26/September/2025

وکلا برادری کا احتجاج، بلوچستان حکومت کا مؤقف متنازعہ: زبیر بلوچ کا معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا

👁️ 406 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
وکلا برادری کا احتجاج، بلوچستان حکومت کا مؤقف متنازعہ: زبیر بلوچ کا معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا

وکلا برادری کا احتجاج، بلوچستان حکومت کا مؤقف متنازعہ: زبیر بلوچ کا معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا

اسلام آباد/کوئٹہ (نماٙندگان ڈیلی اردو) بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دالبندین میں انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کے دوران وکیل اور سابق طالب علم رہنما زبیر بلوچ ایڈووکیٹ سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے۔

 

 ان کے بقول زبیر بلوچ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے اور گرفتاری دینے کے بجائے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنان اور وکلا تنظیموں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے۔

 

وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایئرفورس کے دو اہلکاروں کے قتل کے بعد زبیر بلوچ کی نگرانی کی جا رہی تھی اور 24 ستمبر کو گرفتاری کے لیے کارروائی کی گئی۔ ان کے مطابق لاؤڈ اسپیکروں سے سرینڈر کا موقع دینے کے باوجود مسلح افراد نے فورسز پر فائرنگ کی جس میں ایف سی کا ایک اہلکار زخمی ہوا، جبکہ جوابی کارروائی میں زبیر بلوچ اور ان کا ساتھی نثار احمد ہلاک ہوئے۔ 

 

وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ زبیر بلوچ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے لیے ریکروٹمنٹ اور تخریبی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

 

دوسری جانب انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ زبیر بلوچ ایک پرامن سیاسی کارکن اور جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم آواز تھے۔ ان کے بقول زبیر بلوچ کو ماضی میں بھی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ ریاستی ادارے زبیر بلوچ کو خاموش کرانا چاہتے تھے کیونکہ وہ لاپتہ افراد کے حق میں احتجاجی تحریک میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔

 

نیشنل پارٹی، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار اور دیگر تنظیموں نے زبیر بلوچ کی ہلاکت کو ماورائے عدالت قرار دیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ نیشنل پارٹی کے رہنما علی احمد بلوچ کے مطابق زبیر بلوچ ایک پرامن سیاسی کارکن تھے اور ان کے خلاف الزامات قابل قبول نہیں۔ بی ایس او پجار کے چیئرمین بوہیر بلوچ نے کہا کہ زبیر بلوچ ہمیشہ آئینی اور قانونی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔

 

واقعے کے خلاف جمعرات کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور مستونگ کی عدالت میں سیاہ پرچم لہرایا گیا۔ بلوچستان بار کونسل کے رکن راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا۔

 

زبیر بلوچ کا تعلق ضلع مستونگ سے تھا اور وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے سابق چیئرمین بھی رہ چکے تھے۔ وہ گذشتہ ڈھائی سال سے وکالت کے شعبے سے وابستہ تھے اور حالیہ عرصے میں دالبندین میں مقیم تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C