سپریم کورٹ کے فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پر پی ٹی آئی کی نظرِ ثانی درخواست دائر
👁️ 70 بار دیکھا گیا
سپریم کورٹ کے فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پر پی ٹی آئی کی نظرِ ثانی درخواست دائر
اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے نومبر 2017 میں راولپنڈی کے علاقے فیض آباد میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے دھرنے کے کیس کے 6 فروری کو سنائے گئے فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کردی۔
درخواست کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے میں خامیاں ہیں اور انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
تحریک انصاف نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ 6 فروری کے فیصلے میں سے 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کے حوالے سے دیے گئے چند ریمارکس حذف کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس 2017 میں ہونے والے تحریک لبیک کے دھرنے کے حوالے سے تھا نہ کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے کے حوالے سے
درخواست میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی، پی اے ٹی کے دھرنے کا حوالہ پیراگراف 17، 22، 23، 24 اور 52 میں دیا گیا جس سے یہ تاثر گیا کہ درخواست گزار نے اپنی تشہیر کے لیے غیر قانونی دھرنا اور جھوٹے الزامات لگائے’۔
تحریک انصاف کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن کو جن بنیادوں پر دائر کیا گیا وہ مندرجہ ذیل ہیں:
1: فیض آباد دھرنا کے ختم ہونے کے بعد دیے ریمارکس غیر ضروری اور حذف کے قابل ہیں۔
2: درخواست گزار نے دھرنا حقیقی وجوہات پر پاکستان میں عوام کے بنیادی حقوق کے مطابق دیا تھا، دھرنا نہ ہی تشہیر کے لیے تھا اور نہ ہی اس کے کوئی دیگر مقاصد تھے، درخواست گزار پاکستان کی عوام کے حقوق کے سیاسی مطالبے کے ساتھ کھڑا ہوا تھا، درخواست گزار کا فیض آباد دھرنے سے کوئی تعلق نہیں جس کی وجہ سے نظر ثانی کے لیے دیے گئے ریمارکس کو حذف کیا جانا چاہیے۔
3: عدالت کی جانب سے دیے گئے ریمارکس درخواست گزار کا موقف سنے اور وضاحت کا موقع دیے بغیر دیے گئے جس کی وجہ سے ایسے ریمارکس کو حذف کیا جانا چاہیے۔
تحریک انصاف کی جانب سے فیض آباد دھرنے کے فیصلے کے خلاف آج جمع کرائی گئی درخواست پہلی درخواست نہیں تھی، اس سے قبل 12 اپریل کو بھی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ سے 6 فروری کے فیصلے کو معطل کرنے کی درخواست دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر جانب دار ہونے کا الزام لگایا تھا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل ارشد داد کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر ظفر علی سید کے توسط سے جمع کروائی گئی درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس مقدمے کا فیصلہ لکھنے والے جج 2014 میں پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے اسلام آباد میں دیے گئے دھرنے، درخواست گزار اور اس کے اراکین کے کردار کے حوالے سے اس حد تک تعصب رکھتے ہیں کہ وہ معاملے میں 2014 کے دھرنے کا حوالہ لے آئے، لہٰذا درخواست گزار کہ یہ تحفظات بالکل جائز ہیں کہ یہ فیصلہ لکھنے والے جج مبینہ طور پر جانبدار تھے۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ اس فیصلے میں 2014 میں پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دیے گئے دھرنے کا حوالہ دیا گیا تھا کہ جو اس کے ذمے دار تھے انہیں صاف بچ کر نکلنے دیا گیا اور ریکارڈ پر موجود مواد اور حقائق کی جانچ کے بغیر وہ افراد اہم سرکاری عہدوں پر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں 2014 میں پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دیے گئے دھرنے کا حوالہ دیا گیا تھا کہ جو اس کے ذمے دار تھے انہیں صاف بچ کر نکلنے دیا گیا اور ریکارڈ پر موجود مواد اور حقائق کی جانچ کے بغیر وہ افراد اہم سرکاری عہدوں پر موجود ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ کیونکہ اس مبینہ جانبدارانہ رویے سے پورا فیصلہ داغدار ہو گیا تو اس کے کسی بھی حصے کو حذف کیا جانا ناممکن ہے لہٰذا یہ فیصلہ دوبارہ دیکھ کر اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست میں عدالتی قواعد و ضوابط کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست گزار نے کہا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ لکھنے والے جج سپریم کورٹ کے جج کے طور پر برقرار رہنے کے لیے نااہل ہو گئے ہیں کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر اس ضابطے کے آرٹیکل3 کی خلاف ورزی کی جو یہ کہتا ہے کہ ججز کو ناراضی کے اظہار سے بلند تر ہونا چاہیے اور معاملات چاہے ذاتی ہوں یا سرکاری، ججز کو اپنا رویہ ہر صورت میں کسی بھی معاملے میں نامناسب نہیں رکھنا چاہیے۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ جس فیصلے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وہ نامکمل معلومات پر مبنی رائے، اندازوں اور مفروضوں کے دائرے کار میں آتا ہے کیونکہ کسی بھی قسم کے حقائق پیش نہیں کیے گئے اور یہ بات ایک راز ہے کہ کس بنیاد پر اس طرح کا فیصلہ دیا گیا، فیصلے میں مذہب، سیاست اور اخلاقی اصولوں پر سخت ریمارکس دینے کے باوجود یہ کہا گیا ہے کہ عدالتی اختیارات آئین کے آرٹیکل 183(3) کے ضمرے میں آتے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ 6فروری کے فیصلے سے ان کا نام نکالا جائے۔
ایڈووکیٹ امان اللہ کنرانی کے ذریعے جمع کروائی گئی ان کی نظرثانی کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ یہ استدعا کی جاتی ہے 6 فروری 2019 کے مشکوک حکم کے خلاف سول ریویو پٹیشن کو یہ اجازت دی جائے کہ انصاف کے مفاد میں تحریک لبیک پاکستان کے دھرنے کے فیصلے کے پیرا 4 میں موجود درخواست گزار کا نام نکالا جائے۔
درخواست میں شیخ رشید احمد نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگر اس فیصلے کے پیرا 4 سے ان کا نام نہ نکالا گیا تو اس سے ان کی زندگی اور ساکھ پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوں گے۔
اس فیصلے میں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد، پاکستان مسلم لیگ ضیا کے اعجاز الحق، پی ٹی آئی علما ونگ اسلام آباد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شیخ حمید شیخ کے نام شامل تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بولیویا میں فوجی اڈے کے اندر زور دار دھماکا، 10 افراد ہلاک، 62 زخمی
05/September/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
یمن: جنوبی تعز میں حکومتی فورسز کی پیش قدمی، حَیفان میں اہم پہاڑی اور دیہات کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ
05/September/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
ٹرمپ کی ایران کے حساس جوہری مقام کو نشانہ بنانے کی دھمکی، روس یوکرین جنگ پر بھی سفارتی کوششیں تیز
05/September/2026 👁️ 105 بار دیکھا گیا
شابان وادی میں ڈرون حملہ، ٹی ٹی پی پشین کا مبینہ گورنر 2 ساتھیوں سمیت ہلاک
05/September/2026 👁️ 77 بار دیکھا گیا
بلوچستان : سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 36 دہشتگرد ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ
05/September/2026 👁️ 62 بار دیکھا گیا
میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر، تقرری 3 سال کے لیے ہوگی
04/September/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26275 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15524 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11806 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9100 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7389 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5066 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C