08/November/2023

سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے خلاف درخواست پر سماعت

👁️ 143 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے خلاف درخواست پر سماعت

سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے خلاف درخواست پر سماعت

اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) سپریم کورٹ میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف زمینوں پر مبینہ قبضے سے متعلق درخواست پر سماعت جاری ہے۔

عدالت نے درخواست گزار معید احمد خان کے وکیل کو تیاری کے لیے وقت دیتے ہوئے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کیا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے کہا کہ ’آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اب اس کیس میں خود پیش ہوں گے یا کسی وکیل کی خدمات لیں گے۔‘

درخواست گزار نے کہا کہ ’کل ہی وکیل کیا ہے، سماعت کو مختصر عرصے کے لیے ملتوی کر دیں۔‘ چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ التوا نہیں دیں گے ابھی ہی تیاری کر لیں۔ درخواست گزار کنور معیز احمد خان نجی ہاوسنگ سوسائٹی ٹاپ سٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔

خیال رہے کہ درخواست گزار کے مطابق 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق ’میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا۔‘

درخواست گزار نے استدعا کی کہ وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔

درخواست گزار نے عدالت سے فیض حمید کے خلاف شواہد پیش کرنے کی بھی اجازت طلب کی ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے اور کیا ماضی میں سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کاررروائی نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق اس معاملے میں وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التوا ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ زاہدہ نامی خاتون فوت ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس نے سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کرتے ہوئے بتایا کہ التوا نہیں ملے گا، مقدمے کا جائزہ لے کر دوبارہ دلائل دیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C