لاپتا افراد کیس: عدالت کا پولیس، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع پر ایک کروڑ روپے جرمانہ
👁️ 64 بار دیکھا گیا
لاپتا افراد کیس: عدالت کا پولیس، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع پر ایک کروڑ روپے جرمانہ
اسلام آباد (ڈیلی اردو/وی او اے) ‘آٹھ سال ہو گئے ہیں، ایک عدالت سے دوسری عدالت اور پھر ایک اور عدالت، لیکن کوئی بھی میرے شوہر کو بازیاب نہیں کروا سکا۔ جب میرے شوہر اغوا ہوئے تو میرا بیٹا دو سال کا تھا۔ اس نے باپ کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں۔’
یہ الفاظ ہیں لاہور سے لاپتا ہونے والے نوید بٹ کی اہلیہ ایڈووکیٹ سعدیہ راحت کے۔ سعدیہ کے شوہر نوید بٹ کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ترجمان تھے اور انہیں سال 2012 میں ان کے گھر کے باہر سے نامعلوم افراد زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
سعدیہ راحت کا کہنا ہے کہ اس دن کے بعد سے اب تک ہم ایک عدالت سے دوسری عدالت جا رہے ہیں، لیکن اب تک کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ مسنگ پرسن کمیشن نے اس بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پروڈکشن آرڈر جاری کیا، لیکن اس کے باوجود میرے شوہر کو پیش نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام انٹیلی جنس ادارے ان کے شوہر کا ان کے پاس ہونے سے انکار کرتے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ انہی کے پاس موجود ہیں۔
حالیہ دنوں میں لاپتا افراد کے کیسز میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے اعلیٰ سرکاری حکام پر کروڑوں روپے کے جرمانے عائد کر دیے گئے ہیں۔
اسلام آباد سے لاپتا ایک شخص غلام قادر کے چھ سال سے بازیاب نہ ہونے پر عدالت نے پولیس، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع پر ایک کروڑ روپے جرمانہ کر دیا۔
اس حوالے سے وفاق نے ہائیکورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کی ہے جس کی پہلی سماعت گزشتہ روز ہوئی، جس میں عدالت نے کہا کہ جرمانہ اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بندہ غائب ہو جاتا ہے اس کا کیا کریں گے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ہرجانہ عدالت اس لیے لگاتی ہے کہ ریاست بندے کو تلاش کرنے میں ناکام ہوتی ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد سید طیب شاہ نے اس حوالے سے کہا کہ ان کیسز پر زیادہ بات نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ان کیسز میں اپیلیں عدالت میں زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا یہ حق ہے کہ وہ اگر کسی عدالتی فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو اس پر اپیل دائر کر سکتی ہے۔
پاکستان میں حالیہ عرصہ میں عدالتوں کی طرف سے لاپتا افراد کی عدم بازیابی پر سخت احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ ایک کروڑ روپے جرمانہ والا یہ پہلا کیس نہیں، بلکہ اس سے قبل تین مختلف کیسز میں عدالت کی طرف سے سرکاری حکام پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
ایسا ہی ایک کیس آئی ٹی انجنئیر ساجد محمود کا ہے، ان کی اہلیہ ماہرہ ساجد نے عدالت میں گھریلو اخراجات کے لیے ایک پٹیشن دائر کی، جس پر عدالت نے ساجد محمود کے لاپتا ہونے سے اب تک کے لیے انہیں 45 لاکھ روپے اور اس کے بعد ایک لاکھ پانچ ہزار روپے ماہانہ دینے کا کہنا ہے۔
اس کیس میں ماہرہ ساجد کے وکیل عمر گیلانی ایڈوکیٹ نے کہا کہ ریاست کسی بھی شخص کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اور اس اگر وہ شخص لاپتا ہو گیا ہے تو اس کی بازیابی بھی ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے اور اس کیس میں بھی ہم نے اسی نکتہ پر بات کی اور عدالت نے اس بارے میں حتمی فیصلہ جاری کیا ہے جسے حکومت نے تسلیم بھی کر لیا ہے۔ اس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ امید ہے کہ حکومت جلد یہ ادائیگی کرے گی۔
لاپتا افراد کے لواحقین کا کراچی میں احتجاج
