17/December/2019

مسلم ممالک کا ابھرتا نیا بلاک…! (ساجد خان)

👁️ 163 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مسلم ممالک کا ابھرتا نیا بلاک…! (ساجد خان)

مسلم ممالک کا ابھرتا نیا بلاک…! (ساجد خان)

ایران میں اسلامی انقلاب آنے کے بعد مسلم امہ خصوصاً مشرق وسطیٰ کے ممالک واضح طور پر تقسیم ہوتی نظر آئی۔

ایران میں انقلاب گو کہ اس کا داخلی معاملہ تھا مگر اس کو ہر عرب ملک نے اپنے لئے خطرہ محسوس کیا۔

یہ اختلاف مذہبی بنیادوں پر نہیں تھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاہ ایران جو کہ بذات خود شیعہ مسلک سے تعلق رکھتا تھا، عرب حکمرانوں کو اگر کسی فرقہ سے مسئلہ ہوتا تو اس سے دوستی نا رکھتے اور نا ہی شاہ ایران کے عرب ممالک کے دوروں پر شہزادے ناچ ناچ کر اس کا استقبال کرتے نظر آتے۔

اسلامی انقلاب سے دو بڑے اختلاف تھے، اول یہ کہ وہ امریکہ مخالف تھا اور دوم یہ کہ ایران میں جمہوریت بحال ہونے سے عرب حکمرانوں کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ یہ تحریک عرب قوم میں بھی پذیرائی حاصل کر لے گی، جس سے ان کے اقتدار پر برا اثر پڑ سکتا تھا اور اس خوف میں کچھ حد تک حقیقت بھی تھی کیونکہ ایران انقلاب سے جہاں عام عرب افراد متاثر ہوئے، وہیں مضبوط جماعت الاخوان المسلمون بھی کافی متاثر نظر آئی اور اس جماعت نے ایرانی طرز پر نا صرف تحریک شروع کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں بلکہ ایران کے ساتھ قریبی تعلقات بھی استوار کرنا شروع کر دیئے۔
یہ بات عرب حکمرانوں کے لئے سخت ناقابل قبول تھی لہذا انہوں نے دونوں کے خلاف سخت اقدامات شروع کر دیئے۔

اخوان المسلمون سے نبٹنا قدرے آسان تھا کیونکہ وہ ان کی حدود میں تھے مگر ایران سے زیادہ خطرہ تھا کیونکہ عرب حکمران اس سے نا ہی جنگ کرنے کے قابل تھے اور نا ہی اسلامی انقلاب کو براہ راست روک سکتے تھے۔

ایران اور اسلامی انقلاب کو روکنے اور عرب قوم کو ایران سے دور رکھنے کے لئے عرب حکمرانوں کے پاس کوئی موثر منصوبہ بندی نہیں تھی، سوائے ایران کی دو کمزوریوں کے، اول یہ کہ ایران کے خلاف مذہب کارڈ استعمال کیا جائے اور دوم یہ کہ عرب قوم میں فارسی قوم کے خلاف نفرت پیدا کی جائے۔

اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سب سے پہلے صدام حسین کو استعمال کیا گیا اور اسے سنی اور عرب قوم کے ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا تاکہ وہ ایران پر حملہ کرے، جس سے دونوں مقاصد پورے ہو سکتے تھے یعنی عرب قوم اور فارسی قوم کی جنگ ہو اور مذہبی منافرت بھی پھیل سکتی تھی اور سب سے اہم یہ کہ ایران کو جنگ میں الجھا دیا جائے تاکہ وہ طویل عرصے تک نا ہی ترقی کر سکے اور نا ہی اس مسئلے سے باہر توجہ دے سکے۔

یہ منصوبہ کافی حد تک کامیاب رہا کیونکہ ایران کے رہبر روح اللہ خمینی کی قیادت میں ایران نے جو ملک میں انقلابی تبدیلیاں لانی تھیں یا انقلاب کے جو ثمرات ایرانی معاشرے اور ایران سے باہر پہنچنے تھے، وہ سنہری وقت صرف جنگ کرنے میں ہی گزر گیا لیکن ایران اس سب کے باوجود مشرق وسطیٰ میں ایک طاقت بن کر ابھرا۔

دوسری طرف ایران کو بھی اپنی ان دو کمزوریوں کا بخوبی احساس تھا اور یہ ایسی کمزوریاں تھیں جن کو دور بھی نہیں کیا جا سکتا لہذا ان کمزوریوں کا تدارک کرنے کے لئے ایران نے عرب خطے میں اپنے دوست ڈھونڈنا شروع کئے اور پھر اسے مسلم امہ کا ایک ایسا اہم مسئلہ نظر آیا جسے مکمل طور پر نظرانداز کیا جا چکا تھا اور اس مسئلہ پر آواز اٹھانے سے ایران کی دونوں کمزوریاں چھپ سکتی تھیں۔

