لکسمبرگ میں سیاسی پناہ کی مشترکہ پالیسی پر یورپی یونین کا اہم اجلاس
👁️ 170 بار دیکھا گیا
لکسمبرگ میں سیاسی پناہ کی مشترکہ پالیسی پر یورپی یونین کا اہم اجلاس
لکسمبرگ سٹی (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/ڈی پی اے) بروز جمعرات لکسمبرگ میں یورپی یونین کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس کا مقصد سیاسی پناہ کی مشترکہ پالیسی پر طویل عرصے سے جاری تنازعہ کا حل تلاش کرنا تھا۔
یورپی بلاک کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کی بات چیت میں یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر سیاسی پناہ کے نئے تیز رفتار طریقہ کار کے بارے میں صلاح و مشورے کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔
“We can only deal with the migration situation together, as an entire EU, not as a nation state. I am fighting for a ???????? of open borders – and also to keep families with small children out of the border procedure”- @BMI_Bund Minister @NancyFaeser at #JHA Council in Luxembourg. pic.twitter.com/ZLkuKb7FIF
— Germany in the EU (@germanyintheeu) June 8, 2023
جرمنی کی وفاقی وزیر داخلہ نینسی فیزر پہلے ہی اس کی منظوری کا عندیہ دے چکی ہیں۔ تاہم جرمن حکومت میں شامل جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں سمیت دیگر ناقدین بھی سیاسی پناہ سے متعلق پالیسیوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے خوفزدہ ہیں۔ وہ وفاقی حکومت سے یورپی یونین کے اس منصوبے کو مسترد کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
The #JHA Council in #Luxembourg addressed the reform of the ????????migration system. FM #Asselborn stressed that the reforms must strike a balance between solidarity and responsibility: “The #EU must remain an area that honours its commitments under int’ law in terms of protection." pic.twitter.com/JakX2zAL56
— MFA Luxembourg ???????? (@MFA_Lu) June 8, 2023
سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ایک مشترکہ پالیسی سازی ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ ہے جو چند سالوں سے یورپی یونین کے رکن مممالک کے لیے بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
یعنی ” یورپ میں داخل ہونے والےپناہ کے متلاشی افراد کی ذمہ داری‘‘ کو کس طرح تمام ممبر ممالک پر برابر تقسیم کیا جائے۔
خاص طور سے نزاع کا باعث یہ موضوع بنا ہوا ہے کہ اجازت کے بغیر کسی خاص رکن ممبر ملک میں آنے والے مہاجرین کی ذمہ داری کن کن ممالک کو قبول کرنا چاہیے اور کیا دوسرے ممبران کو ان سے نمٹنے میں مدد کرنے کا پابند ہونا چاہے؟
لکسمبرگ میں ہونے والے اس اجلاس میں یورپی یونین کے مائیگریشنامور کے اعلیٰ اہلکار، ممبر ممالک کے داخلہ امور کی کمشنر یلوا ژوہانسن نے بھی شرکت کی۔
ژوہانسن کا کہنا تھا، ”یہ ایک غیر معمولی اہم دن ہے۔ ایک ایسے مسئلے کے حل کے لیے جو یورپ کے لیے ”ایک میراتھن‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا،” ہمارے پاس شاید 100 میٹر فاصلہ باقی ہے۔ یعنی ہم اس سنگین مسئلے کے حل کے بہت قریب ہیں۔‘‘
ژوہانسن کے بقول، ”آج ایک معاہدہ کرنا ہے اور میں یورپی یونین کے رکن ممالک سے امید کرتی ہوں کہ وہ ان چند میٹر کے فاصلے کو طے کرتے ہوئے ایک معاہدے پر پہنچ کر اس پر حتمی طور پر اتفاق کر لیں گے۔‘‘
کمشنر یلوا ژوہانسن نے مزید کہا، ”اگر ہم متحد نہ ہوسکے تو ہم سب ہی شکست خوردہ ہوں گے۔‘‘
یورپ کے موجودہ قوانین کے تحت تارکین وطن سیاسی پناہ کے لیے درخواست ورپی یونین کے اسی رکن ملک میں دے سکتے ہیں، جہاں وہ پہلی مرتبہ پہنچتے ہیں۔ انہی ممالک پر لازم ہے کہ وہ تارکین وطن کا انٹرویو کریں اور ان کی اسکریننگ کریں اور ان لوگوں کی درخواستوں پر کارروائی کریں۔
لیکن یونان، اٹلی اور مالٹا اپنے اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ پناہ کے متلاشی یا مہاجرین کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اور اسے سنبھالنے کا بوجھ بھی بہت مشکل اور بھاری ہے۔ اس قانون کے بعد ایک اور قانون آیا جو کوٹہ سسٹم کو ممالک پر مسلط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔ اس قانون کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور آخر کار اسے ترک کر دیا گیا۔
یورپی یونین کے ممالک اب اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ وہ جو مدد فراہم کرتے ہیں وہ لازمی ہونی چاہیے لیکن اس کی اشکال مختلف ہو سکتی ہیں، مثلاً مائیگریشن شیئرنگ اسکیم کی بجائے مالی اور دیگر مدد کی شکل میں۔
یورپی یونین کی صدارت اس وقت سویڈن کے پاس ہے۔ اس ملک نے ایک نیا نظام تجویز کیا ہے، جس کے تحت وہ ممالک جو تارکین وطن کو اپنے ملک کے اندر نہیں لینا چاہتے وہ امدادی رقم کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔
فی مہاجر تقریباً 20,000 یورو کی مد مذکورہ امدادی اسکیم کے اعداد و شمار کے طور پر میٹنگ کے رن اپ میں گردش کر رہے ہیں۔ یہ تاہم واضح نہیں ہے کہ آیا اسے قبول کیا جائے گا؟
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
یمن میں حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں درجنوں ہلاکتیں، باب المندب اور تعز میں شدید جھڑپیں
19/October/2026 👁️ 10 بار دیکھا گیا
حرمین شریفین کا تحفظ ناقابلِ سمجھوتہ، سعودی عرب کی دفاع کے لیے ہر ضروری مدد کریں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
19/October/2026 👁️ 44 بار دیکھا گیا
پشاور کے نواحی علاقے متنی میں مشترکہ آپریشن، ٹی ٹی پی کمانڈر سمیت 6 دہشت گرد ہلاک
19/October/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر میں دھماکا اور آگ، ایران کا سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
قلات میں کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک، گوادر میں آئی ای ڈی دھماکے سے میجر بھی ہلاک
19/October/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو کا نیا دفاعی منصوبہ، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلحہ سازی میں خود کفالت پر زور
19/October/2026 👁️ 116 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26386 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15623 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11917 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9271 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7528 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5480 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C