وادیٔ تیراہ بمباری: دھرنا ختم، متاثرہ خاندانوں کیلئے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان
👁️ 398 بار دیکھا گیا
وادیٔ تیراہ بمباری: دھرنا ختم، متاثرہ خاندانوں کیلئے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان
پشاور (نمائندگان ڈیلی اردو) شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری نے شاڈالہ اکاخیل گاؤں کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ اس فضائی کارروائی میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 26 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق کئی مکانات مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئے، جبکہ صبح فجر کے وقت لوگوں نے اعلان کیا کہ لاشیں گھروں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
مکانات سے اجتماعی لاشوں کی برآمدگی
مقامی سماجی کارکن محمد اسحاق نے بتایا کہ ایک ہی گھر سے 19 لاشیں نکالی گئیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ دوسرے گھر سے مزید دو لاشیں اور تیسرے گھر سے پانچ لاشیں برآمد ہوئیں۔ علاقے میں غم و غصہ اس حد تک بڑھ گیا کہ متاثرہ خاندانوں نے لاشوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا شروع کر دیا۔
دھرنا، مذاکرات اور حکومتی ردعمل
سانحے کے بعد تین روز تک ضلع خیبر میں دھرنا جاری رہا، جہاں مظاہرین عام شہریوں کی ہلاکتوں پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے۔ منگل کے روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، آئی جی ایف سی اور دیگر اعلیٰ حکام نے مظاہرین سے مذاکرات کیے، جس کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے باڑہ میں قبائلی عمائدین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ: “تیراہ کا سانحہ انتہائی افسوسناک ہے، عام شہریوں کی ہلاکت ناقابل قبول ہے۔”
انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے فی کس ایک، ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا اور شہری ہلاکتوں کو دہشت گردی قرار دینے کی شدید مذمت کی۔
عسکری حکام کی شمولیت اور معافی
سرکاری اور مقامی ذرائع کے مطابق کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی نارتھ شاہ کس فورٹ میں ایف سی یونٹ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شریک ہوئے، مگر عوامی توقعات کے برعکس وہ براہِ راست مظاہرین کے پاس نہ گئے۔ اس پر عوامی حلقوں میں یہ تاثر ابھرا کہ اہم سوالات اور مطالبات ایک بار پھر پس منظر میں چلے گئے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران آئی جی ایف سی نارتھ نے واقعے پر باقاعدہ معافی مانگی اور اعلان کیا کہ دو دن میں کور کمانڈر پشاور کے ساتھ وادی تیراہ میں جاری ملٹری آپریشن پر ایک اہم جرگہ منعقد ہوگا۔ تجویز یہ دی گئی کہ قبائلی نمائندوں کا ایک جرگہ تشکیل دیا جائے جو کور کمانڈر ہاؤس میں براہِ راست اعلیٰ عسکری حکام سے بات کرے۔ تاہم باڑہ سیاسی اتحاد نے اس تجویز پر فوری ردعمل دینے سے گریز کیا اور کہا کہ آئندہ کا لائحہ عمل احتجاجی پنڈال میں طے کیا جائے گا۔
صوبائی حکومت کا مؤقف
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پشاور ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ “فوجی کارروائیاں آئین کے تحت ان کا حق ہیں، صوبائی حکومت انہیں روک نہیں سکتی۔ مگر ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ کارروائیاں مسئلے کا حل نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے۔”
انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کارروائیوں میں بار بار عام شہری متاثر ہو رہے ہیں اور یہ "کولیٹرل ڈیمیج" ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو پشاور میں ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے میں بھی وہ اس مسئلے پر عوام کے سامنے بات کریں گے۔
انسانی حقوق کمیشن کی تشویش
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے وادی تیراہ واقعے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ: “ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں بار بار ناکام رہی ہے۔ اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔”
وادی تیراہ سانحہ: امداد اور ذمہ داری کے سوالات
سنیئر صحافی مجید نظامی نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے جولائی میں وادی تیراہ میں مظاہرین پر ہونے والی فائرنگ کے متاثرین میں 9 کروڑ 50 لاکھ روپے تقسیم کیے تھے۔ اس وقت بھی مارٹر گولہ گرنے سے ایک معصوم بچی کی ہلاکت پر احتجاج کیا جا رہا تھا۔
نظامی کے مطابق اس احتجاج کے بعد ہونے والے جرگے میں بریگیڈیئر قاسم شریک تھے، جبکہ حالیہ امدادی رقم کی تقریب میں بریگیڈیئر آصف تشریف لائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج ایک بار پھر وادی تیراہ اور اس کے متاثرین زیر بحث ہیں، اس بار دیکھنا یہ ہے کہ آیا صرف تسلی دے کر امدادی رقوم تقسیم کی جائیں گی یا واقعی ذمہ داروں کا تعین اور شفاف تحقیقات بھی عمل میں لائی جائیں گی۔
پس منظر اور حالیہ تناظر
وادی تیراہ اور خیبر پختونخوا کے دیگر قبائلی علاقوں میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران شہری ہلاکتوں کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ جولائی میں تیراہ ہی میں ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک بچی ہلاکت ہوئی تھی، جس کے خلاف احتجاج کے دوران فائرنگ سے مزید پانچ افراد مارے گئے۔ اسی ماہ باجوڑ میں عسکری کارروائی کے دوران تین شہری ہلاک ہوئے تھے۔
یہ واقعات نہ صرف عوامی غم و غصے میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ فوج اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے فقدان کو بھی واضح کر رہے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بدخشاں میں طالبان کے کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ، اے ایف ایف کا 4 اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 140 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی بغیر پائلٹ آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ، 20 میزائل داغے جانے پر اردن کا بیان
09/September/2026 👁️ 118 بار دیکھا گیا
امریکا کا 5 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملوں کی ویڈیوز بھی جاری
09/September/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں 48 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ، اہم شاہراہوں پر آمدورفت بند
09/September/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
ایران : سیستان و بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن، 3 مبینہ دہشتگرد ہلاک، 9 گرفتار
08/September/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26284 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15530 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11818 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9116 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7405 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5125 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C