طالبان کے زیرانتظام علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں
👁️ 31 بار دیکھا گیا
طالبان کے زیرانتظام علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں
کابل (ڈیلی اردو/این این آئی) افغانستان میں شدت پسند گروپ طالبان کی کابل میں حکومت ختم ہونے کے باوجود ملک کے بہت سے علاقوں پر اب بھی طالبان کا کنٹرول ہے۔ مقامی شہریوں نے خبر رساں اداروں کو طالبان کے زیرانتظام علاقوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے بارے میں حیران کن تفصیلات فراہم کی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان شہریوں کا کہنا تھا کہ طالبان کی شدت پسندی کا طرز عمل اب بھی وہی پرانا ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جرائم کے مرتکب افراد کی مار پیٹ اور انہیں موت کے گھاٹ اتارنا، لوگوں پر خوف طاری کرنے کے لیے مجرموں کی مسخ شدہ لاشیں سرعام پھینکنا، موبائل فون اور موسیقی سننے پر پابندی جیسے واقعات طالبان کے زیرانتظام علاقوں میں عام ہیں۔
ایک مقامی شہری کمال الدین جن کا تعلق ارگستان سے ہے نے بتایا کہ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد تحریک طالبان کی واپسی سے ملک ایک بار پھر تاریکی میں چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے افغانستان سے امریکی اور غیرملکی فوج واپس ہورہی ہے، لوگوں میں طالبان اور ان کے سخت گیر دور کی واپسی کا خوف بڑھتا جا رہا ہے۔
کمال الدین نے بتایا کہ گذشتہ ماہ طالبان نے ان کے والد اور بھائی کو محض اس لیے حراست میں لے لیا کیونکہ وہ فون استعمال کرتے ہیں۔ طالبان نے انہیں موبائل فوج کی سمیں نکال کر پھینکنے پر مجبور کیا جس کے بعد انہیں رہائی ملی۔
کمال الدین کا کہنا تھا کہ اس نے طالبان کے خوف سے مسجد جانا بھی چھوڑ دیا کیونکہ طالبان انہیں اپنے شدت پسندوں میں بھرتی ہونے پر مجبور کرتے اور بغیر کسی اجرت کے کام کراتے ہیں۔ طالبان کے زیرانتظام قندھار کے علاقے سبیروان کے رہائشی نصار احمد نے کہا کہ طالبان نے بچیوں کو اسکول بھیجنے پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔ نصار احمد ایک دکان چلاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بچی کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ اب وہ شہر چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں جانے کا سوچ رہے ہیں تاکہ بچی کو اسکول بھیج سکیں۔
طالبان کے زیرانتظام بانگوائے علاقے کی تین بچوں کی ماں شگوفا نے کہا کہ جب وہ اس علاقے میں آئی ہیں طالبان نے خواتین کو گھروں سے باہر جانے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ خواتین گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی ہیں۔بعض لوگوں نے طالبان کی طرف سے عاید کردہ بھاری ٹیکسوں کی شکایت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے ٹیکسوں نے کمر توڑ دی ہے مگر تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات تک انہیں میسر نہیں ہیں۔ ہلمند اور قندھار کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کا کہنا تھا کہ طالبان نے اپنے زیرانتظام علاقوں میں ٹی وی سیٹ، موسیقی کے آلات اور دیگر اشیا کی توڑپھوڑ کرکے شہریوں کو ٹی وی دیکھنے، فون سننے اور موسیقی پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف مشرقی لوگر کے علاقے کے باشندوں کو ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہے۔ طالبان جنگجو خود فون استعمال کرتے ہیں۔ ایک 28 سالہ جنگجو سمندر نے بتایا کہ اس کے پاس دو موبائل فون ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کابل : شیعہ کمیونٹی کی اعلیٰ کونسل کے دفتر کا طالبان فورسز کی جانب سے محاصرہ
08/September/2026 👁️ 41 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں قبائلی رہنما ملک نیک محمد محسود فائرنگ سے ہلاک
08/September/2026 👁️ 54 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں بی ایل اے کے خلاف کارروائیاں، 3 دہشتگرد ہلاک، ایک گرفتار
08/September/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
عراق : سلیمانیہ میں داعش سے وابستگی کے الزام میں مطلوب شخص گرفتار
08/September/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
بدخشاں کے زیبک میں جھڑپ، 4 طالبان جنگجو ہلاک اور 7 زخمی ہونے کا دعویٰ
08/September/2026 👁️ 47 بار دیکھا گیا
سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملے، 73 شہری زخمی، عرب ممالک کی شدید مذمت
08/September/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26278 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15527 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11815 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9109 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7400 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5101 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C