس پر مبنی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز میں وسطی سوڈان میں لڑائی شدت اختیار کر گئی تھی، بعد ازاں فوج نے جزیرہ پر دوبارہ قبضہ کیا اور مئی میں خرطوم پر بھی کنٹرول حاصل کیا۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ اس دوران جنسی تشدد کو شہریوں کے خلاف دہشت اور سزا کے ہتھیار کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔ 201 دستاویزی واقعات میں زیادہ تر الزام "ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF)" پر عائد کیا گیا ہے، جن میں انفرادی و اجتماعی ریپ، جنسی غلامی اور جبری شادی کے کیسز شامل ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ زمزم کیمپ پر حملے کے دوران RSF کے جنگجوؤں نے منظم انداز میں اجتماعی ریپ کیا۔ ایک واقعے میں 12 جنگجوؤں نے پانچ خواتین کو بچوں کے سامنے اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا، جن میں بعض خواتین بعد میں حاملہ بھی ہو گئیں۔ مزید برآں، خرطوم میں جنوری اور فروری 2025 کے دوران خواتین کو مجبور کیا گیا کہ وہ کھانے یا اپنے عزیزوں کی رہائی کے بدلے جنگجوؤں کو جنسی خدمات فراہم کریں۔

رپورٹ کے مطابق فوجی اہلکاروں کی جانب سے بھی جنسی تشدد کے واقعات سامنے آئے، جہاں شمالی کردفان کے علاقے شیکان کی ایک گاؤں میں چار خواتین کو ریپ کیا گیا، جب گاؤں والوں پر RSF سے تعاون کا الزام لگایا گیا۔

مزید یہ کہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس عرصے میں 624 شہریوں کو بلاجواز گرفتار کیا گیا، جن میں 421 گرفتاریاں RSF جبکہ باقی فوج کے کھاتے میں ڈال دی گئیں۔ کردفان میں فوجی فتوحات کے بعد وسیع پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں اور کئی افراد کو RSF سے تعلق کے شبہے میں حراست میں لیا گیا۔

رپورٹ میں 127 جبری گمشدگیوں کا بھی ذکر کیا گیا جن میں زیادہ تر کے پیچھے RSF کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا، خاص طور پر دارفور اور خرطوم میں۔

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں بچوں کی جبری بھرتی اور استعمال ختم کرنے، تمام مظالم پر جواب دہی یقینی بنانے، آزاد اور شفاف تحقیقات کی بحالی، عدلیہ کی آزادی، صحت، تعلیم اور پانی کی سہولیات کی بحالی پر زور دیا۔

مزید برآں، رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ فریقین پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ عالمی قوانین کی پاسداری کریں اور احتساب کے اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان افراد اور گروہوں پر پابندیاں عائد کرے جو ان جرائم میں ملوث ہیں۔

آخر میں رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ سوڈان کے معاملے کو عالمی فوجداری عدالت کے حوالے کیا جائے تاکہ 15 اپریل 2023 سے شروع ہونے والے تنازع کے بعد ہونے والے جرائم پر مؤثر احتساب ممکن بنایا جا سکے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C