اس بارے میں پاکستان بار کونسل کے صدر عابد ساقی نے کہا کہ آئین اور قانون میں ہر شخص کی آزادی اور اس حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ عدالتیں اس آئین کی نگہبان ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے دیا جانے والا فیصلہ عدالتوں کی طرف سے اس بارے میں احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے غصہ کا اظہار ہے۔
عابد ساقی نے کہا کہ مسنگ پرسن کیسز میں عدالتوں کی طرف سے واضح احکامات دیے جاتے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ پاکستان کی عدالتیں ہر شخص کی آزادی اور حفاظت کی ذمہ دار ہیں اور وہ اپنا فرض ادا کر رہی ہیں۔
سعدیہ راحت کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کے اغوا کے بعد سے وہ شدید مشکلات کا شکار رہیں۔ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں اور بچے اپنے والد کی گمشدگی کے باعث آج تک پریشان ہیں۔
سعدیہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت ان کی درخواست میں بھی انہوں نے حکومت کی طرف سے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ان کے شوہر کے غائب ہونے سے انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان میں لاپتا افراد کے کمیشن کے مطابق اس وقت بھی لاپتا افراد کی تعداد ڈھائی ہزار سے زائد ہے۔ اگرچہ اس بارے میں عدالتوں کی طرف سے سخت احکامات جاری کیے گئے، تاہم اب بھی کئی افراد بدستور لاپتا ہیں جن کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کیا جاتا ہے۔ تاہم ریاستی ادارے اور حکومت ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتی آئی ہے۔ افراد کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا پولیس، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع پر کروڑوں روپے کا جرمانہ
‘آٹھ سال ہو گئے ہیں، ایک عدالت سے دوسری عدالت اور پھر ایک اور عدالت، لیکن کوئی بھی میرے شوہر کو بازیاب نہیں کروا سکا۔ جب میرے شوہر اغوا ہوئے تو میرا بیٹا دو سال کا تھا۔ اس نے باپ کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں۔’
یہ الفاظ ہیں لاہور سے لاپتا ہونے والے نوید بٹ کی اہلیہ ایڈووکیٹ سعدیہ راحت کے۔ سعدیہ کے شوہر نوید بٹ کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ترجمان تھے اور انہیں سال 2012 میں ان کے گھر کے باہر سے نامعلوم افراد زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
سعدیہ راحت کا کہنا ہے کہ اس دن کے بعد سے اب تک ہم ایک عدالت سے دوسری عدالت جا رہے ہیں، لیکن اب تک کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ مسنگ پرسن کمیشن نے اس بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پروڈکشن آرڈر جاری کیا، لیکن اس کے باوجود میرے شوہر کو پیش نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام انٹیلی جنس ادارے ان کے شوہر کا ان کے پاس ہونے سے انکار کرتے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ انہی کے پاس موجود ہیں۔
حالیہ دنوں میں لاپتا افراد کے کیسز میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے اعلیٰ سرکاری حکام پر کروڑوں روپے کے جرمانے عائد کر دیے گئے ہیں۔
اسلام آباد سے لاپتا ایک شخص غلام قادر کے چھ سال سے بازیاب نہ ہونے پر عدالت نے پولیس، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع پر ایک کروڑ روپے جرمانہ کر دیا۔
اس حوالے سے وفاق نے ہائیکورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کی ہے جس کی پہلی سماعت گزشتہ روز ہوئی، جس میں عدالت نے کہا کہ جرمانہ اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بندہ غائب ہو جاتا ہے اس کا کیا کریں گے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ہرجانہ عدالت اس لیے لگاتی ہے کہ ریاست بندے کو تلاش کرنے میں ناکام ہوتی ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد سید طیب شاہ نے اس حوالے سے کہا کہ ان کیسز پر زیادہ بات نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ان کیسز میں اپیلیں عدالت میں زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا یہ حق ہے کہ وہ اگر کسی عدالتی فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو اس پر اپیل دائر کر سکتی ہے۔
