04/August/2025

ماسکو کنسرٹ ہال حملہ: 149 افراد کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت شروع، 19 افراد عدالت میں پیش

👁️ 309 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ماسکو کنسرٹ ہال حملہ: 149 افراد کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت شروع، 19 افراد عدالت میں پیش

ماسکو کنسرٹ ہال حملہ: 149 افراد کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت شروع، 19 افراد عدالت میں پیش

ماسکو (ڈیلی اردو / گاڑین) — روس کے دارالحکومت ماسکو میں کروکس سٹی ہال پر ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے کے مقدمے کی سماعت پیر کے روز شروع ہو گئی، جس میں چار مبینہ حملہ آوروں سمیت 19 افراد عدالت میں پیش ہوئے۔

یہ حملہ 22 مارچ 2024 کو ماسکو کے نواحی علاقے میں واقع کروکس سٹی ہال پر کیا گیا تھا، جس میں فائرنگ کے بعد عمارت کو آگ لگا دی گئی۔ اس ہولناک واقعے میں 149 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے تھے، جسے جدید روس کی بدترین دہشت گردی میں شمار کیا جا رہا ہے۔

مبینہ طور پر یہ چاروں مسلح حملہ آور تاجکستان سے تعلق رکھتے ہیں، جو سابق سوویت ریاست ہے۔ یہ افراد کئی دیگر ساتھیوں کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت ماسکو کی ایک فوجی عدالت میں بند کمرے میں کی جا رہی ہے، جبکہ مزید سماعتیں رواں ہفتے متوقع ہیں۔ تقریباً 30 حملے سے متاثرہ افراد بھی عدالت میں موجود تھے۔

روس کے سرکاری خبر رساں ادارے TASS کے مطابق، حملے کے دوران مرنے والے تقریباً نصف افراد گولیوں سے نہیں بلکہ دھوئیں اور کاربن مونو آکسائیڈ کے باعث دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔

اس حملے کی ذمہ داری جنوبی اور وسطی ایشیا میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش خراسان (ISIS-K) نے قبول کی تھی، تاہم روسی حکام نے – کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر – الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ "یوکرین کے مفاد" میں کیا گیا۔

حملے کے چار مرکزی ملزمان کی شناخت سعیداکرامی مراد علی راچابالیزودا، دالرجون باراتووچ مرزویف، شمس الدین فریدونی اور محمدصابر فیضوف کے ناموں سے ہوئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے روسی حکام پر شدید تنقید کی ہے کہ حملے کے بعد ملزمان کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ایک ملزم کو روسی فوجیوں کی حراست میں اذیت دی جاتی دکھایا گیا، جس میں اس کا کان کاٹ کر اسے زبردستی کھانے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق، یہ تمام ملزمان ماسکو اور اس کے اطراف کے علاقوں میں مقیم تھے اور تاجک مہاجرین کی اس بڑی تعداد کا حصہ تھے جو بہتر مستقبل کی تلاش میں روس آئے تھے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ انہیں داعش خراسان نے انتہاپسند بنا کر اس حملے کے لیے تیار کیا۔

واقعے کے بعد روس بھر میں تارکین وطن، بالخصوص وسطی ایشیائی باشندوں کے خلاف نفرت اور ریاستی سلوک میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پولیس چھاپوں، گرفتاریوں اور بعض صورتوں میں یوکرین جنگ میں زبردستی بھرتی کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اگرچہ دستیاب شواہد داعش خراسان کو اس حملے کا مکمل ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، روسی حکام مسلسل یوکرین اور مغربی ممالک کو بھی اس میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ روسی تحقیقاتی ادارے نے بیان دیا کہ:

"یہ غیر انسانی جرم یوکرین کی موجودہ قیادت کے مفاد میں منصوبہ بندی سے کیا گیا تاکہ روس میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔"

یوکرینی حکومت نے ان الزامات کو "بے بنیاد اور مضحکہ خیز" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی کے سربراہ الیگزینڈر بورتنیکوف نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ "امریکہ، برطانیہ اور یوکرین" اس حملے کے پیچھے ہوسکتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C