لندن میں فلسطین حامی مظاہرے پر پابندی، حکومت کی عوام کو شرکت نہ کرنے کی اپیل
👁️ 256 بار دیکھا گیا
لندن میں فلسطین حامی مظاہرے پر پابندی، حکومت کی عوام کو شرکت نہ کرنے کی اپیل
لندن (ڈیلی اردو / گارڈین) — برطانیہ کے وزیر اعظم کے دفتر ’’ڈاؤننگ اسٹریٹ‘‘ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ممنوعہ تنظیم "فلسطین ایکشن" کی حمایت میں ہونے والے احتجاج میں شرکت نہ کریں۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے دہشت گردی کے قوانین کی خلاف ورزی کی تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ "فلسطین ایکشن" کو برطانیہ میں دہشت گردی کے قوانین کے تحت کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، اور اسی فیصلے کے خلاف احتجاج کے طور پر اس ہفتے کے آخر میں ایک بڑا اجتماع "ڈیفینڈ آور جیوریز" (Defend Our Juries) نامی گروپ کی جانب سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے ترجمان نے کہا:
"برطانیہ میں کسی کالعدم گروہ کی حمایت کا کوئی عمل ہماری حمایت میں نہیں ہو سکتا۔ عدالت بھی اس تنظیم کی پابندی کو برقرار رکھنے کی تصدیق کر چکی ہے۔"
ترجمان نے مزید کہا:
"وزیر داخلہ پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ جو لوگ اس گروہ کی حمایت کرتے ہیں وہ شاید اس تنظیم کی اصل نوعیت سے آگاہ نہیں، لیکن عوام کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ یہ کوئی پرامن یا غیر تشدد پسند گروہ ہے۔"
ڈیفینڈ آور جیوریز نے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے پلے کارڈ اٹھائیں جن پر لکھا ہو:
"میں نسل کشی کی مخالفت کرتا ہوں، میں فلسطین ایکشن کی حمایت کرتا ہوں"
اس قسم کے بیانات کی وجہ سے ماضی میں بھی گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔
گروپ کا کہنا ہے کہ منگل کو فیصلہ کیا جائے گا کہ احتجاج جاری رکھا جائے یا نہیں، تاہم ان کے مطابق 500 سے زائد افراد شرکت کے لیے پُرعزم ہیں۔
ایک سیکیورٹی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا:
"اگر مظاہرین یہ سمجھتے ہیں کہ بڑی تعداد میں شرکت سے پولیس انہیں گرفتار نہیں کرے گی تو وہ غلط فہمی میں ہیں۔ انہیں گرفتار کیا جائے گا، چاہے ہمیں کوئی بھی طریقہ اپنانا پڑے۔"
میٹروپولیٹن پولیس (Met Police) نے اس مظاہرے سے متعلق معلومات حاصل کر لی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ مظاہرین کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہو گی، البتہ گرفتار ہونے والوں پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
ماضی میں بھی پولیس نے بڑے مظاہروں کے دوران لوگوں کو گرفتار کر کے ان کی شناخت اور پتہ نوٹ کر کے ضمانت پر رہا کیا تاکہ بعد میں قانونی کارروائی کی جا سکے۔ یہ طریقہ کار وائٹ ہال میں اینٹی امیگریشن مظاہروں اور ایکسٹنکشن ریبیلین جیسے احتجاجوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔
اسی دن ایک بڑا علیحدہ فلسطین نواز جلوس بھی متوقع ہے، جبکہ انسدادِ امیگریشن مظاہرے بھی منعقد ہونے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے پولیس کے وسائل شدید دباؤ میں آ سکتے ہیں۔
ڈیفینڈ آور جیوریز کے ترجمان نے اخبار ٹیلی گراف کی اس رپورٹ کی تردید کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ احتجاج کا مقصد پولیس اور عدالتی نظام کو مفلوج کرنا ہے۔ ترجمان نے کہا:
"ہم نے کوئی خفیہ سازش نہیں کی، اور یہ مظاہرہ فلسطین ایکشن کی جانب سے منظم نہیں کیا گیا۔ ہمارا تعارفی مواد کھلے عام ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔"
ترجمان نے مزید کہا:
"یہ درست ہے کہ پچھلے مظاہروں میں گرفتار ہونا ایک ’اعزاز‘ تصور کیا جانے لگا ہے۔ اگر پولیس سمجھ داری اور آئینی ذمہ داری کے تحت عمل کرے، تو نظام پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔"
میٹ پولیس چیف سر مارک راؤلی اس وقت دباؤ میں ہیں۔ ایک طرف اگر پولیس بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کرتی ہے تو فلسطین ایکشن کے حامی اس پر سخت گیر ہونے کا الزام لگائیں گے، اور اگر گرفتاریاں نہ ہوئیں تو دائیں بازو کے عناصر اسے پولیس کی کمزوری قرار دیں گے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ یہ ممکن ہے کہ مظاہرے کے دوران 500 سے زائد افراد کو گرفتار کرنا پولیس کے لیے عملی طور پر ممکن نہ ہو، خاص طور پر جب لندن بھر میں کل تقریباً 520 حراستی سیلز دستیاب ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میٹ پولیس کو یہ بھی مدنظر رکھنا ہو گا کہ گزشتہ ہفتے عدالت عالیہ نے فلسطین ایکشن کے شریک بانی کو وزیر داخلہ کے فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اجازت دے دی ہے۔
اگر عدالتی فیصلے میں تنظیم کی پابندی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تو میٹ پولیس کو نہ صرف مظاہرین کو رہا کرنا پڑے گا بلکہ ممکنہ طور پر ہزاروں افراد کو معاوضے بھی ادا کرنا ہوں گے۔
اس احتجاج کی طرز کے مظاہرے پہلے بھی ڈیری، ایڈنبرا اور دیگر شہروں میں ہوئے جہاں بعض پولیس فورسز نے دانشمندی سے گرفتاریوں سے گریز کیا۔
گروپ کے مطابق، یہ احتجاج اب باقاعدگی سے ہوتے رہیں گے اور بعض اراکین پارلیمنٹ سے بھی شرکت کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے، تاہم انہیں اس خدشے کے باعث شرکت سے روکا جا رہا ہے کہ کہیں ان کی پارلیمانی رکنیت معطل نہ کر دی جائے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ و گولہ بارود برآمد
23/October/2026 👁️ 37 بار دیکھا گیا
ایران ایٹم بم بنا کر اسرائیل پر حملہ کرنا چاہتا ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ؛ ایرانی حکومت کے خاتمے پر زور
23/October/2026 👁️ 50 بار دیکھا گیا
خضدار : گرڈ اسٹیشن کے قریب دہشتگردوں کی کارروائی ناکام، فائرنگ کے تبادلے کے بعد مشتبہ افراد گاڑی چھوڑ کر فرار
23/October/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
ریاض کی جانب داغا گیا حوثی باغیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا سعودی عرب کا دعویٰ، حملوں میں شدت
23/October/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ حملوں کا منصوبہ زیرِ غور، امریکی و اسرائیلی فوج نے انتخابات کے بعد کارروائی کی تیاری کرلی، رپورٹ
23/October/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
کرک : پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام، جوابی کارروائی میں 5 مبینہ دہشتگرد ہلاک
22/October/2026 👁️ 111 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26393 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15627 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11926 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9280 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7539 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5500 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C