عوام دوست اقدامات، بے روزگاری اور کررونا (محمد گلزار چودہدی)
👁️ 120 بار دیکھا گیا
عوام دوست اقدامات، بے روزگاری اور کررونا (محمد گلزار چودہدی)
دنیا میں پھیلے وائرس نے انسانوں کے ساتھ ساتھ 200 ممالک کی معیشت کو بھی گہرے زخم دیے ہیں جن کو سنبھلنے میں کئی سال لگیں گے۔ اس کے ساتھ ہی خوف اور سراسیمگی نے کچھ عرصہ قبل عالمی سطح پر در پیش اہم مسائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ کمزور معیشت کے حامل ممالک کی حالت ایسے ہی ہے جیسے ایک بیمار شخص اپنی بیماری کے علاج کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہو اور اسے اچانک پتا چلے کہ اس کے مکان کا ایک حصہ گر گیا ہے۔ بالکل ایسے ہی دنیا کے ساتھ ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جہاں پہلے ہی سیاسی اور معاشی مسائل کافی گمبھیر تھے، کرونا کے خلاف لڑنے کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل سے بھی لڑنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کے لیے لوگوں کو بیماری سے محفوظ رکھنے کے علاوہ ان کو خوراک اور ادویات بہم پہنچانا چیلنج بنا ہوا ہے۔ خوف اور ہنگامی حالات میں بنائی جانے والی پالیسیاں پائیدار اور دیرپا نہیں ہوتیں۔ اس مرحلے پر حکومتی ایجنڈے اور پالیسی کے کچھ بنیادی اصولوں میں عوامی مفاد کے پیش نظرترمیم کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان طویل عرصے تک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں کار کنوں کی مشکلات کے پیش نظر کچھ صنعتی یونٹوں کو جزوی طور پر کھولنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
پاکستان میں وزیر اعظم کی طرف سے تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ دیدیا گیا اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ذرائع آمدن کا نہیں پوچھا جائے گا۔ فکسڈ ٹیکس لگائے جائیں گے جس سے ٹیکس چوری میں کمی ہو گی۔ لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کی طرف سے 1200 ارب کے ریلیف فنڈ اعلان کیا گیا ہے جس سے عام آدمی کی مشکلات میں کمی آ سکے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ غریب آبادیوں کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں ایک طرف کرونا ہے اور دوسری طرف بھوک۔ حکومت اس وقت دونوں سے لڑنے کے لیے عوام کو بھی تیار کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے پاکستان کو درپیش صورتحال سے میڈیا کو آگاہ کیا اور کہا کہ ایسے افراد کی مدد کی جائے گی جو مستحق ہیں اور مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ایک کروڑ لوگوں نے حکومتی ریلیف کے لیے اپنے آپ کو رجسٹرڈ کرایا ہے۔ ان میں سے کتنے لوگوں کو ریلیف مل سکے گا اس کے آثار سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کی ایک جھلک گزشتہ دنوں لاہور میں دیکھی گئی۔
حکومت کے بظاہر اعلان سے صورتحال پر قابو پانے کی نوید سنائی جا رہی ہے لیکن زمینی حقائق اس سے مطابقت نہیں رکھتے۔ تین سے زیادہ ذرائع سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا کام جاری ہے۔ فی خاندان 12ہزار روپے دینے کے ساتھ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ایک ہی دفعہ ملیں گے یا ہر ماہ یہ ریلیف لوگوں کو دیا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ پاکستان میں کرونا نہیں ہے۔ بلکہ یہ بُری خبر بھی ساتھ ہی سنائی گئی کہ ممکن ہے پاکستان میں 50 ہزار لوگ اس سے متاثر ہوں۔ جس طرح پنجاب حکومت کی طرف سے کچھ صنعتوں اور مقامات کو کھولنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا گیا ہے اس سے کرونا کے حفاظتی اقدامات لازمی طور پر متاثر ہوں گے۔ ان صنعتوں کے کھولنے کی آڑ میں لوگوں کو جمع ہونے سے نہیں روکا جا سکے گا۔ جو خبریں سامنے آ رہی ہیں ان کے مطابق یہ وائرس اب دیہاتوں تک پہنچ رہا ہے۔ جتنے اعلانات اور باتیں حکومت نے کہی ہیں ان پر پورا اترنے کی حکمت عملی ابھی تک مرتب نہیں کی گئی۔ اگر کی گئی ہے تو اس کو عام نہیں کیا گیا۔ کوئی مریض کرونا وائرس سے متاثر ہوتا ہے تو اس کا مکمل ڈیٹا مشتہر نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی مریض جاں سے چلا جاتا ہے تو اس کا مکمل پتا بھی بتانا چاہیے تاکہ ایسے علاقے کے لوگوں ملنے میں احتیاط برتی جائے۔ پاکستانی و قوم کوئی منظم یا مہذب قوم نہیں۔
