مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن: یو این ایچ سی آر کے سربراہ کی پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات
👁️ 158 بار دیکھا گیا
مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن: یو این ایچ سی آر کے سربراہ کی پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات
اسلام آباد (ڈیلی اردو/اے پی/ڈی پی اے) اس ملاقات میں گزشتہ سال اسلام آباد میں مہاجرین کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارنے والے افغان مہاجرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان طویل عرصے سے ایک اندازے کے مطابق 1.7 ملین افغانوں کی میزبانی کرتا رہا ہے، جن میں سے زیادہ تر 1979- 1989 کے سوویت قبضے کے دوران افغانستان سے نکل کر پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
2021 میں افغانستان مییں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پانچ لاکھ سے زائد افراد افغانستان چھوڑ گئے تھے، جن میں سے ہزاروں امریکہ اور دیگر ممالک میں جانے کے لیے پاکستان میں انتظار کرتے رہے تھے۔ گزشتہ برس نومبر میں بڑے پیمانے پر پابندیوں کے آغاز کے بعد سے، ایک اندازے کے مطابق چھ لاکھ افغان وطن واپس جا چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی اتوار سات جولائی کو پاکستان پہنچے تھے، جس کے بعد انہوں نے افغان مہاجرین سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا: ”میں نے افغان پناہ گزینوں کے ساتھ وقت گزارا، جن کی وسائل ان کی طاقت اور پاکستان کی طویل مہمان نوازی کا ثبوت ہیں۔‘‘ گرینڈی نے مزید کہا کہ ان کے دورے کا مقصد ”اس بات پر تبادلہ خیال کرنا ہے کہ ہم بڑھتے ہوئے چیلنجوں کے درمیان دونوں کی بہترین مدد کیسے کر سکتے ہیں۔‘‘
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ کو بتایا کہ متعدد چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے ساتھ ”مثالی احترام اور وقار‘‘ کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔ نواز شریف نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ”اتنی بڑی پناہ گزین آبادی کی میزبانی کرتے ہوئے پاکستان کے کندھوں پر پڑنے والے بوجھ کو تسلیم کرے اور اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔‘‘
پاکستانی وزیر اعظم نے افغان پناہ گزینوں کو ”محفوظ اور باوقار‘‘ طریقے سے وطن واپس بھیجنے کے لیے یو این ایچ سی آر سے مدد کی بھی درخواست کی۔
گرینڈی نے آج منگل کے روز افغانستان کے لیے ملک کے خصوصی نمائندے آصف درانی سے بھی ملاقات کی۔ درانی نے ایکس پر لکھا کہ دونوں فریقوں نے ”افغان پناہ گزینوں کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا، جس میں ان کی واپسی بھی شامل ہے۔‘‘
اس سے قبل پاکستان نے کہا تھا کہ کریک ڈاؤن میں ان لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں، چاہے وہ کسی بھی قومیت کے ہوں۔
اقوام متحدہ کے ادارے پاکستان سے افغانوں کی جبری بے دخلی کی مذمت کرتے رہے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ اس سے خاندانوں کی علیحدگی اور کم عمر بچوں کی ملک بدری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔
کریک ڈاؤن کے بعد سے افغانستان میں طالبان کی حکومت نے کہا ہے کہ اس نے وطن واپس آنے والے شہریوں سے نمٹنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا ہے۔ ساتھ ہی اسلام آباد کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
پاکستان میں حالیہ چند ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے، جن میں سے زیادہ تر کا الزام پاکستانی طالبان پر لگایا جاتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان افغان طالبان سے الگ ایک عسکریت پسند گروپ ہے لیکن افغان کا قریبی اتحادی ہے۔
پاکستان میں افغان پناہ گزین کے مسائل
واضح رہے کہ یو این ایچ سی آر نے غیر دستاویزی غیر ملکیوں کے ملک چھوڑنے کے پاکستانی اعلان پر تشویش کا اظہار کیا تھا، کیونکہ اس پالیسی سے رجسٹرڈ مہاجرین اور دیگر قانونی دستاویزات کے حامل افغانوں پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔
گزشتہ برس اکتوبر میں جب پاکستان نے بغیر دستاویز والے غیر قانونی افغان باشندوں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا، تو اس وقت افغانستان کے طالبان حکمرانوں نے بھی اس پر ناراضی کا اظہار کیا تھا اور آپریشن کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایک اندازے کے مطابق یکم نومبر 2023 سے اب تک تقریباً پانچ لاکھ افغان باشندے، جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں تھیں، کو افغانستان واپس بھیجا گیا ہے۔
پاکستان میں افغان مہاجرین کے کمشنر عباس خان نے ان افواہوں کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان نے ان لوگوں کو واپس بھیجنا شروع کر دیا ہے، جن کے پاس افغان شہری کارڈ (اے سی سی) ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب بھی آٹھ لاکھ سے زیادہ ایسے افغان مہاجر موجود ہیں، جن کے پاس افغان شہری کارڈ (اے سی سی) ہے۔
پاکستان نے سن 2017 میں غیر دستاویزی افغانوں کو اے سی سی کارڈ جاری کیے تھے۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این ایچ سی آر کے اندازوں کے مطابق تقریباً 13 لاکھ ایسے رجسٹرڈ افغان ہیں، جن کے پاس ‘پروف آف رجسٹریشن کارڈ’ (پی او آر) ہیں۔
پاکستانی حکام کا اصرار ہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد سے تقریباً سات لاکھ افغان پاکستان پہنچے۔ ان میں سے بیشتر کسی تیسرے ملک میں آباد ہونے کے متمنی ہیں، تاہم اب تک تقریباً 75 ہزار ہی دوسرے ممالک منتقل ہو پائے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 249 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 296 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 607 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 529 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 218 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 325 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8963 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4813 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3574 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3476 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2567 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C