وہ مسئلہ فلسطین تھا جو عام مسلمانوں میں تو اہمیت قائم رکھے ہوئے تھا مگر حکمران اسے بھول چکے تھے۔ اس لئے جوں ہی اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر کے جنوبی لبنان پر قبضہ کیا تو ایران نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لبنانی قوم کو اسرائیل سے مقابلہ کرنے کی تربیت دینا شروع کی۔
یہ ایران کی خوش قسمتی تھی کہ جنوبی لبنان کی اکثریت اہل تشیع تھی، اس لئے ان کو اعتماد میں لینا زیادہ آسان تھا، دوسری طرف ایران نے فلسطین میں بھی اپنے قدم جمانا شروع کئے اور اس کے لئے ایران کو حماس نے خوش آمدید کہا، اب ایران کا خواب پورا ہو چکا تھا کہ عرب قوم میں تعلقات بھی قائم ہو گئے اور فلسطین جو کہ مکمل طور پر سنی ریاست تھی، اس کے لئے تحریک چلانے سے شیعہ سنی کا مذہب کارڈ بھی کافی حد تک غیر موثر ہو چکا تھا۔

عرب حکمرانوں کے پاس تیل کی بے انتہا دولت کے ساتھ ساتھ امریکہ کا ساتھ تو تھا مگر عالمی سطح پر ایران کی سیاست کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے، جس سے زچ ہو کر عرب حکمرانوں نے پوری دنیا میں شیعہ مخالف جیسے خطرناک منصوبے کا آغاز کرتے ہوئے پانی کی طرح پیسہ بہانا شروع کر دیا۔

ایک اندازے کے مطابق سعودی اتحاد نے جتنا پیسہ شیعہ مخالف منصوبے پر خرچ کیا، وہ کئی ممالک کے سالانہ بجٹ سے کہیں زیادہ تھا۔

ایک وقت پر ایران دشمنوں میں گھر چکا تھا۔
ایک سرحد پر طالبان تو دوسری سرحد پر صدام حسین جیسا دشمن تھا جبکہ پاکستان بھی عرب حکمرانوں کے زیر اثر تھا لیکن عرب حکمرانوں کی اپنی غلطیوں نے ایران کے لئے آسانیاں پیدا کرنا شروع کر دیں۔

پہلے افغانستان سے طالبان کی حکومت ختم کی گئی تو کچھ ہی عرصے بعد صدام حسین کی حکومت ختم کروانے کے لئے امریکہ کو ہر ممکن مدد کی۔

ایران نے ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان اور عراق میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کر دیا اور پھر شام اور یمن میں بھی اپنا آپ منوانے کی کوشش کرتا چلا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ ایران نے افریقہ اور لاطینی امریکہ میں بھی اچھے دوست بنا لئے، آج جن ممالک میں سربراہان کے خلاف امریکی انقلاب زور و شور سے جاری ہے، وہ سب ممالک سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کے دور حکومت میں ایرانی اتحاد میں شامل ہوئے تھے۔

مشرق وسطیٰ میں عرب انقلاب سے بھی جہاں عرب اتحاد کو سخت نقصان ہوا وہیں ایران نے اس کا فائدہ اٹھایا اور یوں جو آگ ایران کی سرحدوں پر لگائی گئی تھی، ایران نے بہترین حکمت عملی سے وہی آگ سعودی عرب کی سرحدوں پر منتقل کر دی۔

اس سب کے باوجود سب اچھا چل رہا تھا کہ عرب اتحاد کے سربراہ ملک سعودی عرب میں محمد بن سلیمان نے اقتدار سنبھالا، نا تجربہ کاری اور جذباتی طبیعت کے مالک اس سعودی حکمران نے وہ غلطیاں کیں، جن کا ازالہ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ امریکہ بہادر کی سربراہی ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں میں آ گئی۔

امریکی انتخابات کے دوران عرب حکمرانوں نے ہیری کلنٹن کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کو سپورٹ کر کے تاریخی غلطی کی، ان کا ماننا تھا کہ ٹرمپ ان کے مفادات کا زیادہ بہتر طریقے سے دفاع کرے گا کیونکہ وہ اکھڑ مزاج کے ساتھ ساتھ لالچی طبیعت کا مالک بھی تھا اور اس کے لئے عرب حکمرانوں کے پاس دولت کے انبار تھے لیکن عالمی سپر پاور امریکہ کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی سپر پاور سعودی عرب پر بھی بیوقوف اور اکھڑ مزاج حکمرانوں کو اقتدار حاصل ہوا تو حالات ڈرامائی انداز میں تبدیل ہونا شروع ہو گئے۔