زراعت سے متعلقہ لوگ کھلی فضا میں ایک یا دو افراد کی تعداد میں باہر نکلتے ہیں۔ انڈسٹری میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ حکومت صنعتوں کاروں کو کھلی چھوٹ نہیں دے سکتی۔ اب اگر وزیر اعظم اور پنجاب حکومت کی طرف سے اعلان کردہ صنعتوں کو کھول دیا جاتا ہے تو پھر احتیاطی تدابیر پر تعزیری قوانین کا جواز باقی نہیں رہتا۔ یہ جزوی چھوٹ ایک دوسری صورتحال کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ لوگ ان شہروں اور علاقوں کی طرف جانا شروع کر دیں گے جہاں ایسی صنعتیں واقع ہیں۔ اگر حکومت ان خدشات پر قابو پا لیتی ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ یہ درست ہے کہ وزیر اعظم نے صحیح وقت پر صحیح بات کہی ہے لیکن قوم کے مزاج کو بھی سامنے رکھنا ہو گا۔ ہنگامی صورتحال میں ایسے اقدامات کرنا پڑتے ہیں جو سیاسی اخلاقیات اور پارٹی ایجنڈے سے متصادم ہوتے ہیں۔ لیکن صورتحال کی سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے۔ اگر پہلی حکومتوں کی روش ہی اپنائی گئی تو عوام کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے جو لوگ روزانہ کی بنیاد پر اجرت سے اپنے گھروں کا چولہا جلا رہے تھے ان کے لیے یہ انتہائی مشکل وقت ہے۔ حکومت کی طرف سے ان کا احساس کرتے ہوئے کیے گئے فیصلے پاکستانی عوام حکومت کے سخت اعلانات، اپیل اور قانونی کارروائیوں کی پروا بہت کم کر رہے ہیں۔ عوام کی سوچ اور اپروچ میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی۔ دیہی علاقوں میں، جہاں معیشت کھیت کھلیانوں اور ضروریات زندگی کی چھوٹی سطح پر تجارت سے جڑی ہوئی ہے، قبل از کرونا کا معمول جاری ہے۔
لوگ اب بھی ایک جگہ پر مل کر بیٹھتے ہیں، نوجوان کھیلوں میں مصروف ہیں، اور آٹھ دس خواتین جمع ہو کر اسی وائرس کے پھیلنے کی وجوہات پر بات کرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔ دکانداروں نے ان حالات کوروز مرہ اشیا کے نرخوں میں اضافہ کر کے لوگوں سے زیادہ پیسے وصول کرنے کا ایک بہترین موقع سمجھا ہوا ہے۔ گاہکوں سے کہا جاتا ہے ’بھائی صاحب دکان پر زیادہ لوگ جمع نہ ہوں، آپ پیسے ادا کریں اور تشریف لے جائیں۔ کیوں کہ یہ حکومت کا حکم ہے‘۔ اگر کوئی سوال کرتا ہے کہ ’بھائی صاحب آپ قیمت سے زیادہ پیسے وصول کر رہے ہیں‘۔ اسے مختصر یہ جواب دیتے ہیں کہ ’لاک ڈاؤن کی وجہ سے مال پیچھے سے نہیں آ رہا ہے‘۔ خاص طور پر فروٹ اور گوشت والے دکاندار من چاہی قیمت وصول کر رہے ہیں۔ وہ اس کا جواز منڈیوں کی بندش قرار دیتے ہیں۔ پولیس اور متعلقہ ضلعی ادارے کسی دوسرے ”فرض“ کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ جہاں تک ضروریات زندگی عوام کے دروازوں تک پہنچانے کا تعلق ہے وہ نظام بھی انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ اب سرکاری سطح پر اعداد و شمار جمع کرنے کا کام شروع ہوا ہے۔ عوامی آگاہی کا پروگرام بھی تسلی بخش نہیں۔ لوگوں کی اکثریت مطمئن ہے کہ موسم تبدیل ہونے کے ساتھ کرونا وائرس بڑی حد تک کم ہو جائے گا۔
نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 278 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 360 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 707 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 618 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 230 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 325 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8964 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4815 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3576 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3486 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2567 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C