04/October/2019

مقبوضہ کشمیر میں 2 ہزار 700 اجتماعی قبروں کا انکشاف

👁️ 80 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مقبوضہ کشمیر میں 2 ہزار 700 اجتماعی قبروں کا انکشاف

مقبوضہ کشمیر میں 2 ہزار 700 اجتماعی قبروں کا انکشاف

سری نگر (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسی) انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کورٹ اور کشمیر میں عدالتِ انصاف (آئی پی ٹی کے) نامی  این جی او کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں کشمیر کے شمال میں 55 دیہات میں کی جانے والے کھدائی کے دوران  2 ہزار 700  قبریں  دریافت ہوئی ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم جاری ہیں اور اندازوں کے مطابق 70 ہزار سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو قتل کیا جا چکا ہے جب کہ  8000 افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔

 بھارتی فوج کی جارحیت کا ایک خوفناک پہلو یہ ہے بھارتی فورسز اپنی کارروائیوں کے دوران کشمیریوں کو شہید کرنے کے بعد بسا اوقات ان کی نعشیں ورثا کے سپرد کرنا بھی گوارا نہیں کرتے اور انہیں تجہیز و تکفین کے بغیر دفنا دیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کمیشن نے  ڈی این اے ٹیسٹوں، کاربن ڈیٹنگ اور دیگر جدید طریقوں کی مدد سے مدفون افراد کی شناخت طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی  انسانی حقوق کے محافظوں نے اطلاع دی ہے کہ جموں کشمیر کے شمال میں اجتماعی قبریں برآمد ہوئی ہیں جہاں کم از کم   2 ہزار 900 افراد کو  دفن کیا گیا ہے۔

دی ہندو اخبار کی رپورٹ کے مطابق، انٹر نیشنل ہیومن راٹس کورٹ اور کشمیر میں عدالتِ انصاف (آئی پی ٹی کے) نامی  این جی او کی جانب سے شائع کردہ  رپورٹ  میں  کشمیر کے شمال میں بانڈی پورہ، بارہ مولہ اور کپواڑہ  کے 55 دیہات میں  کی جانے والی کھدائی کے دوران  2 ہزار 700  قبریں  دریافت ہوئی ہیں اور ان  قبروں میں کم از کم 2 ہزار 900 افراد  کی نعشوں تک رسائی حاصل  کرنے سے آگاہ کیا ہے۔  

اس این جی او نے ہندوستان کے قومی انسانی حقوق کمیشن اور جموں کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن نے تنظیم سے اس واقعے کی چھان بین کرنے میں مددگار ہوئے، اجتماعی قبروں کی تلاش پر مشتمل رپورٹ، جموں و کشمیر کی ریاستی انتظامیہ کے سابق وزیر اعظم عمر عبداللہ اور ہندوستانی حکومت کے متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا گیا ہے۔ آئی پی ٹی کے کی بانی آنگنا چیترجی  نے کہا ہے کہ  شناخت شدہ 2 ہزار 700 قبروں میں سے 2 ہزار 373 گمنام، 154 قبروں میں  2 لاشیں، 23 قبروں میں  3 سے 17 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے  5 اگست، 2019 کو  آئینی ترمیم کرتے ہوئے جموں و کشمیر  کی نصف صدی سے جاری  خود مختیاری  کو  آرٹیکل 370  کے ذریعے  ختم کردیا تھا  جس  سے  خطے کی خصوصی حیثیت کا خاتم ہونے کے ساتھ ساتھ  جمو ں و کشمیر کا الحاق  ہندوستان سے کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں اب تک 8000 افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔

 اسی طرح کشمیر کے مختلف علاقوں، پونچھ، راجوڑی، بارہ مولا، باندی پورہ اور کپواڑہ سے دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں کا معاملہ بھی جوں کا توں ہے۔ کشمیر کے انسانی حقوق کمیشن نے  ڈی این اے ٹیسٹوں، کاربن ڈیٹنگ اور دیگر جدید طریقوں کی مدد سے مدفون افراد کی شناخت طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق اب تک 7000 سے زائد بے شناخت اور اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں۔

فروری میں انسانی حقوق کے عالمی ایوارڈ یافتہ کارکن پرویز امروز کی سربراہی میں تنظیم والدین لاپتہ افراد کے وکلا کو اجتماعی قبروں کے مقامات پر جانے کی ممانعت کر دی گئی۔

جموں و کشمیر سول سوسائٹی اتحاد اور تنظیم برائے والدین لاپتہ افراد کی مشترکہ رپورٹ میں سن 2018 میں رونما ہونے والے حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے، جن کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں قتل، تشدد، جبری اغوا، تذلیل، ہراس، جنسی بدسلوکی، زنا بالجبر، غیر قانونی گرفتاریاں، مظاہرے، ماتم، ناکے، چھاپے، پولیس مقابلے اور جلا گھیرا زندگی کا روزمرہ بن چکا ہے۔ اس دوران آزادی کا مطالبہ کرنے والے کارکن اور انہیں کچلنے کے لیے موجود سات لاکھ ریاستی اہلکار گویا پتھرائے گئے ہیں۔

قوم پرستی اور مذہب پرستی کے نام پر مفاد پرستی کے چلن نے جنوبی ایشیا کو دنیا کا خطرناک ترین خطہ بنا ڈالا ہے۔

رپورٹ میں سن 2018 کو اس دہائی کا مہلک ترین برس قرار دیا گیا ہے۔ اس برس 586 افراد قتل ہوئے جن میں 160 سویلین،267 مسلح باغی اور بھارت کی مسلح افواج اور پولیس کے159 اہلکار شامل تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C