غزہ جنگ بندی کے نام پر ٹرمپ کا اربوں ڈالر کا ’بورڈ آف پیس‘، پاکستان کی شمولیت
👁️ 253 بار دیکھا گیا
غزہ جنگ بندی کے نام پر ٹرمپ کا اربوں ڈالر کا ’بورڈ آف پیس‘، پاکستان کی شمولیت
داووس (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/بی بی سی/اے ایف پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز باضابطہ طور پر ایک نئے بین الاقوامی ادارے، ’بورڈ آف پیس‘ (امن بورڈ) کا آغاز کر دیا ہے۔
انہوں نے ممالک کے ایک متنوع گروپ کے ساتھ مل کر اس کے اولین منشور پر دستخط کیے۔ ناقدین اس ادارے کو اقوام متحدہ کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اسٹیج پر بورڈ کی اس بنیادی دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا، ’’ہم دنیا میں امن قائم کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اس بورڈ کے پاس اب تک کا سب سے اہم اور بااثر ادارہ بننے کا موقع موجود ہے۔‘‘
امریکی صدر خود اس بورڈ کے چیئرمین ہیں، جسے وہ امن قائم کرنے کے اقدامات کی قیادت کرنے والی ایک نئی بین الاقوامی تنظیم کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ وہ ممالک جو ایک ارب ڈالر کا عطیہ دیں گے، وہ اس بورڈ کی مستقل رکنیت حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ دیگر ممالک تین سالہ مدت کے لیے خدمات انجام دیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک ممبران کی مکمل فہرست جاری نہیں کی گئی ہے۔
تقریباً 60 حکومتوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، لیکن واشنگٹن کے چند ہی مغربی اتحادیوں نے عوامی طور پر اسے قبول کیا ہے۔ اب تک یورپی یونین کے اراکین میں سے صرف ہنگری اور بلغاریہ نے اس پر شمولیت کی حامی بھری ہے۔
شرکت پر آمادگی ظاہر کرنے والے ممالک میں ایک دوسرے کے دیرینہ حریف آذربائیجان اور آرمینیا کے علاوہ ارجنٹائن، مصر، اسرائیل، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ واشنگٹن کے دو بڑے حریفوں، روس اور چین کو بھی دعوت دی گئی تھی، لیکن انہوں نے ابھی تک کوئی حتمی وعدہ نہیں کیا ہے۔
ماسکو اور اس کے اتحادی بیلاروس کو دی گئی دعوت نے خاص طور پر مغربی ممالک کی جانب سے تنقید کو جنم دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ایک معتبر امن فورم میں روس شامل نہیں ہو سکتا، جو تقریباً چار سالوں سے یوکرین کے خلاف مکمل جنگ لڑ رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے داووس کے اسٹیج پر باری باری کئی رہنماؤں کو دستاویز پر دستخط کے لیے مدعو کرنے کے بعد کہا، ’’منشور اب مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بورڈ آف پیس اب ایک باضابطہ بین الاقوامی تنظیم بن چکا ہے۔‘‘
گزشتہ روز پاکستان سمیت مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’تمام ممالک بورڈ میں شمولیت کی دستاویزات پر اپنے قوانین کے تحت دستخط کریں گے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے تحت امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جس کے مطابق غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کو ممکن بنایا جا سکے گا۔
تاہم پاکستان کے فیصلے پر ملک میں بڑی سطح پر تنقید بھی دیکھی گئی۔ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ’بورڈ آف پیس کو کسی صورت بھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ اور نیتن یاہو کی صورت میں کسی قسم کا کوئی امن بورڈ قبول نہیں۔‘
یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ ٹرمپ کا تشکیل کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کیا کرے گا اور اس میں شامل مستقل اور غیرمستقل اراکین کے اختیارات میں کیا فرق ہو گا؟
پاکستان ’بورڈ آف پیس‘ میں کیوں شامل ہوا؟
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کا ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کا مقصد مکمل جنگ بندی کا حصول، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی از سرِنو تعمیر ہے۔
تاہم پاکستان کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ اس بورڈ میں بطور مستقل رُکن کے طور پر شامل ہو رہا ہے یا صرف تین سال کے لیے۔
بی بی سی کو دستیاب ’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر کے مطابق اس میں شامل ہر ریاست برسوں کے لیے اس کی رُکن ہو گی اور چیئرمین (صدر ٹرمپ) چاہیں تو اس رُکنیت کی تجدید بھی کر سکتے ہیں۔
تاہم تین سالہ رُکنیت کی شرط کا اطلاق ان ریاستوں پر نہیں ہو گا جو ’بورڈ آف پیس‘ کے فنڈ میں ایک ارب ڈالر جمع کروائیں گی۔
’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر میں یہ بھی نہیں درج کیا گیا کہ ایک ارب ڈالر مہیا کرنے والے ملک اور دیگر ممالک کے اختیارات میں کیا فرق ہو گا۔
بی بی سی نے اس سلسلے میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو سوالات بھیجے ہیں تاہم اس کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