پاکستان میں حالیہ عرصہ میں عدالتوں کی طرف سے لاپتا افراد کی عدم بازیابی پر سخت احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ ایک کروڑ روپے جرمانہ والا یہ پہلا کیس نہیں، بلکہ اس سے قبل تین مختلف کیسز میں عدالت کی طرف سے سرکاری حکام پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
ایسا ہی ایک کیس آئی ٹی انجنئیر ساجد محمود کا ہے، ان کی اہلیہ ماہرہ ساجد نے عدالت میں گھریلو اخراجات کے لیے ایک پٹیشن دائر کی، جس پر عدالت نے ساجد محمود کے لاپتا ہونے سے اب تک کے لیے انہیں 45 لاکھ روپے اور اس کے بعد ایک لاکھ پانچ ہزار روپے ماہانہ دینے کا کہنا ہے۔
اس کیس میں ماہرہ ساجد کے وکیل عمر گیلانی ایڈوکیٹ نے کہا کہ ریاست کسی بھی شخص کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اور اس اگر وہ شخص لاپتا ہو گیا ہے تو اس کی بازیابی بھی ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے اور اس کیس میں بھی ہم نے اسی نکتہ پر بات کی اور عدالت نے اس بارے میں حتمی فیصلہ جاری کیا ہے جسے حکومت نے تسلیم بھی کر لیا ہے۔ اس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ امید ہے کہ حکومت جلد یہ ادائیگی کرے گی۔
لاپتا افراد کے لواحقین کا کراچی میں احتجاج
اس بارے میں پاکستان بار کونسل کے صدر عابد ساقی نے کہا کہ آئین اور قانون میں ہر شخص کی آزادی اور اس حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ عدالتیں اس آئین کی نگہبان ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے دیا جانے والا فیصلہ عدالتوں کی طرف سے اس بارے میں احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے غصہ کا اظہار ہے۔
عابد ساقی نے کہا کہ مسنگ پرسن کیسز میں عدالتوں کی طرف سے واضح احکامات دیے جاتے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ پاکستان کی عدالتیں ہر شخص کی آزادی اور حفاظت کی ذمہ دار ہیں اور وہ اپنا فرض ادا کر رہی ہیں۔
سعدیہ راحت کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کے اغوا کے بعد سے وہ شدید مشکلات کا شکار رہیں۔ ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں اور بچے اپنے والد کی گمشدگی کے باعث آج تک پریشان ہیں۔
سعدیہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت ان کی درخواست میں بھی انہوں نے حکومت کی طرف سے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ان کے شوہر کے غائب ہونے سے انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان میں لاپتا افراد کے کمیشن کے مطابق اس وقت بھی لاپتا افراد کی تعداد ڈھائی ہزار سے زائد ہے۔ اگرچہ اس بارے میں عدالتوں کی طرف سے سخت احکامات جاری کیے گئے، تاہم اب بھی کئی افراد بدستور لاپتا ہیں جن کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کیا جاتا ہے۔ تاہم ریاستی ادارے اور حکومت ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتی آئی ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ ایران معاہدہ مکمل، آبنائے ہرمز کھل گئی، صدر ٹرمپ کا اعلان
15/June/2026 👁️ 125 بار دیکھا گیا
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا، پاکستانی وزیراعظم
15/June/2026 👁️ 131 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 6 فلسطینی ہلاک
15/June/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا سخت ردعمل
15/June/2026 👁️ 116 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 10 واقعات میں مائننگ بارودی مواد کے استعمال کا انکشاف
15/June/2026 👁️ 178 بار دیکھا گیا
بیروت پر اسرائیلی حملہ، حزب اللہ کے سینئر کمانڈر علی موسی دقدوق 5 ساتھیوں سمیت ہلاک
15/June/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8828 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4555 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3269 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2449 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2089 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1896 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C