09/April/2026

لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 260 سے زائد ہلاکتیں، 1200 زخمی

👁️ 242 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 260 سے زائد ہلاکتیں، 1200 زخمی

لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 260 سے زائد ہلاکتیں، 1200 زخمی

بیروت (ڈیلی اردو) لبنانی حکام کے مطابق دارالحکومت بیروت کے گنجان آباد علاقوں پر نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 260 سے زائد افراد ہلاک جبکہ تقریباﹰ 1200 زخمی ہو گئے۔ یہ حملے ایران کے ساتھ امریکی اور اسرائیلی جنگ بندی کے آغاز کے چند گھنٹے بعد کیے گئے۔

 

اسرائیل نے آج بدھ آٹھ اپریل کی دوپہر مرکزی بیروت کے گنجان تجارتی اور رہائشی علاقوں پر اچانک فضائی حملے کیے، جن میں  لبنان کی وزارت صحت کے مطابق  کم از کم 260 افراد ہلاک اور تقریباﹰ 1200 زخمی ہو گئے۔ لبنانی وزارت صحت کی طرف سے اس نئی تعداد سے محض کچھ ہی دیر قبل ہلاکتوں کی تعداد 200 بتائی گئی تھی۔

 

لبنان پر یہ اسرائیلی حملے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں طے پانے والی سیزفائر ڈیل پر عمل درآمد کے آغاز کے چند ہی گھنٹے بعد کیے گئے۔

 

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’پی بی ایس نیوز آور‘ سے گفتگو میں کہا کہ لبنان کو اس معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ وہاں حزب اللہ نامی مسلح گروہ موجود ہے۔ اسرائیل کے تازہ حملوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’یہ ایک علیحدہ جھڑپ ہے۔‘‘

 

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران جنگ سے متعلق فائر بندی معاہدہ لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی جنگ پر لاگو نہیں ہوتا، تاہم سیزفائر ڈیل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس ڈیل میں لبنان بھی شامل ہے۔

 

جنگ بندی کے اعلان کے بعد لبنانی عوام میں پیدا ہونے والا عارضی سکون اس وقت خوف و ہراس میں بدل گیا، جب اسرائیلی فوج نے موجودہ جنگ کی اپنی سب سے بڑی مربوط مسلح کارروائی کرتے ہوئے بیروت، جنوبی لبنان اور مشرقی وادی بیقا میں حزب اللہ کے 100 سے زائد اہداف کو صرف 10 منٹ کے اندر اندر نشانہ بنایا۔

 

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے ’بدھ کے روز لبنان کے گنجان آباد علاقوں میں ہونے والی تباہ کن حملوں اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں اور نقصان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔‘

 

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ’بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔‘

 

لبنان کے ساحلی دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے، جہاں جنگ سے بے گھر ہونے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے پناہ لے رکھی ہے۔

 

دھماکوں کی آوازوں نے مصروف سڑکوں پر ٹریفک کے شور کو دبا دیا، جبکہ ایمبولینسیں آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آئے ہوئے مقامات کی جانب دوڑتی رہیں۔ متعدد رہائشی عمارتیں بھی ان حملوں کی زد میں آ گئیں۔

 

اس سے قبل بدھ ہی کے روز فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران زور دے کر کہا تھا کہ لبنان بھی لازمی طور پر جنگ بندی ڈیل کا حصہ ہونا چاہیے اور عراق میں ایران نواز مسلح گروپوں کو بھی اس سیزفائر کے دائرہ کار میں شامل کیا جانا چاہیے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C