دوسری جانب پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ٹیم میں شامل ایک شخصیت نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے حوالے کوئی شرائط نہیں رکھی گئی ہیں۔ پوری دنیا جس طرح سے انگیج کر رہی ہے، پاکستان بھی وہ ہی کر رہا ہے۔‘
’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کی شمولیت پر آرا تقسیم
’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر کے مطابق اس میں ہر ریاست کی نمائندگی حکومت یا ریاست کا سربراہ کرے گا اور اس میں شامل ہر ریاست کو ایک، ایک ووٹ کا حق حاصل ہو گا۔
چارٹر کے مطابق تمام فیصلے رُکن ممالک کے اکثریتی ووٹوں کے تحت لیے جائیں گے تاہم اس کے لیے بھی چیئرمین کی منظوری درکار ہو گی۔
پاکستان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اسلام آباد کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کے معاملے پر تقسیم کا شکار نظر آتے ہیں۔
ماضی میں واشنگٹن اور اقوامِ متحدہ میں بطور پاکستانی سفیر خدمات سر انجام دینے والی ملیحہ لودھی اسے ’غیر دانشمندانہ فیصلہ‘ سمجھتی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’حکومت اس بات کو نظرانداز کر گئی کہ ٹرمپ دیگر ریاستوں کو بورڈ میں اس لیے شامل کر رہے ہیں تاکہ اپنی یکطرفہ کارروائیوں کے لیے بین الاقوامی حمایت یا حیثیت حاصل کی جا سکے۔‘
وہ بورڈ آف پیس کے چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئی کہتی ہیں کہ ’بورڈ نے اپنا دائرہ کار وسیع رکھا ہے، غزہ سے بھی آگے بڑھایا۔ شمولیت نہ کرنے کے لیے یہ وجہ بھی دیکھی جا سکتی تھی۔‘
ملیحہ لودھی کا ماننا ہے کہ ’پاکستان ایک ایسی تںطیم کا حصہ بن رہا ہے جسے ٹرمپ اقوامِ متحدہ کا متبادل سمجھ رہے ہیں اور جو ٹرمپ کی شخصیت تک ہی رہے گا اور ان کی صدارت ختم ہونے کے بعد جاری نہیں رہ سکتا۔‘
تاہم دیگر تجزیہ کار پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کو اچھا فیصلہ سمجھتے ہیں۔
ایک ارب ڈالر
امریکی پالیسی اور امورِ مشرقِ وسطیٰ پر گہری نظر رکھنے والے امریکہ میں مقیم تجزیہ کار کامران بخاری کہتے ہیں کہ ’اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان اس بورڈ میں ایک سٹیک ہولڈر بن گیا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کو بھی وہ اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں جو ان ایک ارب ڈالر دینے والی ریاستوں کو حاصل ہوں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو وہ ہی ملتا ہے جس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس سے قبل غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی بھی بات ہو رہی تھی۔
’بورڈ آف پیس اور بین الاقوامی استحکام فورس دو الگ الگ چیزیں ہیں لیکن بین الاقوامی استحکام فورس بھی بورڈ آف پیس کی نگرانی میں ہی کام کرے گی اور پاکستان وہاں اپنے فوجی اہلکار بھیج سکے گا۔‘
خیال رہے پاکستان نے تاحال بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کرنے کی حامی نہیں بھری اور متعدد سرکاری شخصیات کہہ چکی ہیں کہ اس فیصلے میں پارلیمنٹ کو شامل کیا جائے گا۔
کامران بخاری سمجھتے ہیں کہ ’بورڈ میں شامل ہونے کے بعد آپ سٹیک ہولڈر بن جاتے ہیں، آپ کو سیاسی گفتگو میں شامل ہونے کا موقع ملتا ہے اور یہ مثبت بات ہے۔‘
امریکہ میں مقیم تجزیہ کار کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ کے معاملے پر پاکستان کو تنہا نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ اس معاملے پر وہ عرب ممالک کے ساتھ کام کرتا ہے، جو دولت مند بھی ہیں اور ان کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 299 بار دیکھا گیا
ایران نواز گروہوں سے عالمی خطرہ، امریکہ نے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا
20/July/2026 👁️ 151 بار دیکھا گیا
بنوں میں سیکورٹی کا آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک، 8 مشتبہ افراد گرفتار
20/July/2026 👁️ 198 بار دیکھا گیا
پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپ، کرم سیکٹر میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال
20/July/2026 👁️ 167 بار دیکھا گیا
اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، ایک لاپتہ
19/July/2026 👁️ 266 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیل کے دو فضائی حملوں میں 9 فلسطینی ہلاک
19/July/2026 👁️ 202 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8962 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4811 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3571 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3415 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2566 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C