23/December/2025

شام کی فوج اور کردوں کی زیرِ قیادت ایس ڈی ایف کے درمیان جھڑپیں، متعدد افراد ہلاک

👁️ 198 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شام کی فوج اور کردوں کی زیرِ قیادت ایس ڈی ایف کے درمیان جھڑپیں، متعدد افراد ہلاک

شام کی فوج اور کردوں کی زیرِ قیادت ایس ڈی ایف کے درمیان جھڑپیں، متعدد افراد ہلاک

دمشق (ڈیلی اردو/سانا) شامی فوج اور کردوں کی زیرِ قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے حلب میں ہونے والی جھڑپوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی ہے، جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ کرد فورسز شام کی نئی فوج میں ضم ہونے سے گریزاں ہیں۔

 

شام کے شہر حلب میں گزشتہ روز جھڑپوں کا آغاز ہوا، جن کے نتیجے میں کم از کم دو شہری ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاحال جھڑپوں کی اصل وجہ واضح نہیں ہو سکی۔

 

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے شہر کے ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ کے حوالے سے بتایا کہ حلب کے بعض محلوں پر ایس ڈی ایف کی گولہ باری کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ سانا نے شام کی وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایس ڈی ایف نے شہر کے دو رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔

 

اس کے جواب میں ایس ڈی ایف نے الزام عائد کیا کہ یہ گولہ باری احمد الشرع کی قیادت میں شامی حکومت سے وابستہ گروپوں کی جانب سے کی گئی۔ تاہم شامی حکومت نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

 

ایس ڈی ایف نے شامی حکومتی فورسز پر کردوں کی ایک چوکی پر فائرنگ کا الزام بھی لگایا۔ بعد ازاں پیر کے روز شام کی وزارت دفاع اور ایس ڈی ایف دونوں نے اپنے اپنے جنگجوؤں کو دشمنی ختم کرنے اور فائرنگ روکنے کی ہدایات جاری کر دیں۔

 

سانا کے مطابق دمشق میں وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ’’جہاں سے فائرنگ ہو رہی ہے ان ذرائع کو نشانہ بنانا بند کرنے‘‘ کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ دوسری جانب ایس ڈی ایف نے کہا ہے کہ اس نے اپنی فورسز کو ’’حملوں کا جواب دینا بند کرنے‘‘ کا حکم دیا ہے۔

 

ترک وزیرِ خارجہ کا دورۂ دمشق

 

ان جھڑپوں سے چند گھنٹے قبل ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے دمشق کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے ایس ڈی ایف پر الزام لگایا کہ وہ طے شدہ ڈیڈ لائن کے باوجود اپنے ہتھیار سال کے اختتام تک شامی فوج میں ضم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

 

ہاکان فیدان نے کہا کہ ’’شام کا استحکام، ترکی کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے‘‘ اور ایس ڈی ایف پر زور دیا کہ وہ ’’شام میں اتحاد، استحکام اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔‘‘

 

ایس ڈی ایف شمال مشرقی شام کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے اور اسے امریکہ کی حمایت حاصل رہی ہے، تاہم ترکی اسے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے روابط کے باعث دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور اس کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔

 

ترکی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شام پر عائد پابندیاں ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالا۔ ترک فوج نے شامی فوج کے اہلکاروں کو تربیت بھی فراہم کی تھی، جس کے بعد بشار الاسد کا اقتدار ختم ہوا اور بعد ازاں شامی فوج کی تنظیمِ نو کی گئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C