محمد بن سلیمان نے جہاں صحافی جمال خاشگی کو ترکی میں سعودی قونصلیٹ میں قتل کروانے کی بیوقوفانہ حرکت کی، وہیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک اختیار کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے ترکی ناراض ہوا اور پھر قطر جیسا اتحادی بھی مخالف بن گیا جبکہ کویت اور عمان جیسے ممالک بھی سعودی پالیسیوں سے نالاں نظر آئے۔

سعودی عرب کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے کبھی بھی خود جنگ نہیں کی تھی اور جہاں ضرورت پڑتی تھی وہاں پراکسی کا سہارا لیا جاتا تھا، اس معاملے میں بھی سعودی عرب کافی حد تک امیر تھا کہ اسے سیاسی مقاصد پر جہاد شروع کرنے کے لئے مجاہدین کی کثیر تعداد میسر تھی۔

شام اور عراق میں داعش اور دوسری بیشتر دہشتگرد تنظیموں کو سعودی عرب کی طرف سے کسی نا کسی طریقے سے حمایت حاصل تھی لیکن پہلی مرتبہ سعودی عرب کو خود اپنا لوہا منوانے کا شوق ہوا اور اسی شوق میں یمن جیسے غریب ترین پڑوسی عرب ملک پر یہ سوچ کر چڑھائی کر دی کہ اگلے چند ہفتوں میں وہ نا صرف یمنی دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیں گے بلکہ حوثی ملیشیا کو بھی ختم کر دیں گے، جس سے دشمن ممالک پر ہیبت طاری ہو جائے گی لیکن یہ خواہش طویل سے طویل تر ہوتی گئی اور اب جبکہ میں جنگ کو پانچ سال ہونے کو ہیں، سعودی عرب کو اس جنگ سے نکلنا ہی مشکل ہو رہا ہے حالانکہ اس جنگ میں دنیا بھر سے کراۓ کے فوجی دھکیلے گئے۔

اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ سعودی عرب کا جو خوف اور طاقتور ملک کا امیج تھا وہ زائل ہو گیا اور اب سعودی عرب ایک نہایت کمزور ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جو اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے بھی دوسروں کا محتاج ہے۔
شہزادہ محمد بن سلیمان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیوقوفانہ اتحاد نے دونوں ممالک کی رہی سہی عزت بھی گنوا دی۔

آج امریکہ کا یورپی سربراہان امریکہ کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں تو سعودی اتحاد بھی چار عرب ممالک کے اتحاد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

دوسری طرف ایران جو کبھی تنہا کھڑا تھا، آج عراق، لبنان، شام اور یمن میں مضبوط ہوتا نظر آ رہا ہے جبکہ قطر جو کبھی سعودی اتحاد میں تھا، آج ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور ترکی کے ساتھ بہت سے سیاسی اختلافات ہونے کے باوجود ترکی ایران کو سعودی عرب پر ترجیح دے رہا ہے۔

اب جبکہ مسلم امہ میں ایک مضبوط بلاک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے تو فطری عمل ہے کہ اس خلاء کو پر کرنے کے لئے کوئی اور ملک اپنی قسمت آزما سکتا ہے اور یہی کچھ ہوتا نظر آ رہا ہے۔
ترکی اس قیادت کا خواہش مند تو تھا ہی اب اس میدان میں ملائیشیا بھی اترنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

اس کے لئے کوالالمپور میں باقاعدہ اسلامی ممالک کے سربراہان کی کانفرنس بھی ہونے جا رہی ہے جس میں پاکستان کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

عرب حکمرانوں کو اس کانفرنس سے جہاں ان کی مناپلی ختم ہونے کا خوف ہے وہیں مسلم امہ کی قیادت غیر عرب ممالک کے پاس جانا بھی گوارا نہیں ہے لہذا انہوں نے اس کوشش کے آغاز سے ہی اسے ناکام بنانے کا تہہ کر لیا گیا ہے اور اس کی ابتداء ہمیشہ کی طرح پاکستان سے ہی کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب اس بات پر سخت خفا ہے کہ پاکستان اس کانفرنس کا حصہ کیوں بننے جا رہا ہے، ناراضگی کی اطلاع ملتے ہی وزیراعظم پاکستان نے دو دن قبل سعودی عرب کا ہنگامی دورہ کیا ہے جہاں پر انہوں نے اپنی صفائی پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی حکمرانوں کو غصہ تھوکنے کی التجا کی ہے اور اب وزارت خارجہ نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ وزیراعظم جنہوں نے ملائیشیا کے دورے پر روانہ ہونا تھا وہ پروگرام کینسل کر دیا گیا ہے جبکہ وہ کوالالمپور میں منعقد ہونے والی اسلامی کانفرنس میں بھی شرکت نہیں کریں گے۔

