30/November/2019

مافیا کو ڈر ہے ہم کامیاب ہو گئے تو ان کی دکانیں بند ہوجائیں گی: وزیراعظم عمران خان

👁️ 51 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مافیا کو ڈر ہے ہم کامیاب ہو گئے تو ان کی دکانیں بند ہوجائیں گی: وزیراعظم عمران خان

مافیا کو ڈر ہے ہم کامیاب ہو گئے تو ان کی دکانیں بند ہوجائیں گی: وزیراعظم عمران خان

لاہور (ڈیلی اردو/ویب ڈیسک/اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مافیا کا مفاد پاکستان نہیں بلکہ اپنا پیسہ بچانا ہے اور انہیں ڈر ہے کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو ان کی دکانیں بند ہوجائیں گی۔

لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان سمیت دیگر حکومتی اراکین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ لاہور اور پشاور میں اسموگ کے بہت مسائل ہیں اور اسموگ اور ماحولیاتیی آلودگی کے خاتمے کے لیے جامع پلان ترتیب دیا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اسموگ سے پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور اس سے بزرگ اور بچے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، اسموگ جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے ماضی میں توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہوا میں زیادہ آلودگی گاڑیاں کرتی ہیں اور اس کے لیے ہم نے کچھ فیصلے کیے ہیں، ہم نے باہر سے آنے والے تیل کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب ہم یورو 2 کے بجائے یورو 4 درآمد کریں گے جبکہ 2020 کے آخر تک یہ یورو 5 پر چلایا جائے گا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں موجود آئل ریفائنریز کو وقت دیں گے کہ وہ 3 سال میں اپنے فیول کو صاف کریں، اگر وہ اس طرف نہیں جائیں گے تو پھر ہم انہیں بند کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکٹرک گاڑیوں کا فیصلہ کیا ہے اور کار کی صنعت سے متعلق بات چیت جاری ہے جبکہ ہم نے بسوں کو بھی ہائبرڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔فضائی آلودگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے لاہور میں 60 ہزار کینال زمین مختص کی ہے جہاں ہم جنگلات اگائیں گے تاکہ ہوا صاف ہو تاہم اس کے اثرات آہستہ آہستہ مرتب ہوں گے کیونکہ گزشتہ 20 برس میں جو قدم اٹھانے چاہیے تھے کسی نہیں اٹھائے حالانکہ اس پر تجاویز بھی آتی تھیں لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔

دوران گفتگو ایک صحافی کی جانب سے میڈیا بحران پر سوال کیا گیا جس پر عمران خان نے کہا کہ آج کل کے دن مشکل ہیں اور پاکستان اس سے نکل رہا ہے اور سب سے مشکل وقت نکل گیا ہے، ہمارا روپیہ ٹھیک ہوگیا، اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آرہی ہے، سرمایہ کاری آرہی ہے اور یہ آگے بڑھ رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو بھی میڈیا مالکان اپنے کارکنان کو وقت پر تنخواہ نہیں دیتے ہیں اس کی تحقیقات کی جائیں کیونکہ اس وقت کوئی کرائسز نہیں ہے اور نہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ تنخواہ نہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جب ملک اٹھنے لگا تو پہلے واردات کی، فضل الرحمٰن اسلام آباد فتح کرنے آرہا ہے، وہ ڈیزل کے پرمٹ فتح کرنے اسلام آباد آئے تھا سب اس کے ساتھ اکٹھے ہوئے لیکن ان کو پتہ نہیں تھا کیوں اکٹھے ہورہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ مافیا کو ڈر لگا ہوا ہے کہ وہ 30 سال سے اس ملک میں حلوہ کھا رہے تھے لیکن اب ان کو یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ اگر یہ کامیاب ہوگئے تو ہماری دکانیں بھی بند اور ہمارے پیسے بھی پکڑے جائیں گے، اس لیے پوری سازشیں ہیں، ملک خطرے میں ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اصلاحات سب سے زیادہ ہوئی ہیں، کسی ایونٹ کے دوران سب کو چیلنج کر سکتے ہیں اور بتا سکتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شریف آدمی ہیں، ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

صوبے میں تقرر و تبادلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ہم نے تین ہفتے محنت کی، بہترین ٹیم پنجاب میں لیکر آئے ہیں، صوبے میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی، پرانا اور نئے پنجاب میں آپ کو فرق نظر آئے گا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بڑے بڑے ڈاکٹرز تھے جن کا بورڈ بیٹھا تھا، اس بورڈز نے جو ہمیں رپورٹ دی جو ہم نے تفصیل سے پڑی اس میں لکھا تھا کہ مریض کسی بھی وقت انتقال کر سکتا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے ہم نے انسانی ہمدردی کو دیکھتے ہوئے نواز شریف کو بیرون ملک جانے دیا گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب سب کچھ سامنے آ جائے گا، عدالت نے بھی دو ہفتے کے اندر رپورٹ مانگی ہوئی ہیں، کچھ چھپنے والا نہیں، سب کچھ کلیئر ہو جائے گا۔اس سے قبل کسانوں کو زرعی قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا مستقبل بہت اچھا نظرآرہا ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے ہرشعبے میں جامع اقدامات اٹھائے ہیں۔ صوبے میں امن وامان اور گورننس کے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ ہماری معیشت تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں، پہلے اکانومی کومستحکم اوراب گروتھ ریٹ کی طرف زورلگائیں گے، چیف منسٹرکے اقدام پرانہیں داد دیتا ہوں، اچھے کاموں میں وزیراعلیٰ اپنا نام استعمال نہیں کرتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ترجیح معیشت کو بہترکرنا تھا، قرضوں کی قسطیں واپس کرنے کے لیے روپے کی قدر پر اثر پڑا، 3 سے 4 ماہ کے دوران اب روپے کی قدرمستحکم ہورہی ہے۔ پہلے جن ڈیٹا پر قرضے دیئے جاتے تھے وہ ٹھیک نہیں تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں کو سود کے بغیرقرضہ ملے گا۔ احساس پروگرام کے تحت ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چھوٹے کسانوں کے لیے قرضہ انقلاب ہے،معاہدے سے زرعی شعبے کوفائدہ پہنچے گا، احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ چین نے اپنے کسانوں کی بہت مدد کی۔ دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت کے حامل ملک نے 70 کروڑ سے زائد لوگوں کو غربت سے نکالا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست نے نچلے طبقے کی ذمہ داری لی۔ مہذب معاشروں میں امیراورغریب میں فرق نہیں ہوتا۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کیساتھ ملاقات کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، نئے پاکستان میں پرانے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہے، عوامی خدمت کو فوکس کیا جائے گا، پنجاب میں امن وامان اور گورننس کے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے، جہاں ایوان وزیراعلیٰ میں سردار عثمان بزدار نے وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں گورننس کی بہتری کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے کی صورتحال پر وزیراعظم کو اعتماد میں لیا، پنجاب میں انتظامی تبدیلیوں سے متعلق مشاورت بھی ہوئی۔

نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی، نئے آئی جی پنجاب نے وزیر اعظم کو پولیس رویے میں بہتری کیلئے اپنے ویژن اور صوبے میں امن و امان کی بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے آئی جی کو وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غریب آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں، اپنے دور حکومت میں افسران کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد کیا ہے، غریب کو طاقتور کے خلاف تحفظ فراہم کریں گے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C