پاکستان کا مسئلہ بہت سادہ سا ہے کہ وہ ملکی معیشت چلانے کے لئے عرب حکمرانوں کا محتاج ہے جبکہ پاکستانی سیاست میں بھی عرب حکمرانوں کا اہم کردار ہے اور کوئی حکمران ان کے فیصلوں کے خلاف نہیں جا سکتا ورنہ ان کا حشر بھی نوازشریف جیسا ہی ہو گا اور یہ بات عمران خان سے بہتر کوئی نہیں جانتا کیونکہ وہ خود اس سازش کا ایک مہرہ رہ چکے ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ چند دہائیوں میں جن حالات سے مقابلہ کیا ہے،قیادت چاہتی ہے کہ وہ ایک نیوٹرل اسلامی ملک کا کردار ادا کریں۔

کشمیر کے معاملے پر بھی جو عرب حکمرانوں نے رویہ اختیار کیا ہے، وہ پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ تھا۔

جب پاکستان ملکوں ملکوں حمایت کے لئے بھاگ دوڑ کر رہا تھا عین اسی وقت عرب ممالک میں ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا تھا جو کہ پاکستان کے لئے انتہائی تکلیف دہ بات تھی کہ اس کے دوست ممالک مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے اس کے دشمن کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔

پاکستان کو کشمیر کے مسئلہ پر مسلم ممالک کی حمایت کی ضرورت ہے جو کہ عرب اتحاد کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے لیکن پاکستان عرب اتحاد سے منہ بھی نہیں موڑ سکتا۔

عرب اتحاد گو کہ اب ایک بوڑھے شیر کی مانند ہے جو چنگھاڑ تو سکتا ہے مگر نقصان نہیں پہنچا سکتا مگر وہ جنہوں نے اس شیر کو طاقت میں دیکھ رکھا ہے، وہ آج بھی اس بوڑھے شیر کی صرف چنگھاڑ پر ہی لرز جاتے ہیں اور پاکستان بھی ان جیسوں میں ہی شامل ہے۔

کوالالمپور کانفرنس کس حد تک کامیاب ہوتی ہے،یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بات مسلم ہے کہ عرب اتحاد کے مقابلے میں ایک مضبوط بلاک بننے جا رہا ہے،جس کے پاس دولت بھی ہے اور طاقت بھی اور وہ عالمی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

نیا اسلامی بلاک جتنا بھی کمزور ہو گا کم از کم عرب بلاک سے پھر بھی بہتر کام کرے گا کیونکہ عرب حکمرانوں کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتے،انہیں عوام کا بھی خوف نہیں ہوتا بس اگر امریکہ خوش ہے تو وہ سالہا سال اقتدار کے مزے لے سکتے ہیں،اس لئے وہ جو بھی فیصلہ کرتے ہیں ذاتی مفادات یا ذاتی دشمنی کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں مگر نئے بلاک میں ایسا نہیں ہو گا کیونکہ ڈاکٹر مہاتیر محمد ہو یا طیب اردگان، انہوں نے ہر پانچ سال بعد عوام کے سامنے جواب دہ ہونا ہے،اس لئے نیا بلاک پرانے بلاک سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہو گا۔

پاکستان ایک دفعہ پھر خواہش ہونے کے باوجود اپنا مقام بنانے میں ناکام نظر آ رہا ہے کیونکہ نیا بلاک کہ جس میں ترکی، ملائیشیا، قطر اور ایران اگر اکٹھے چلنے پر رضامند ہو جاتے ہیں تو مستقبل میں یہ بلاک بہت کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے اور اگر پاکستان اس میں شامل ہو جاتا ہے تو ہمارے ملک کی اہمیت بڑھ سکتی ہے مگر ہم نے ہمیشہ ہی دوسروں کے مفادات کے لئے اپنا نقصان کرنے کو ہی ترجیح دی جاتی رہی ہے۔

ہماری قیادت میں جب تک صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرنے کی جرات پیدا نہیں ہو گی۔ ہماری خودمختار اور آزاد ریاست کا خواب یوں ہی بکھرتا رہے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C